مرکزی صفحہ / خصوصی حال / سال کا آخری سورج غروب ہونے سے قبل

سال کا آخری سورج غروب ہونے سے قبل

ظریف بلوچ

سال کا آخری سورج غروب ہونے میں چند منٹ باقی رہ گئے تھے۔ 2017 کا سورج کئی یادیں لیکر غروب ہو رہا تھا اور میں پسنی سے چند کلومیٹر دور ایک ساحلی علاقہ ”شمال بندن“ میں نیلی سمندر کی خوبصورت عکس کو کیمرے کی آنکھ سے قید کرنے میں ممصروف تھا۔ جہاں سمندر سے شکار کے بعد آنے والے مچھیرے اپنے کشتیوں کو ساحل کی طرف لے آرہے تھے ۔ شاید میری طرح ان ماہی گیروں کو بھی پتہ نہ تھا کہ کل کا سورج نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوگا اور آج رات دنیا بھر میں ہیپی نیو ائیر کے نام پر چند منٹ کے اندر اندر کروڑوں روپیے خاک میں ملادئیے جائیں گے۔


میں ماہی گیروں کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کی کوشش میں مناظر کی عکس بندی کرتا رہا اور ساحل کی خوبصورت مناظر مجھے اپنی طرف کھینچتے رہے۔سمندر کی بے رحم موجوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بعد ماہی گیروں کی اکثریت ساحل پر پہنچ چکے تھے۔ شکار کئے گئے مچھلیوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی جاری تھا اور سب اپنے اپنے کام میں مگن تھے۔کسی کو نہ اپنے مسقبل کی فکر تھی اور نہ ہی آنے والے چیلنجز کے بارے میں کوئی سوچ رہا تھا۔ اگر فکر تھی تو صرف ایک چیز کی۔ کہ آج نہ سہی کل وہ زیادہ جھینگے اور سیزن فش شکار کرے۔


ساحل پر چہل قدمی کرتے ہوئے مجھے ہر طرف سائیبریا سے نقل مکانی کرنے والے آبی پرندے نظر آئے. ان کی وافر مقدار میں موجودگی نے ساحل کی حسن کو مذید دلکش بنایا تھا۔

خوبصورت بیچ کا ایک خوبصورت منظر تھا جہاں سال کا آخری سورج ڈوب رہا تھا ۔ مچھیرے اس سے بےخبر اپنی کاموں میں مگن تھے ۔ یہ ساحل جیسے مقامی لوگ ”شمال بندن“ کے نام سے جانتے ہیں ۔ پسنی کے مقامی گاؤں چربندن سے چند کلومیٹر کے فاصلے ماہی گیروں کے لیے ایک محفوظ پوائنٹ ہے۔ یہاں جے ٹی تو نہیں ہے مگر ماہی گیر شکار کے بعد اپنے اسپیڈ بوٹ کو یہاں کے ساحل پر لاتے ہیں ۔ جہاں صبح سویرے واپس اپنے اپنی زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لئے سمندر کا رخ کرتے ہیں۔اور شام کو شکار کے بعد ساحل پر پہنچ کر شکار کئے گئے مچھلیوں کو فروخت کرتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔