مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / سنگت اکیڈمی کی چھٹی کانگریس، حلف برداری و سیکریٹری رپورٹ پیش

سنگت اکیڈمی کی چھٹی کانگریس، حلف برداری و سیکریٹری رپورٹ پیش

حال حوال

سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی چھٹی دو سالہ کانگریس 31 دسمبر 2017 کی صبح پروفیشنل اکیڈمی کوئٹہ میں منعقد ہوئی. جس میں سنگت اکیڈمی کےا راکین کی اکثریت نے شرکت کی.

واضح رہے کہ سنگت اکیڈمی اپنے دو سالہ انتخابی عمل کو کانگریس کا نام دیتی ہے. گزشتہ ماہ اکیڈمی کے دو سالہ انتخابات ہوئے جس میں نئی کابینہ تشکیل پانے کے بعد کارکردگی رپورٹ اور نو منتخب کابینہ کی حلف برداری کے حوالے سے سنگت کانگریس منعقد کی گئی.

تقریب کا آغاز حلف برداری سے ہوا. سابقہ سیکریٹری جنرل نے نومنتخب کابینہ سے حلف لیا، جس کے بعد نئے سیکریٹری جنرل نے کانگریس کی صدارت سنبھالی.

انتخابات کے نتیجے میں ڈاکٹر ساجد بزدار مرکزی سیکریٹری جنرل، پروفیسر جاوید اختر ڈپٹی سیکریٹری جنرل، ڈاکٹر عطااللہ بزنجو سیکریٹری پوہ و زانت‌ منتخب ہوئے. جب کہ مرکزی کمیٹی کے اراکین میں ڈاکٹر بیرم غوری، ڈاکٹر امبرین مینگل، عابدہ رحمان، کلا خان خروٹی، خالد میر اور سابق سیکریٹری عابدمیر شامل ہیں.

حلف برداری کے بعد سابق سیکریٹری جنرل عابدمیر نے دو سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی. جس میں سنگت اکیڈمی کے پیش رو فکری اداروں کے سو سالہ سفر سے لے کر 1998 میں سنگت کے قیام سے 2006 میں اس کی نشاۃ الثانیہ کا تذکرہ بھی شامل تھا. انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں سنگت اکیڈمی کو ملنے والی 4 ملین روپے کی مالی امداد سے نئے اشاعتی سلسلے کا آغاز کیا گیا. جس کے تحت پروگریسو عالمی ادب کو بلوچی، اردو سمیت دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنا شامل تھا. اس سلسلے میں 21 کتابیں دو برس میں شائع ہوئیں. جس میں 11 کتابیں بلوچی میں، 7 اردو میں جب کہ 2 براہوی اور 2 پشتو میں شامل ہیں. اس کے علاوہ عشاق کے قافلے سیریز کی 11 کتابیں شائع ہوئیں. ساحر لدھیانوی کی تلخیاں، سی آر اسلم کی پولیٹیکل اکانومی، عبداللہ جان کی لٹ خانہ و شمعِ فروزاں سمیت اشاعتی کتب کی کل تعداد 40 رہی.

اس کے علاوہ سنگت اکیڈمی کی دیگر سرگرمیوں جیسے کہ بلوچی کے لہجوں کے سلسلے میں لینگوئج کمیٹی، تعلیمی کمیٹی، نظریاتی کمیٹی وغیرہ کا بھی ذکر کیا گیا.

وحید زہیر نے سنگت اکیڈمی کے 20 سالہ سفر پر اپنا مضمون پیش کیا. جس میں انہوں نے بتایا کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے بلوچستان سمیت خطے میں جو آگ لگی اس میں کئی ادارے اور افراد جہاں یا تو خاموش ہو گئے یا بددل، وہاں سنگت اکیڈمی ایک نظریاتی مورچے کے بہ طور مسلسل موجود رہی. مختلف تقاریب، سرگرمیاں اور قراردادیں سنگت کے مؤقف اور موجودگی کی دلیل ہیں.

اس کے بعد نو منتخب سیکریٹری جنرل ڈاکٹر ساجد بزدار نے اپنے صدارتی کلمات میں دوستوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا. نیز انہوں نے کہا کہ سنگت کونجوں کی اس ڈار کی طرح ہے جس میں آپ اکیلے اڑان نہیں بھر سکتے، ہمیشہ قافلے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے. ہم پر جو ذمہ داری دوستوں نے عائد کی ہے، اس سے عہدہ برآں ہونے کی ہرممکن کوشش کریں‌گے. انہوں نے کہا کہ سنگت اکیڈمی اپنا نظریاتی سفر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گی.

انہوں نے اپنا تازہ بلوچی افسانہ بھی پیش کیا، جس پہ سیرحاصل گفتگو کی گئی.

آخر میں ڈپٹی سیکریٹری پروفیسر جاوید اختر نے تین قراردادیں پیش کیں. جن کے مطابق:
1. کوئٹہ میں چرچ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی گئی.
2. پاکستان میں شہریوں کی جبری گمشدگی کے سلسلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا.
3. بلوچی کے ادیب اور مزاح نگار اکرم صاحب خان اور بلوچستان کے معروف فن کار عبدالقادر حارث کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا گیا.

ان قرارداروں‌ کی متفقہ منظوری سے سنگت کانگریس اپنے اختتام کو پہنچی.

Facebook Comments
(Visited 42 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔