مرکزی صفحہ / مباحث / ٹرمپ کے اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ

ٹرمپ کے اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ

انور عباس انور

امریکی صدر اپنی حرکات وسکنات اور بیانات کے باعث ہمیشہ ہلچل مچاتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ وہ جب سے امریکا کے صدر بنے ہیں، عالمی سطح پر اپنا منفرد انداز اختیار رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کی تاریخ کے ٹرمپ پہلے صدر ہیں جنہوں نے اپنی پالیسی اور اپنے من کی بات کے اظہار کے لیے ٹویٹ کو استعمال کرنے کی طرہ ڈالی ہے۔ ورنہ ان سے قبل تک کے صدور میں ٹویٹ کرنے کی خواہش جنم لینے سے قاصر رہی۔

دنیا کے باقی سب حکمرانوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی ترجیحات اور اپنے ملکی معاملات کے حوالے سے اپنے بیانات دنیا تک پہنچانے کے لیے ٹویٹر کو وسیلہ نہیں بنایا۔ بلکہ اس کے لیے روایتی چینلز کو ہی بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اور باقاعدہ دفتر خارجہ کے ترجمان میڈیا کے روبرو اپنی پالیسی یا مؤقف بیان کرتے ہیں۔ امریکی صدر اپنے بیانات کی وجہ سے جگ ہنسائی کا موجب بن رہے ہیں لیکن ’’رانی کو کون کہے کہ آگے ڈھانپوں‘‘ کے مصداق انہیں اس صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہمت کوئی نہیں کر رہا۔

صدر ٹرمپ نے نئے سال کے پہلے روز دو ٹویٹ کیے؛ پہلا ٹویٹ پاکستان کے متعلق اور دوسرا یران کے اندرونی معاملات کے بارے میں ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ امریکا نے گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد دے کر غلطی (صدر ٹرمپ نے تو بیوقوفی کے الفاظ استعمال کیے) کی ہے۔ بقول ٹرمپ اس امداد کے عوض پاکستان نے ہمیں دھوکہ دیا۔ ٹرمپ کا مزید ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نامکمل معلومات فراہم کیں، پاکستان دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ابتدائی طور پر صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کا جواب دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ہم دنیا کو جلد بتائیں گے کہ حقیقت اور فسانے میں کیا فرق ہوتا ہے‘‘۔ خواجہ صاحب نے واضح کیا ہے کہ ہم بہت پہلے امریکا کو بتا چکے ہیں کہ نو ڈو مور۔ دوسری طرف پاک فوج کے ترجمان بھی کھل کر پاکستان کے اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہمیں امریکی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اس حقیقت سے نگاہیں چرا رہی ہے کہ اس نے پندرہ سالوں میں کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں جو 33 ارب ڈالر دیے ہیں (وہ کبھی بھی وقت پر ادا نہیں کی گئی) وہ پاکستان نے جو نقصانات اٹھائے ہیں ان کا عشر عشیر بھی نہیں۔ اس میں پاکستان نے اتحادی افواج کو اپنے فوجی اڈوں سمیت بہت کچھ استعمال کے لیے پیش کیا۔ لیکن امریکی تعصب کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہیں۔

پاکستان کے میڈیا اور سرکاری حلقوں میں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کے پس منظر میں ٹرمپ کی اپنی سوچ کارفرما ہے یا اس کے پیچھے ان کے ساتھیوں کی پلاننگ شامل ہے یا ٹرمپ کا بیان پنٹاگان کی باقاعدہ پالیسی کا مظہر ہے۔ اس سلسلے میں دیکھا جائے تو ہمیں ٹرمپ کے اردگرد جمع مشیروں اور ساتھیوں میں زیادہ تر وہ فوجی جنرلز دکھائی دیتے ہیں جو افغانستان میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ان فوجی جنرلوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو باور کرا رکھا ہے کہ افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ناکامی کا باعث پاکستان کا عدم تعاون اور دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا ہے۔

ہمارے دانش ور اور تجزیہ نگار، وزرا اور سیاست دان امریکا کی بے وفائی کا رونا رو رہے ہیں۔ بندہ ان سے دریافت کرے کہ کیا امریکی بے وفائی کا یہ پہلا موقع ہے؟ قیام پاکستان کے بعد سے جب سے ہم امریکی جھولی میں گرے ہیں اس کی جانب سے بے وفائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ کشمیر کا تصفیہ ہو، 1965 کی جنگ ہو یا پھر 1971 کی جنگ ہو ان مواقع پر امریکا نے اپنے اتحادی (پاکستان) کو نہ صرف پیٹھ دکھائی ہے بلکہ اس نے پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ مگر ہم پاکستانی (فوجی و غیرفوجی حکمران) ہمیشہ اس کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اس کے چرنوں میں بیٹھتے چلے آ رہے ہیں۔ اس میں صرف بھٹو دور شامل نہیں ہے۔

اگر امریکا امتِ مسلمہ کے ساتھ مخلص پن کا مظاہرہ کرتا تو آج مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا۔ فلسطین کا جھگڑا ختم ہو چکا ہوتا۔ مگر امریکی انتظامیہ کے ارادے ہی دنیا میں افراتفری پھیلانا ہے۔ امریکی دھمکیوں کا مقصد صرف اور ہم پر دباؤ ڈالنا ہے اور اس بات پر رضامند کرنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں بھارتی کردار کو قبول کر لے، اس میں سی پیک کو غیر مستحکم کرنا بھی شامل ہے۔ امریکی صدر اور ان کے ساتھی اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی غیر ذمہ دارانہ حرکات ،غیر متوازن اور تعصب سے لبریز پالیسیوں کے باعث ہی دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

یہ ردِعمل انتہائی زوردار اور امریکا کے چودہ طبق روشن کر دے گا۔ کیونکہ یہ ردِعمل کور کمانڈر کی شیڈولڈ میٹنگ، کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد جاری ہوگا (پاکستان اپنے سرکاری ردِعمل کا اظہار ان سطور کی اشاعت تک شائد کر چکا ہو)۔ اس وقت عسکری اور سول قیادت ایک پیج پر ہے اور اس بات پر متفق ہے کہ امریکا کو زوردار جواب دیاجائے تاکہ اس کی تمام غلط فہمیاں رفع ہو جائیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی روایت ڈال کر اپنے راستے میں ہی کانٹے بچھائے ہیں۔ ایران کی قیادت ہم سے کہیں زیادہ باشعور، آزاد اور طاقت ور ہے۔ ایرانی قیادت قوتِ ایمانی اور غیرتِ ملی کے نشہ میں مخمور ہے۔ اس سے پنگا لینا امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اسرائیل کی پشت پناہی کرتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے مشرقِ وسطی میں لگی آگ کو بڑھاوا دیا ہے۔ منصبِ صدارت پر فائز ہونے سے لے کر اب تک ٹرمپ نے امریکی عوام کے لیے مشکلات پیدانے والے اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کو امریکا سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ شمالی کوریا، ایران اور وینزویلا سمیت متعدد ممالک کی مثال کافی ہے۔

Facebook Comments
(Visited 24 times, 1 visits today)

متعلق انور عباس انور

khas.loag@gmail.com