مرکزی صفحہ / مباحث / ایران کا حالیہ منظرنامہ، وجوہات اور پاکستان

ایران کا حالیہ منظرنامہ، وجوہات اور پاکستان

کامریڈ فاروق بلوچ

یہ واضح نہیں ہے کہ آج کے بعد کیا ہوگا. ممکن ہے تحریک عارضی طور پر مر جائے ہاں لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ ایرانی انقلابی عوام کی دوبارہ انگڑائی کے عمل کا آغاز ہے. عوام کی ایک نئی پرت منظرنامے میں داخل ہوگئی ہے جب کہ حکومت کا بحران بہت گہرا ہے. یہ عظیم تاریخی واقعات کی طرف پہلا معیاری ہے جو پوری خطے پہ اپنے اثرات مرتب کریں گے اور طبقاتی طاقتوں کا توازن بدل جائے گا.

اس دوران، مغربی حکومتوں، سعودیوں اور اسرائیلیوں نے اس تحریک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی ہے. ڈونلڈ ٹرمپ نے "ایرانی عوام” کے لیے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے. واضح طور پر ٹرمپ، سعودی عرب اور اسرائیل نے ایران کے حوالے سے حکومت کی تبدیلی کی تحریک کی پیروی کرنی ہے. لیکن ایرانی عوام نے اپنے خلاف مغرب سامراجی جرائم کو نہیں بھولے ہیں، ایرانی عوام ابھی تک امریکی سفاکانہ اقتصادی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں.

اس مرحلے پہ رضا خان کے حق میں تعریفی نعرے بھی سننے میں آ رہے ہیں، اقتصادی مطالبات اور "آمریت مردہ باد” کے نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں. یہ سب سارا کچھ "اسلامی جمہوریہ” کے خلاف گہرے غصے کی عکاسی کرتا ہے. لوگ بھوکے ہیں، بے روزگاری، افراطِ زر اور فساد سے تھکے ہوئے ہیں. پائیدار، ایماندار اور جبہ دار مولویوں کی نااہلی اور بدعنوانی کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے.

حالات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہے ہیں کہ حالیہ بغاوت غریب، بدحال، درمیانی طبقات اور محنت کشوں کی بغاوت ہے. مظاہرین کی اکثریت قدامت پرست علاقوں سے تعلق رکھتی ہے. یہ وہی طبقات ہیں جنہوں نے ہماری طرح ایک بہتر مستقبل کی امید میں دہائیوں سے اپنے سروں کو خم رکھا ہوا ہے. یہ سچ ہے کہ اس وقت سڑکوں پر موجود اکثر لوگوں نے اسی نظامِ حکومت کی حمایت کی تھی. لیکن اب مزید یہ سب چلتا ہوا دکھائی نہیں دیتا. اب عوام نے انکار کر دیا ہے.

تبدیلی کا وعدہ لے کر پانچ سال پہلے روحانی نے اقتدار سنبھالا تھا. سماج کے تمام طبقات نے سیکورٹی کے شدید ماحول کے خاتمے کی امید کی تھی، سیاسی قیدیوں کو آزاد کرنے، جمہوری حقوق میں اضافے، ریاست پہ تنقید کو جرم سمجھنے والی روایت کے خاتمے اور معیارِ زندگی میں بہتری کی امید کو روحانی کے اقتدار نے مایوسی میں بدل دیا. بے روزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے. اگرچہ انفراسٹرکچر کو بہت بہتر کیا گیا ہے لیکن ایران میں زندگی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے. اس کے باوجود انتظامیہ سب سے غریب ترین افراد کے لیے بنیادی سامان اور نقد فوائد پر سبسڈی میں کٹوتی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے.

ایک اہم بات جو سمجھنے والی ہے کہ ایران، مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل پراکسی جنگ میں ملوث ہے. جنگ کی وجہ سے مسلسل معاشی بحران گہرا ہو رہا ہے. عوام کو پہلے پہل تو اسلام اور شیعت کے نام پہ بےوقوف بنایا گیا. لیکن اب عوام کو سمجھ آ گئی ہے جو جلد بدیر آنی ہی تھی کہ عوامی مسائل مذہب یا مذہبی جنگ کی بجائے بہتر روزگار، سستی ضروریاتِ زندگی اور مناسب شہری سہولیات ہیں. "شام کی چھوڑو، فلسطین کی چھوڑو، عوام کو سنبھالو” جیسے نعرے اِن مظاہرین کے پسندیدہ ہیں.

چین اس وقت پاکستان میں جتنی سرمایہ کاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اتنی سرمایہ کاری ایران میں کر چکا ہے. جتنا انفراسٹرکچر پاکستان کا بہتر ہونا ہے، اتنا ایران میں ہو چکا ہے. انفراسٹرکچر کی بہتری اور سرمایہ دارانہ معاہدوں کے فوائد براہِ راست عوام تک نہیں پہنچ پاتے لہٰذا عوام اپنے آقاؤں کے خلاف باغی ہو جاتے ہیں. یہی کچھ ایران میں ہو رہا ہے. "ہم لڑیں گے، مریں گے لیکن ایران واپس لیں گے”، "اصلاح کار مردہ باد”، "روٹی، روزگار اور آزادی” جیسے نعرے اِن مظاہروں عام دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں.

پاکستانی سماج اس وقت تقسیم در تقسیم کے کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے. مذہبی شدت پسندی، مسلکی منافرت اور لسانی غلاظت میں عوام کو رکھنا دراصل اپنی کرپشن اور نااہلی چھپانے کا ایک طریقہ ہے. ایرانی عوام کو بھی اسلامی نظام کی آڑ میں نصف صدی سے یرغمال رکھا گیا ہے اور پاکستانی عوام کو بھی اسی چکر میں الجھایا گیا ہے. ایران کے عوام بھی بار بار بغاوت پہ آمادہ ہو جاتے ہیں جب کہ پاکستانی عوام بھی ایک عوامی انقلاب کا تجربہ رکھتے ہیں. لیکن ہم دیکھتے ہیں دونوں طرف کے عوام اپنے اپنے ملاؤں سے تنگ آکر بغاوت پہ آمادہ نظر آتے ہیں. پاکستان میں تازہ مذہبی دھرنوں نے ملاؤں کے خلاف عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے.

روحانی اور شریف اقتدار تقریباً ایک ساتھ اور ایک ہی طرح کے چیلنجز کے ساتھ شروع ہوا تھا. دونوں جانب بےروزگاری، مہنگائی اور کرپشن نے حکومت کو ننگا کیا ہے. دونوں جانب جھوٹے وعدوں نے حکمران طبقے کو بےعزت کیا ہے.

پاکستانی اشرافیہ اور ایرانی اشرافیہ نے چین کو خدائی انعام کے طور پہ پیش کیا. ایران نے بھی چینی سرمایہ کاری کو خطے میں "گیم چینجر” کہا مگر عوامی حالات دن بن دن بگڑ رہے ہیں. پاکستانی اشرافیہ بھی چینی سرمایہ کاری کو اللہ کا انعام کہہ رہی ہے. لیکن چونکہ یہ ایک سرمایہ دارانہ معاہدہ ہے لہٰذا پاکستانی عوام کو بھی سی پیک سے کوئی امیدیں وابستہ نہیں ہیں.

اسی طرح پاکستانی عوام کو جدید اور ترقی یافتہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے آسانیوں اور سہولیات کے خواب دکھائے جا رہے ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ ایران کے بہتر انفراسٹرکچر نے کون سی عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے؟ عوام کے مسائل کی ترجیح خوراک، تعلیم، علاج، رہائش اور روزگار ہیں، انفراسٹرکچر کی اہمیت بالکل ہے مگر پہلے دیگر ترجیحات کی تکمیل ضروری ہے. لیکن عوامی ضروریات میں اِن سرمایہ داروں کو کچھ نہیں بچتا جب کہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سستی شہرت اور اچھا خاصا منافع مل جاتا ہے.

عوامی بغاوت اور عوامی بیداری اس خطے کا مستقبل ہے. عوام مذہبی جنگ، لسانی جنگ اور قومی جنگ سے تنگ آ چکے ہیں. اِس خطے کی محرومیوں کا واحد حل عوامی تحریک ہے. لیکن عوامی تحریک کی کامیابی کا دارومدار طبقاتی جنگ میں مضمر ہے. طبقاتی بنیادوں پہ استوار عوامی بغاوت ہی ایرانی اور پاکستانی عوام کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے.

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق کامریڈ فاروق بلوچ

کامریڈ فاروق بلوچ
فاروق بلوچ، سرائیکی وسیب کے علاقہ لیہ کے رہائشی ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے کاشت کار ہیں۔ سوشلسٹ پاکستان کے سرگرم سیاسی کارکن ہیں۔ اسی نکتہ نظر سے سیاسی امور پہ لکھتے رہتے ہیں۔ Email:fafafakhan@gmail.com