مرکزی صفحہ / مباحث / پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی خطرناک صورت حال

پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی خطرناک صورت حال

ابصار فاطمہ، سکھر
ماہر نفسیات
ممبر ینگ وومین رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر

”میرا بس چلے تو میں اسے تکلیفیں دے دے کر ماروں” بھنچی ہوئی مٹھیاں اور جذبات سے سرخ چہرا لیے یہ بات کہنے والا کوئی عادی مجرم نہیں۔ یہ جذبات ہمارے معصوم بچوں کے ہیں جنہیں ان کی معصومیت اور کمزوری کا فائدہ اٹھا کر روز کچلا جاتا ہے۔ اپنی مکروہ خواہشات کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ ڈرے سہمے کانپتے جسموں کے اندر ان کے دل نفرت اور تکلیف سے بھرے ہوتے ہیں۔ راتیں نیند سے بیگانہ اور دن بے فکری کے مزے سے عاری۔ ان کی نیندیں ہمیشہ کے لیے اس ظلم کے حصار میں آ جاتی ہیں جس نے ان کا بچپن اجاڑا ہوتا ہے۔

کیا آپ کو پتہ ہے ہمارے ملک کے اخباروں کے اندرونی صفحات روز ایسے کئی دلخراش واقعات سے ”مزین” ہوتے ہیں؟ ’’ساحل‘‘ نون پرافٹ آرگنائزیشن ہے جو کہ 1997 سے پاکستان میں بچوں پہ ہونے والے جنسی تشدد کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ ساحل ہر سال ” کروئل نمبرز یعنی ظالم اعداد” کے نام سے ایک رپورٹ شائع کرتا ہے جس میں پاکستان میں ہر سال1 ماہ سے 18 سال تک بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی تعداد اور تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ یہ تفصیلات اخبار میں چھپنے والے واقعات، پولیس اسٹیشنز میں رپورٹ ہونے والے کیسز اور براہ راست ساحل سے رابطہ کرنے والے کیسز سے حاصل کی جاتی ہیں۔

ہم بہت پیچھے نہ جائیں بلکہ اگر صرف 2010 کی رپورٹ سے ہی ابتدا کریں تو اس سال مجموعی طور پہ بچوں سے جنسی زیادتی کے 2252 کیسز رپورٹ ہوئے، سال 2011 میں یہ تعداد بڑھ کر 2303 ہوگئی، سال 2012 میں 2788، سال 2013 میں 3002، سال 2014 میں 3508، سال 2015 میں 3768 جبکہ سال 2016 میں مجموعی طور پہ 4139 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اس مسئلے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اصل کیسز اس سے کہیں زیادہ ہیں جو لوگ برادری اور معاشرے کے خوف سے چھپا لیتے ہیں اور متاثرہ فرد اور خاندان کبھی انصاف حاصل نہیں کر پاتے۔ ہر سال شائع ہونے والی یہ رپورٹ کچھ ایسے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے جو ہماری بہت سی خطرناک خوش فہمیوں کو چند لمحوں میں ختم کر دیتی ہے۔ ہماری سب سے بڑی خوش فہمی یا غلط فہمی یہ کہ صرف لڑکیاں اور وہ بھی جوان لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار ہو سکتی ہیں جبکہ 2016 کی رپورٹ کے مطابق 4139 کیسز میں سے 1729 کیسز لڑکوں کے ہیں۔ یعنی کوئی 40% سے زیادہ۔ بد فعلی یا زیادتی کے بعد تقریبا 53 بچے قتل کر دیے گئے جن میں سے 28 لڑکے تھے۔

عمر کے حوالے سے دیکھا جائے تو لگ بھگ 1000 بچے 0 سے 10 سال کی عمر کے ہیں جنہیں کسی بھی قسم کی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اگر ہم 15 سال تک اس عمر کے دائرے کو بڑھا دیں تو تعداد 2000 سے تجاوز کر جاتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں روز 11 سے زائد بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں ایک اور خطرناک حقیقت کی طرف اور وہ ہے ”مجرم”۔ ہم بچوں کو اجنبیوں سے بچنا سکھاتے رہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ بچے اپنے گھر میں سب سے زیادہ محفوظ ہیں جبکہ ہمارے بہت قریبی لوگ انہیں اپنے ہی گھر میں نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال ہونے والے کیسز میں 1765 مجرم واقف کار تھے یعنی بچے کسی نہ کسی حوالے سے انہیں جانتے تھے۔ 594 کیسز میں بچے کو بچے کے اپنے گھر میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ زیادتی کرنے والوں میں رشتہ دار، محلے دار، اساتذہ، مولوی، دکاندار وغیرہ بھی شامل ہیں۔ تقریبا 65 مجرم بچوں کے محرم تھے جن میں سگا باپ بھی شامل ہے۔

ان واقعات میں زیادہ تر واقعات کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے یعنی تقریبا 76% بچوں کا تعلق گاوں سے ہوتا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شہروں میں بچے گاوں کے بچوں سے زیادہ محفوظ ہیں۔ آیئے اعداد و شمار کے بعد اب ذرا پاکستان میں جنسی زیادتی کے قوانین، جرم کی وجوہات اور اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ بچوں سے جنسی زیادتی بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے کے مطابق جرم ہے اور پاکستان اس معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے کے آرٹیکل نمبر 34 کے مطابق ہر قسم کی بدسلوکی اور بے حرمتی سے بچاو بچے کا حق ہے۔ اس کے باوجود پچھلے سال تک بچوں سے جنسی زیادتی کے بارے میں کوئی واضح قانون موجود نہیں تھا۔

قصور کے ایک دیہی علاقے حسین خان والا میں ہونے والے واقعہ نے اصولآ پوری قوم کو ہلا کر رکھ دینا چاہیے تھا، جہاں 300 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور ان کی فحش وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پہ بیچی گئیں۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ اس کے بعد بھی بچوں کے لیے حالات یہی ہیں۔ پاکستانی قانون کے مطابق انہیں صرف جنسی زیادتی کی سزا مل سکتی تھی جو کہ زیادہ سے زیادہ 7 سال قید ہے۔ اس کیس کو مدنظر رکھتے ہوئے 2016 میں نیا قانون بنایا گیا جس کے مطابق بچوں کو جنسی طور پہ ہراساں کرنا انہیں کسی بھی قسم کی فحش نگاری کے لیے استعمال کرنا یا انہیں عریانیت دکھانا جرم ہے جس کی سزا 7 سال قید اور 70 ہزار تک کا جرمانہ قرار دی گئی۔

دیکھنے میں یہ قدم خوش آئیند لگتا ہے مگر ہمارے ملک کے مسائل اس سے کہیں پیچیدہ ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے جنسی زیادتی کے کیسز میں سے شاید صرف 10 فیصد کورٹ تک پہنچتے ہیں اور شاید ان دس فیصد کے بھی دس فیصد کا فیصلہ ہو پاتا ہے جب کہ زیادہ تر کا فیصلہ جرگہ میں کیا جاتا ہے۔ والدین کی رضامندی سے یا دھمکیاں دے کر رضامند کروا کر۔ ایک بچے کی عزت اور زندگی کا فیصلہ عمومآ ایک یا دو من گندم یا چند لاکھ روپے پہ کر دیا جاتا ہے۔ یا پھر عوض میں متاثرہ گھرانے کو مجرم کے گھر کی کوئی بچی دے دی جاتی ہے۔ بہت سے افراد بہت کھلے الفاظ میں کہہ دیتے ہیں کہ اگر ان کے بچے کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو وہ نہ زیادتی کرنے والے کو چھوڑیں گے نا زیادتی سہنے والے کو۔ یہی ان کا انصاف ہے۔

اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات ہمیں یہ سمجھنی چاہیے کہ بچے کی زندگی اس واقعے سے خراب نہیں ہوتی بلکہ اس سے منسلک ہماری منفی سوچ بچے کو مسلسل احساسِ گناہ میں مبتلا کرتی ہے۔ اگر ہر شخص بچے کو احساس دلائے کہ غلطی مجرم کی ہے تو ہم بہت جلد بچے کو ذہنی صدمے سے نکال سکتے ہیں۔

دوسری بات بچوں کو اتنا اعتماد دیں کہ اگر کوئی شخص بچوں کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کرے تو بچہ فورا اپنے بڑوں کو بلا جھجھک بتا سکے۔ بچہ یا بچی کسی بھی مرحلے پہ آپ کو مسئلہ بتا رہے ہیں تو انہیں سب سے پہلے یہ بات کہیں کہ آپ نے یہ سب بتا کر بہت بہادری کا کام کیا ہے اور اگر کوئی آپ کو تنگ کر رہا ہے تو وہ غلط ہے آپ نہیں ہم آپ کا مکمل ساتھ دیں گے۔

بچے جسمانی طور پہ کمزور ہیں اور آسان شکار ہیں مگر ہم انہیں جذباتی طور پہ زیادہ کمزور کر دیتے ہیں خود سے الگ کر کے اوران پہ اعتبارنہ کر کے۔ یاد رکھیں بچے جنسی نوعیت کی کہانی کبھی بھی جھوٹی نہیں بنا سکتے اگر آپ کا بچہ یا بچی کوئی فحش بات کرہا ہے تو یقیناً کوئی بڑا اسے یہ سب کچھ بتا رہا ہے۔ کسی غیر کے لیئے اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پہ نہ لگائیں۔

Facebook Comments
(Visited 82 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔