مرکزی صفحہ / بلاگ / سی پیک منصوبہ اور صوبوں کی افرادی قوت

سی پیک منصوبہ اور صوبوں کی افرادی قوت

مقبول کرد

CPEC پروجیکٹ کا تخمینہ 46b$ سے بڑھ کر 62b$ تک کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گوادر ساؤتھ ایشیا میں اقتصادی حوالے سے بہت بڑاکردار ادا کرے گا جو کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ باقی ملکوں کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔ دراصل چین ایک اقتصادی طاقت بن چکا ہے وہ پاکستان کے علاوہ بہت سارے ملک میں اپنی اقتصادی جال بچھا چکا ہے۔ سی پیک چائنا کی ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ظاہر ہے اس منصوبے کا زیادہ حصہ پنجاب کے حصے میں چلا جاتا ہے۔لیکن یہ حصہ اتنا رکھا جاتا ہے کہ باقی صوبوں کا کچھ حصہ بھی اسی کے حصے میں چلا جاتا ہے۔پنجاب گورنمنٹ بہت بڑے پیمانے پر سی پیک کیلیے تیاری کر رہا ہے۔روڈ، انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ انفرادی قوت پر بھی کام ہو رہا ہے۔جو کہ بدقسمتی سے کسی اور صوبے میں نہیں ہو رہا۔

پنجاب میں چائنیز زبان سکھانے کا کام بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ فری شارٹ کورسز، چائنیز زبان گورنمنٹ اور بہت سے پرائیویٹ اداروں میں کروایا جا رہا ہے۔ جس سے فائدہ یہ ہو گا کہ چائنیز کمپنی کو آسانی کے ساتھ مزدور دستیاب ہوں‌ گے۔اور پنجاب کے نوجوانوں کو آسانی کے ساتھ چائنیز کمپنیز اور چائنا میں روزگار ملے گا۔ جو کہ خوش آئند اقدام ہے ۔اور یہ سب تیاری اس بات کی ضامن ہے کہ پنجاب کے آفیسرز اور گورنمنٹ پوری زمہ داری کے ساتھ اپنے صوبے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اگر ہم باقی صوبوں کو دیکھے تو وہاں سی پیک منصوبوں‌ سے متعلق اس طرح‌ کے اقدامات دیکھنے کو نہیں‌ مل رہے ہیں‌ جو پنجاب میں‌ مل رہے ہیں. ہمیں اچھی طرح معلوم ہے۔ کہ پاکستان میں 90 % نوکریاں تعلقات کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اور اقربا پروری کو مجھے یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔چوکیدار سے لے کر آفیسر لیول تک دفاتر میں وہاں پہلے سے موجودسٹاف کے رفیرنسز سے لوگوں کو بلاکر تعینات کیا جاتاہے۔

چند سالوں کے بعد سی پیک منصوبے میں بھی یہی صورتحال ہو گی ۔اور باقی صوبوں کے سیاستدان اور قوم پرستوں کو ایک نئی مضمون مل جائے گی گوادر کے نام پر ووٹ مانگنے کیلیے۔ یا تو سی پیک اور گوادر کا نام تبدیل کر کے منی پنجاب ہی نہ رکھ دے۔

بہر حال سی پیک کو یاد کرنے کا مقصد بس اتنا ہی تھا کہ باقی صوبوں کے حکمران اپنے صوبوں کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ سی پیک سے منسلک کورسز کروائیں اور چائینیز زبان سکھائیں۔ بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ وہ ھنگامی بنیادوں پر کم از کم بیس ہزار نوجوانوں کو اعلی ڈگری کیلیے چائنا بھجوائیں۔ اور تیس ہزار افراد کو جن میں ہر طبقہ اور عمر کے لوگ شامل ہو ں، شارٹ کورسز کے ساتھ ساتھ چائینیز زبان بلوچستان کے گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں میں کروایاجائے۔ اور پانچ ہزار نوجوانوں کو اسلام آباد میں لانگ کورسس اور چائینیز زبان کیلیے بھجوادیں اور یہاں موجود سی پیک کے دفتروں میں انٹرشپ کروایا جائے۔

ظاہر ہے یہ بہت محنت طلب کام ہے لیکن مشکل نہیں اور یہ صرف سنجیدہ لوگوں کو ہی سمجھ آجائے گی کہ کتنا ضروری ہے۔

یا تو ایک بہت ہی آسان کام ہے کہ بلوچستان کے سیاسی پارٹیز خاص طور پر قوم پرست ابھی سے پرکشش نعروں کا پریکٹس کرنا شروع کریں ۔جو وقت کی ضرورت ثابت ہوگی۔

Facebook Comments
(Visited 24 times, 1 visits today)

متعلق مقبول کرد

مقبول کرد