مرکزی صفحہ / اداریہ / نئے سال میں نیا کیا ہے؟!

نئے سال میں نیا کیا ہے؟!

ایڈیٹر

2017 کا سورج اپنی تمام تر رعنائیوں اور خوبیوں، خامیوں کے ساتھ ڈھل کر ماضی کا حصہ بن چکا. روز ابھرنے اور ڈوبنے والا وہی آفتاب طلوع کر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اب ایک نئے برس کا نام پا چکا. اور ہم معلوم انسانی تاریخ کی اکیسویں صدی کے اٹھارویں برس میں داخل ہو چکے.

اس دوران جہاں ایک جانب انفرادی و اجتماعی سطح پر نئے برس کی مبارک بادوں کا سلسلہ رہا، وہیں دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھتا رہا کہ نئے برس میں نیا کیا ہے؟ محض ہندسہ بدل جانے سے کیا وقت کی رفتار اور حالات کو بدلا جا سکتا ہے؟ اعداد کی اس ہیرپھیر سے انسانی تقدیر میں کس قدر بدلاؤ ممکن ہے؟

یہ جانتے ہوئے کہ نہ تو نئے برس کی آمد پر مبارک بادی کا سلسلہ نیا ہے اور نہ ہی اس موقع پر اٹھنے والے یہ سوالات نئے ہیں، اس کے باوجود ان پر بات کر لینے میں، گھڑی بھر کو رک کر ان پہ سوچنے میں مضائقہ ہی کیا ہے؟ آئیے، دیکھتے ہیں کہ واقعی درحقیقت ہندسوں کے اس کھیل میں ایسا کیا ہے کہ اسے سیلیبریٹ کیا جائے، یا اس پہ کوئی تفکر کیا جائے؟

زندگی کے تسلسل اور وقت کے دھارے میں یوں تو بیک وقت کچھ بھی نیا نہیں اور ہر پل نیا ہے. اس کی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ زندگی کا تسلسل لاکھوں برس سے قائم ہے، یوں اس میں نیا کچھ بھی نہیں کہ یہ مسلسل ایک ہی تسلسل کے ساتھ رواں دواں ہے. کائنات کے قیام سے مسلسل اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، یعنی کائنات پھیل رہی ہے، زندگی رواں دواں ہے، تسلسل قائم ہے تو گویا زندگی سے زندگی تک نیا کچھ نہیں.

مگر دوسرے معنوں میں‌ دیکھا جائے تو جو پل گزر چکا، وہ پرانا ہو چکا اور گزرتا ہر پل نیا ہے، اسی طرح ہر آنے والا پل نیا ہے. اس لیے کہ جو ہم نے نہیں دیکھا، یا جو ابھی نہیں دیکھا گیا وہ نیا ہی کہلائے گا، خواہ اس میں "نیاپن” کچھ بھی نہ ہو.

پھر یوں بھی ہے کہ انسان نے وقت کی تقسیم اپنی سہولت کے لیے سیکھی اور برسوں سے اسے اپنے استعمال میں لا رہا ہے. افراد سے لے کر اداروں تک، سبھی وقت کی اسی تقسیم کے پیشِ نظر اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں. اسی مناسبت سے ہم زندگی کی گاڑی کو آگے کی جانب رواں دواں رکھتے ہیں.

اس لیے جوں ہی ایک برس کا دائرہ مکمل ہوتا ہے، اس کی جگہ ایک نیا ہندسہ لے لیتا ہے، تو گو کہ اس سے دن اور رات کے معمولات میں‌ کوئی فرق نہیں پڑتا. سورج اسی طرح اپنا دائروی سفر جاری رکھتا ہے. انسانی معمولاتِ زندگی میں بھی کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوتی، مگر اس ایک لمحے کو رک کر گئے وقت کا جائزہ لینے اور آنے والے سے متعلق سوچ لینے میں حرج ہی کیا ہے. بھلے اسے محض حکمتِ عملی ہی سمجھ لیا جائے.

سو، سال کے بدلتے ہندسے کو اور کچھ نہ سہی، ایک لمبے سفر میں ذرا سا وقفہ ہی سمجھ لیا جائے. جیسے آپ کسی طویل سفر پہ نکلے ہوں تو لازمآ کہیں وقفہ کریں گے، رکیں گے، چائے پئیں گے، منہ پر پانی کے چھینٹے ڈالیں گے اور ہشاش بشاش ہو کر آگے کے سفر پر رواں ہو جائیں گے.

نئے برس کے بدلتے ہندسے کو زندگانی کے لمبے سفر میں‌ بس اسی وقفے جیسا معمولی توقف جانیے، لمبی سانس لیجیے، نیک ارادوں اور زندگی بھری تمناؤں کے ساتھ آگے کا سفر جاری رکھیے.

Facebook Comments
(Visited 28 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر