مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / اجنبی شام! میں کہاں جاؤں؟

اجنبی شام! میں کہاں جاؤں؟

محمد خان داؤد

جب پرانا سورج نئے چاند کو الوداع کر کے دھرتی کے سینے میں جا رہا تھا، رات اپنے پر پھیلا رہی تھی، دن کا اُجالا غریب کی محبت کی طرح اپنے ہی دامن میں دفن ہو رہا تھا۔ اور رات ایسے نمودار ہو رہی تھی جیسے ملیر میں وہ بلڈر اچانک نمودار ہوگئے ہیں۔ جیسے پہاڑوں پر وہ جنگلی گھاس نمودار ہو جاتی ہے جسے بکریاں بھی نہیں کھاتیں۔ جب رات اپنے پر پھیلا چُکی تو بہت دور آکاش پر چاند اُداسی کا ماتم کرتا نظر آیا۔

اُس رات وہ چاند نہ تھا، وہ تو چاند کا عکس تھا۔ جو آکاش پہ ایسے پر چلا آیا تھا جیسے اُس رات ملیر کے وہ بچے جو رات بھر سو نہ سکے ، اپنی ماؤں کے سینوں سے چمٹے رہے۔ وہ چاند جو ملیر کی حالت دیکھ کر کب کا خود کشی کر چکا۔ بڑے پر اندھے چاند کو دیکھ کر ملاح بھی سمندر میں ایک دوسرے کا پتہ پوچھتے پھر رہے تھے۔ وہ رات نئے سال کی تھی؟! نہیں وہ رات پرانے چاند کی تھی۔ وہ رات نئے دن کے سحر کی تھی؟ نہیں وہ رات پرانی رُتوں میں ایک نئی رات کے اضافے کی تھی؟!

وہ کیا دن تھا؟ وہ کیا رات تھی؟!

کیا وہ لوگ ملیر کا احترام کر رہے تھے؟
نہیں پر ایسا نہیں تھا، وہ ملیر کے دامن کو ہی تنگ کر رہے تھے، ملیر کی دھرتی اُن کے پاس رہی پر ملیر کی روح کاٹھوڑ، گڈاپ، متارے، موکھی، اور فیضو گبول بن کر ایسے ملیر سے نکلی….

متارو سے لے کر، موکھی تک، کاٹھوڑ سے لے کر فیضو گبول تک، وہ نکلے نہیں پر اُن بلڈروں نے انہیں ملیر سے ایسے نکال باہر کیا ہے جیسے وہ اس دھرتی پر وہ گھاس ہوں جسے بکریاں بھی نہیں کھاتیں! اور ملیر کے سینے پر وہ دیوار ایسے ظاہر ہو رہی ہے جیسے اسرائیل نے اپنی بقا کی دیوار تعمیر کر رکھی ہے۔ پر اس کے باوجود وہ فیضو گبول صبح صبح اپنی اس دھرتی جیسی ماں کو دیکھنے جاتا ہے۔ جس کے گزر جانے کا انتظار وہ بحریہ ٹاؤن بھی کر رہا ہے، اوراُس کے بچے بھی!

اُس رات تو سمندر میں ماہی گیر اپنی دسیائیں ایسے بھول گئے تھے جیسے بڑے شہروں میں چھوٹے بچے اپنے گھروں کے پتے بھول جاتے ہیں اور اُن شہروں کے با رونق رستوں پر ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔

وہ چاند ایسا نہیں تھا جس کی روشنی میں محبت کی جائے اور پسینہ شبنم ہو کر دھرتی اور پھولوں کو گیلا کر جائے!
وہ چاند ایسا نہیں تھا جس کی روشنی عاشقوں کو دیوانہ کر جائے اور وہ صبح تک خمار میں رہیں!
وہ چاند ایسا نہیں تھا کہ جس کی روشنی میں مئے خوار خوب پئیں اپنی بھی اور پرائی بھی!
وہ چاند تو ایسا بھی نہیں تھا جس میں کوئی ملنگ کسی آستانے پر مُفت کی سُلفی ہی پی سکے!

وہ چاند ماتم کے دیس پر نکلا، وہ رُدالی تھا جو پوری رات یہ ڈھونڈتا رہا کہ آج اُسے کون بُلاتا ہے اور اُس سے نوحے سنتا ہے؟! اُس رات وہ چاند مہمان بنا تھا اُس ملیر کا جو اب بہت تیزی سے سُکڑتا جا رہا ہے۔ ایسے جیسے کراچی کی دھرتی چائنا کٹنگ کے نام پر سُکڑ گئی ہے۔

اُس رات وہ چاند نما عکس ملیر کے ساحلوں سے ہوتا وہاں آیا جہاں تھڈو ڈیم ہے۔ جہاں ملیر کے بارونق اور خوب صورت مُنہ پر بحریہ ٹاؤن نامی بھیڑیا موجود ہے۔ جو ملیر کی زمیں ایسے کھا جاتا ہے جیسے سانپ اپنے بچے۔ بہت ریسرچ کی گئی ہے پر ابھی تک اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ بحریہ کو کن ہاتھون نے دودھ پلایا، اور کیا وہ ہاتھ اپنے تھے یا پرائے؟ کیا بحریہ نے اُن ہاتھوں کو بھی ڈسا کہ نہیں؟!!

اُس رات ملیر کے دامن میں، جو اب ملیر کا دامن نہیں، اب تو ملیر کے عین دامن میں "دیوارِ برلن ” جیسی اک دیوار بن چُکی، دیوار کے اندر سمجھ کچھ موجود ہے۔ اور دیوار کے باہر کچھ بھی نہیں!

اُس رات جب ملیر کی مائیں سوئی ہوئی تھیں، اُداس دیے بُجھ چکے تھے۔ ماچس کی آخری تیلی بھی غریب کے دل کے جیسے جل چکی تھی، تو بحریہ ٹاؤن میں نئی تاریخ کو ویلکم کرنے کے لیے بہت سی آتش بازی کی گئی، جس سے ملیر کے ویرانے میں سوئی موکھی ڈر گئی، وہ متارے جاگ گئے جو سدا کی مئے پی کر سو رہے تھے، وہ مائیں خوف زدہ ہوگئیں جن کے دل بہت ہی معصوم اور نین بہت اداس رہتے ہیں۔ اُن کے وہ بچے ڈر گئے جو بہت معصوم ہوتے ہیں اور اتنی جلدی سو جاتے ہیں کہ اتنی جلدی تو ملیر کے آکاش پر وہ تارے بھی نہیں چمکتے جن کو دیکھ کر آکاش اچھا لگتا ہے۔

پر ان بھیڑیوں نے ان ماؤں کو ڈرایا، ان بچوں کو ڈرایا، موکھی اور متاروں کو ڈرایا، اور قانوں راؤ انوار کی شکل میں معصوم لوگوں کو ڈھونڈتا رہا اور تلاش کیے ہوئے لوگوں کو لنک روڈ پر گولیاں مارتا رہا!

ایسے میں وہ فیضو گبول کیا کرے جو بحریہ ٹاؤن کے لیے اک سر درد بن گیا ہے اور اپنی اولاد کے لیے سونے کی مرغی!

پر وہ فیضو گبول اس چاند سے نوحے سن رہا تھا جو وہ اپنی دردیلی آواز میں سُنا رہا تھا۔

وہ چاند ہیمنت کا نہیں تھا۔ وہ تو چاند بھی نہیں تھا، وہ تو کوئی اندھا فقیر تھا۔ وہ تو چاند کا کوئی عکس تھا۔۔۔

اگر وہ چاند ہوتا ،تو ملاح سمندر میں اپنوں کا پتا کیوں پوچھتے پھرتے!

اگر وہ چاند ہوتا ،تو شرم سے ڈوب جاتا!

وہ چاند نہیں تھا، بحریہ کی اس بے شرمی سے ڈرتے بچے دیکھر کر! فیضو گبول اُس اداس شام کو کہاں جاتا؟!

اپنے گلوں کو لے کر چروا ہے
سرحدی بستیوں میں جا پہنچے
دلِ ناکام! میں کہاں جاؤں؟
اجنبی شام! میں کہاں جاؤں؟

Facebook Comments
(Visited 18 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com