مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "بمبئی کا بابو”

اس ہفتے کی فلم "بمبئی کا بابو”

ذوالفقار علی زلفی

لڑکا: (لڑکی کے بالوں میں پھول لگا کر) "پھول سے عورت کی سندرتا بڑھ جاتی ہے ” ـ
لڑکی: (پھول نکالتے ہوئے) "عورت اور بہن میں فرق ہوتا ہے” ـ
لڑکا: "بہن بھی عورت ہی ہوتی ہے”

کیا کوئی تصور کرسکتا ہے کسی ہندی فلم میں incest رومانس دکھایا جائے؟ ـ یقیناً ایسا تصور کرنا ناممکن ہے لیکن ہندی سینما کی تاریخ میں ایک ایسی فلم بھی موجود ہے جس میں ایک بھائی کو اپنی بہن سے عشق کرتے دکھایا گیا ہے ـ آج کے "ترقی یافتہ” دور کے برخلاف اس وقت اس پر کوئی ہنگامہ بھی نہ ہوا اور فلم بھی ہٹ قرار پائی ـ یہ فلم ہے 1960 کی "بمبئی کا بابو” ـ

"بمبئی کا بابو” بنیادی طور پر ایک تھرلر اور اینٹی رومانٹک فلم ہے ـ جس کے ہدایت کار تھرلر فلموں کے ماہر راج کھوسلہ ہیں ـ راج کھوسلہ نے بولڈ ترین فیصلہ کرکے فلم میں incest بھی ڈال دیا ـ میری ناقص معلومات کے مطابق اس سے قبل و بعد کسی بھی فلم میں اس موضوع کو نہیں چھوا گیا اور شاید مستقبل میں بھی ایسا ہونا ممکن نہیں ـ

بابو (دیوآنند) ایک چور ہے جس کے ہاتھوں اس کے ساتھی کا حادثاتی قتل ہوجاتا ہے ـ وہ پولیس سے بھاگتا دہلی کے قریب ایک گاؤں پہنچ جاتا ہے ـ سازشی حالات اسے ایک جاگیردار کے گھر پہنچا دیتے ہیں جس کا بیٹا بیس سال قبل پانچ سال کی عمر میں کھو گیا تھا ـ بابو بوڑھے والد (نزیر حسین) اور اندھی ماں (اچلا سچدیو) کے دل کی راحت بن جاتا ہے ـ وہ اس خاندان کا گمشدہ بیٹا بن کر ڈاکہ ڈالنے کے منصوبے سوچتا ہے ـ وہاں وہ اپنی چھوٹی اور خوبصورت بہن مایا (سچترا سین) پر بھی فریفتہ ہوجاتا ہے ـ

بابو کا مقصد گھر لوٹ کر فرار ہونا ہے مگر وہ بہن کے عشق میں الجھ کر اپنے مقصد سے ہٹ جاتا ہے ـ دوسری جانب بہن ، بھائی کی محبت پاش نظروں سے پریشان اسے راکھی کے بندھن میں باندھنے کا قصد کرتی ہے ـ بابو کا راکھی سے بدکنا مایا کی الجھنوں میں مزید اضافہ کردیتا ہے ـ مایا اپنے جسم پر بابو کی چھبتی ہوئی نظروں کے باعث نفسیاتی خلفشار کا شکار ہوجاتی ہے ـ مایا اسے بہن کا پیار دینا چاہتی ہے جبکہ بابو عورت کو پانے کی ترکیبیں لڑاتا ہے ـ اسی کشمکش کے ساتھ فلم ایک خوبصورت کلائمکس پر پہنچ کر اختتام پزیر ہوجاتی ہے ـ

"بمبئی کا بابو” غالباً دیو آنند کی واحد فلم ہے جس میں انہوں نے رومانٹک کے بجائے اینٹی رومانٹک کردار نبھایا ہے ـ یہ کردار ان کے لئے ایک نیا تجربہ تھا، اس کے باوجود انہوں نے متضاد کرداروں یعنی بھائی اور عاشق کے کرداروں کو بخوبی نبھایا ہے ـ منفی اور مثبت دونوں مقامات پر ان کی اداکاری میں سنجیدگی غالب ہے ـ

مایا کا کردار بنگال کی حسین ساحرہ اور جذبات نگاری کی ملکہ سچترا سین نے ادا کیا ہے ـ انہوں نے چہرے اور آنکھوں کے فنکارانہ استعمال سے اسکرین پلے کو زندہ رکھا ـ وہ صرف مکالموں کی ادائیگی میں مار کھاگئیں ـ بنگالی پسِ منظر کے باعث ان کے ہندی لہجے پر بنگالی رنگ نمایاں ہے ـ یہ کردار پہلے مدھو بالا کو دیا گیا تھا ، ان کی بیماری کی وجہ سے ناچار سچترا سین چنی گئیںـ سچترا نے بھرپور اداکاری کی ہے تاہم اگر ان کے لہجے کو درست کرلیا جاتا تو سونے پہ سہاگہ ہوجاتا ـ

معاون کرداروں میں نزیر حسین اور اچلا سچدیو کی اداکاری بھی خوب رہی ـ خلافِ توقع دھمل نے اس فلم میں بھونڈے مزاح کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے دیگر فلموں کی مناسبت سے شاہستہ انداز میں دیے گئے کردار میں رنگ بھرے ہیں ـ ہوسکتا ہے اس کی اہم ترین وجہ ہدایت کار راج کھوسلہ ہوں کیونکہ راج کھوسلہ صرف کرداروں سے کام ہی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے استاد گرودت کی مانند اداکاری سکھاتے بھی تھے ـ

"بمبئی کا بابو” امریکی ادیب او ہنری کے ایک افسانے سے ماخوذ ہے ـ اس افسانے کو فلمی اسکرپٹ میں اردو زبان کے ترقی پسند ادیب و فلمساز راجندر سنگھ بیدی نے ڈھالا ہے ـ بیدی نے افسانوی چابک دستی کا مظاہرہ کرکے اسکرین پلے کو ہر ممکن حد تک لچھے دار اور دلچسپ بنائے رکھا ہے ـ

فلم کی عکاسی پر بات کرنا گویا سورج کو دیا دکھانے کے مترادف ہوگا ـ سینما ٹو گرافر جل مستری کی عکاسی ہمیشہ کی طرح اس فلم میں بھی خوبصورتی کا مرقع رہی ـ انہوں نے رات کے سیکوینسز میں بڑی فنکاری سے بلیک شیڈز بھرے ہیں ـ بلیک شیڈز کی وجہ سے رات کے نظارے تاریک ہوکر بھی "تاریک” نہیں دکھتے ـ

ایس ڈی برمن نے اس فلم میں بھی موسیقی کے شائقین کو مایوس نہ کیا ـ مکیش کی آواز میں "چل ری سجنی اب کیا سوچیں” ایک کلاسیک ماسٹر پیس ہے ـ اس گیت کی پکچرائزیشن بھی بہت اچھی ہے خصوصاً سچترا سین کی جذبات نگاری دل موہ لینے پر قادر ہے ـ

Facebook Comments
(Visited 91 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔