مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / انہیں چھوڑ دو، انہیں کوئی نہیں‌ جانتا!

انہیں چھوڑ دو، انہیں کوئی نہیں‌ جانتا!

محمد خان داؤد

جاتے جمہوری دور میں بلوچستان کی جمہوری حکومت ایسے رہی ہے، جیسے کہ ایک میاں کی دو بیویاں ہوں، اور وہ میاں کچھ عرصہ ایک بیوی کے ساتھ رہے، اور کچھ عرصہ دوسری بیوی کے ساتھ!

بیویاں دو پارٹیاں اور ان دوپارٹیاں کے دو افراد تھے، اور میاں وہ سیٹ جو وزارتِ عظمیٰ بلوچستان کی ہے۔ یہ وزارت اس وقت نواب ثنااللہ زہری کے پاس ہے۔ اس سے پہلے یہ وزارت ڈاکٹر مالک بلوچ کے پاس تھی۔ جو بلوچستان کا وزیر اعلیٰ بننے سے پہلے مٹی پر بیٹھ کر سب کوجالب سنایا کرتا تھا۔ پر جب بلوچستان کا وزیر بنا تو وہ جالب کو بھی بھول گیا، ان لوگوں کو بھی بھول گیا جن کے ساتھ وہ مٹی پہ بیٹھ کر جالب اور غالب کی باتیں کیا کرتا تھا اور غالب کا یہ شعر بھی بھول گیا جو ڈاکٹر صاحب کو از بر ہوا کرتا تھا کہ۔۔۔

دیپ جس کا محلات میں ہی جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصحلت کے پلے
ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا!

ڈاکٹر مالک کے بعد یہ وزارت نواب ثنااللہ زہری کے پاس پہنچی، ایسے جیسے موالی سُلفی کا دور چلاتے سُلفی کو اپنے دائرِہ کار میں رکھتے ہیں وہ ان کے پاس بھی ہوتی ہے اور نہیں بھی ہوتی۔ وہ رُکی بھی رہتی ہے اور چلتی بھی رہتی ہے۔ اس وقت یہ وزارتِ عظمیٰ کی سُلفی نواب کے ہاتھوں میں ہے۔ جس سے وہ زور کے کش لگاتا رہا ہے، اور بلوچستان اور اہلیانِ بلوچستان کے حصے میں بس اُس سُلفی کا زہریلا دھواں ہی آیا ہے۔

بلوچستان تو ڈاکٹر مالک کو بھی قبول نہیں کر رہا تھا۔ پر جیسا کہ اس ملک میں ہوتا ہوا آیا ہے کہ کوئی کسے قبول ہو یا نہ ہو پر جسے طاقت ور ہاتھ مسلط کرتے ہیں تو اسے قبول کیا پر برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ ڈاکٹر مالک کو مسلط کیا گیا تو بلوچستان نے اسے قبول کیا اور جب فرزانہ مجید اور ماما قدیر والے ان سے ملے تو کس نے باتیں سنیں ڈاکٹر مالک نے ان کی؟!!
یہاں تک کہ ڈاکٹر مالک کو ہی وہاں جانا پڑا جہاں سے وہ آیا تھا۔

اور اب اس جاتے جمہوری دور میں بلوچستان کے نصیب میں آیا نواب ثنااللہ زہری!!۔

سندھ اور بلوچستان کے باقی کاموں میں بھلے یکسانیت نہ ہو پر جو لوگ اسمبلی میں موجود ہیں وہ بالکل ایسے جیسے ہی ہیں۔ جیسے سندھ میں جتنے بھی لوگ اسمبلیوں میں موجود ہیں، اگر ان کو جانچتے ہیں تو وہ یا تو پیر، میر، پاگارا ہیں یا پھر وڈیرے، یہی حال بلوچستان کا ہے کہ اسمبلی میں یا تو سردار ہو گا یا یا پھر نواب!

نواب ثنااللہ زہری کا بلوچستان پر یہ احسان ہے کہ وہ خضدار میں پیدا ہوئے، اور انہیں اتنی عقل آ ہی گئی کہ وہ سیاست میں شامل ہو جائیں!
ارسطو کا ماننا ہے کہ، سیاست میں آنے سے انسان کچھ نہیں گنواتا!

پر کوئی جائے اور ارسطو سے جا کر یہ پوچھے کہ نواب، وڈیرے، سردار سیاست میں آنے سے کچھ نہیں گنواتے پر اگر وہ لوگ جو تن پر کپڑے اور ہاتھوں میں پرچم لبوں پر گیت لیے سیاست میں داخل ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی کچھ نہیں گنواتے؟!

اس لیے ارسطو کو اپنی بات میں یہ اضافہ کرنا ہوگا کہ نواب، سردار، وڈیرے سیاست میں داخل ہونے پر کچھ نہیں گنواتے، پر وہ لوگ جو ننگے پاؤں موٹر سائیکل کے گرم سائیلنسر پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کانٹے دار ببول کے درختوں پر چڑھ کر انقلاب یا آزادی کا پرچم لہراتے ہیں یا اپنے لبوں پر آزادی کے گیت رواں رکھتے ہیں یا تعلیمی اداروں اپنی ساتھیوں کی تربیت کرتے ہیں یا کہیں دور کسی کو کوئی پمفلٹ لکھ کر دیتے ہیں وہ تو بہت کچھ گنواتے ہیں یہاں تک کہ اپنی جوانی بھی، یہاں تک کہ اپنی عمریں بھی، یہاں تک کہ اپنی زندگی بھی!

یہ تو تاریخ ہی پوچھے گی کہ نواب ثنااللہ زہری نے بلوچستان کو کیا دیا؟! یا بلوچستان نے نواب کے دور میں کیا گنوایا۔ پر وہ سوال نہ تو ڈاکٹر مالک کے دورِ حکومت میں جواب پا سکے ، جو فرزانہ مجید اپنے ساتھوں کے ساتھ ڈاکٹر مالک سے پوچھا کرتی تھی، ڈاکٹر مالک بلوچستان چھوڑ کر کراچی چلے آتے تھے، تو سوال بھی اپنے قافلے والوں کے ساتھ کراچی پہنچ ہی جاتے تھے۔

پر ڈاکٹر مالک کی طرح ثنااللہ زہری کراچی کا قصد نہیں کرتے، وہ کوئٹہ میں ہی تشریف رکھتے ہیں، اور اپنے بڑے سے گھر کے سارے در مقلف رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ سوال اس گھر میں نہیں جا سکتے جو بہت بے چین ہیں کہ وہ ایک بار بس ایک بار ہی سہی پر نواب ثنااللہ زہری سے بھی تو اپنے جواب مانگ پائیں، جن سوالوں نے ڈاکٹر مالک کی نیندیں خراب کی ہوئی تھیں۔

اب تو ان سوالوں کی پہنچ ڈاکٹر مالک تک بھی نہیں، کیوں کہ وہ اپنا دامن جھاڑ کے اُٹھ چکے، اور نواب ثنااللہ زہری تک ان سوالوں کی پہنچ ہی نہیں!

تو اے بلوچستان اور اہلیانِ بلوچستان، دونوں وزرا کو چھوڑ دو…. ایک نازیبا الفاظ ادا کرتا رہے، خوش ہوتا رہے، اپنے ساتھ ایک اور مسخرے کو ہنساتا رہے اور ایک دُور کراچی کے دانش ور حلقوں میں جالب کو یاد کرتا رہے کہ،

میں بھی خائف نہیں تختہِ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو ، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا!

ہاں انہیں چھوڑ دو، انہیں اب کوئی ہیں جانتا، کوئی نہیں‌ مانتا!!۔

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com