مرکزی صفحہ / علمی حال / کمیونٹی سکول گوٹھ آدم خان مگسی کی روداد

کمیونٹی سکول گوٹھ آدم خان مگسی کی روداد

سکندر علی مگسی

15 اگست 2008ء میں بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن  کی طرف سے گوٹھ آدم خان مگسی میں اسکول کی منظوری ہوئی اور بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی طرف سے ایک ٹیچر منتخب ہوا چلتا چلتا سکول کی اچھی کارکردگی کی وجہ سے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن والوں نے ٹیچر اور کمیونٹی کی محنت و لگن دیکھ کر سکوں کی بلڈنگ منظور کروائی.

یونین کونسل سیف آباد میں اس طرح کا کوئی سرکاری ہائی سکول یا مڈل آپ کو اس یونین کونسل میں دیکھنے کو نہیں ملے گا

اسکول، چار دیواری سمیت ایک چھوٹا آفس اور دو کمروں پر مشتمل ہے گاؤں میں تعلیم کا رجحان بڑھتا گیا اور تعداد میں اضافہ ہوتا گیا گاؤں والوں نے تعلیم  کو آگے بڑھانے کے لیے خود پرائیویٹ ٹیچرز  کا بندوبست کیا انہی ہی کے تعاون سے ٹیچرز کی تنخوایں مقرر ہوئیں.

گاؤں والوں کی طرف سے ایک والدین کی میٹنگ ہوئی  جس میں یونیفارم کے حوالے سے بات چیت ہوئی گاؤں والوں اور اساتذہ نے آرمی یونیفارم کا انتخاب کیا اور اس میں یہ بات طے کی گئی کہ تمام والدین اپنے بچوں کو خود یونیفارم خرید کر دیں گے.

تعلیم کا معیار بڑھتا گیاـ سکول میں والدین کی دلچسپی محنت و کارکردگی اور بڑھتی ہوئی بچوں کی تعداد کو دیکھ کر بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن والوں کی طرف سے مزید دو اور ٹیچرز تعینات کیے گئے ہیں.

بلوچستان ایجوکیشن فاونڈیشن ضلع جھل مگسی کا افسر خیر جان بلوچ کی محنت، ہمت، کاوش و جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں کمیونٹی کے ساتھ بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں ہر جگہ سکول کے بچوں کو تقریری مقابلوں، میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرواتے ہیں ڈسٹرکٹ بھر کے تمام  سرکاری سکولوں کے تقریری مقابلوں میں اکثر اس سکول کے بچوں نے ڈسٹرکٹ کو ٹاپ پوزیشن بھی لی ہیں.

2008ء سے لے کر 2017 تک 36 بچوں نے اس سکول سے پرایمری پاس کی ہے. اسی اسکول کے کافی بچے کیڈٹ اسکول، غزالی اسکول اور پاکستان کے مختلف سرکاری و نجی سکولوں میں پڑھتے ہیں اور کافی بچے سہولیات نہ ہونے اور غریبی کی وجہ سے پانچویں جماعت پاس کر کے گھر بیٹھے گئے ہیں.

اس وقت سکول میں بچے اور بچیوں کی تعداد 160 ہے اور پانچ ٹیچرز ہیں کمرے فرنیچر اور دیگر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے اور بچوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹیچرز  نے داخلے بند کردی ہیں۔۔

صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ  کمیونٹی سکول گوٹھ آدم خان مگسی کے اس سکول کو محکمہ ایجوکیشن میں زم کرکے اس سکول میں لکھنے پڑھنے کے مواد کے ساتھ مزید  ٹیچرز کا بندوبست کرائے اور اس کو سکول مڈل کا درجہ  دے کر یہاں کے بچے اور بچیوں کی زندگی روشن کرنے میں اپنا فرض ادا کریں تاکہ بچے اور بچیاں صحیح طور پر تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔۔۔

Facebook Comments
(Visited 34 times, 1 visits today)

متعلق سکندر مگسی

سکندر مگسی
سکندر علی مگسی ایک سماجی کارکن ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے ایم اے کر چکے ہیں۔ سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صحافتی سرگرمیاں بھی انجام دیتے ہیں۔ Sikandar_magsi786@yahoo.com