مرکزی صفحہ / مباحث / عوام اور سیاست دان

عوام اور سیاست دان

ندیم کاشف یلانزئی

سیاست دانوں اور عوام کے درمیان ایک نہایت مضبوط رشتہ ہے جیسے کہ باپ اور بیٹے کا، اس کی وضاحت کچھ اس طرح سے دی جاسکتی ہے کہ اگر سیاستدان باپ ہے تو عوام اس کے بیٹے، باپ جتنا بھی غلط ہو، کرپٹ ہو، جھوٹا ہو، قاتل ہو آخر باپ باپ ہی ہوتا ہے جب وہ کسی مصیبت میں ہوتا ہے یا کوئی اسے کچھ بھلا برا کہتا ہے تو بیٹے جھٹ سے ہاتھوں میں ہتھیار لیے احتجاج پر اتر آتے ہیں۔

کچھ یہی حال ہمارے ملک کے حکمرانوں اور عوام کا ہے۔ ایک سیاست دان کتنا ہی کرپٹ کیوں نہ ہو لیکن اپنے ووٹرز کی نظر میں شریف اور ایمان دار ہوتا ہے۔

کوئی کسی حکمران کے بارے ميں کچھ کہے تو ان کے سپورٹرز اس شخص کا جینا محال کر دیتے ہیں۔ ارے یہ حکمران کس کے ہوئے ہیں جو تمہارے ہوں گے، ایک پارٹی ورکر صبح سے شام تک پارٹی کے لیے کام کرتا ہے آخر میں اسے کچھ نہیں ملتا تو ایک عام شخص کو کیا ملے گا۔

یہی سیاسی لیڈر ہر سال اپنے پرانے وعدے وعیدوں کے ساتھ آپ کے گھر تک آتے ہیں اور آپ کو سبز باغ دکھا کر آپ کا ووٹ حاصل کر کے بیرون ملک کے دوروں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اگلے پانچ سال تک عوام جیے یا مرے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے چلتا آرہا ہے نجانے یہ عوام ان کے ہتھکنڈوں کو اب تک کیوں نہیں سمجھ پائی ہے اور اگر سمجھی ہے تو بار بار ان کے جھانسے میں کیوں آجاتی ہے ۔ شاید یہ باپ بیٹے کا رشتہ ہی انہیں ہمت کرنے یا کوئی قدم اٹھانے نہیں دیتا۔

تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاستدانوں نے اب تک عوام کو مہنگائی، کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ مار کے علاوہ کچھ دیا ہی نہیں ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ووٹ دے کر ان سیاستدانوں کو جتوانے والے لوگ کچھ عرصے بعد انہی کا گِلہ کرتے نظر آتے ہیں اور ناقص نظام ِحکومت کا رونا روتے ہیں۔ جب خود ہی اپنے پیر پہ کلہاڑی مار لی تو زخم کے پیچھے کیا رونا۔

ایک تو پاکستانی عوام بہت بھولی اور معصوم ہے۔ چاہے کتنی ہی ظلم و زیادتی کا سامنا نہ کرے چاہے جتنی ہی مہنگائی یا ٹیکس کیوں نہ بڑھایا جائے اگلی حکومت تک عوام ان سب کو بھول کر نئے امید کے ساتھ ان کا استقبال کرتی نظر آتی ہے۔

آج عوام اپنی طاقت بھول چکی ہے اپنے ماضی کے کارناموں کو بھلا چکی ابراہم لنکن اور فرینچ انقلاب سے لے کر بشرالاسد اور معمر قذافی کا تختہ الٹنے تک عوام کا ہی کارنامہ تھا، پھر یہ کرپٹ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی کیا حیثیت جو عوام کو گمراہ سکے۔ ویسے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جیسی عوام ہوگی ویسے حکمران ان پر مسلط کر دیا جائے گا۔

آزمائے ہوئے کو آزمانا بےوقوفی کی علامت ہے۔ اب ذرا ہوش کے ناخن لے کر ان کرپٹ لٹیروں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں ان حکمرانوں کو ووٹ دینا بند کرنا ہوگا اور جو حکمران حکومت میں آئے گا وہ احتساب کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر عوام کو جوابدہ ہوگا۔ قانون سے استثنیٰ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے. جتنی کرپشن ہوئی ہے سارا کا سارا پیسہ عوام کو لوٹانا ہوگا. اور عوام کے لیے سب سے ضروی ہے کہ اس یک طرفہ اور ناانصافی والی سوچ پر مبنی سپورٹ کو چھوڑ کر حق کا ساتھ دینا ہوگا تبھی ہمارا ملک صحیح معنوں میں ترقی کر پائے گا۔

Facebook Comments
(Visited 14 times, 1 visits today)

متعلق ندیم کاشف یلانزئی