مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / کب صبح ہوگی، کب سویرا ہوگا؟!!

کب صبح ہوگی، کب سویرا ہوگا؟!!

محمد خان داؤد

پنجاب کے کسی صوفی شاعر نے دل کے لیے لکھا ہے کہ،

دل کیہ کردا کچھ سمجھ نہ آوے
رُکدیاں رُکدیاں تھڑ تھڑ دھڑکے
تھڑ کدیاں رُک جاوے!

دل کیا کرتا ہے،کچھ سمجھ نہیں آتا
رُک رُک کے دھڑکنے لگتا ہے
دھڑکتے دھڑکتے رُک جاتا ہے!

پر اُس کا تو دل دھڑک رہا تھا جو آج سے ٹھیک چھ ماہ پہلے سفید وردی میں ملبوس بلوچستان کے کوئٹہ کی ایک اُداس سڑک پر اپنی زمہ داری انجام دے رہا تھا۔ اور دوڑتی گاڑی میں مست ایم پی اے نے اُس پر اپنی قیمتی گاڑی ایسے دوڑا دی جیسے اسپین میں بُل فائٹنگ کے دوران وہ وہ بیل اُن لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں جو اس کھیل کے حصے دار ہوتے ہیں۔ پر وہ پولیس کانسٹیبل تو کسی کھیل کا کوئی شریک دار نہیں تھا اور نہ ہی وہ گاڑی کوئی بیل تھا جو وہ اس پولیس والے کو اپنے سینگوں سے دور پھیکے گا تو وہ پھر دوبارہ ہنستا اپنے کپڑے جھاڑتا اُٹھ کھڑا ہوگا!

نہیں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ اس عطا محمد کے سینے میں ایک دل دھڑک رہا تھا جو اس تیز گاڑی کے ٹکر سے بند ہوگیا، ایسے جیسے پنجاب کے صوفی نے کہا کہ،

تھڑکدیاں رُک جاوے!
دھڑکتا دل! رُک جائے!

وہ پولیس کانسٹیبل گاڑی کے چڑھ دوڑنے سے اس خالی سڑک پر ایسے چپک گیا تھا کہ جیسے بچے اپنے گال پر رنگین اسٹیکر چسپاں کرتے ہیں۔ وہ اسٹیکر کافی دیر تک ان کے گالوں پر چسپاں رہتا ہے اور وہ مزے میں رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح وہ ٹریفک وارڈن عطا محمد اس سڑک پر ایک اسٹیکر بن کر چسپاں رہا۔ کیا اس کے ایسے اسٹیکر بن جانے سے اس کے وہ بچے خوش ہوئے ہوں گے جو اپنے بابا کا انتظار کر رہے تھے کہ بابا آئے گا اور وہ اس بابا سے فرمائیش کریں گے کہ، اُنہیں وہ بھی چاہیے اُنہیں یہ بھی چاہیے! پر وہ معصوم بچے تو یہ بات نہیں جانتے تھے کہ کہ امیر زادے نے ان کے بابا کو اپنی قیمتی گاڑی سے ایسے روندا ہے جیسے اسپین میں بیل اُن لوگوں کو بھی روندتے ہیں جو کھیل تماشے کا حصہ ہوتے ہیں۔

عطا محمد کی سفید وردی خونِ ناحق سے لال ہوگئی اور ایم پی ایم مجید اچکزئی نے رُک کر بھی نہیں دیکھا کہ اس کی گاڑی سے کون روندا گیا ہے۔ حالاں کہ اُسے روندا بھی نہیں گیا تھا بلکہ اسے ایسے ہٹ کیا گیا تھا جیسے اکثر فلموں میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی ولن کسی ہیرو کو ہٹ کرتا ہے اور ہیرو کئی میٹر تک ہوا میں اُڑتا جاتا ہے۔ مجید اچکزئی نہیں رُکا۔ پر عطا محمد کا دل رُک گیا جو پہلے سینے میں دھڑک رہا تھا۔

دل کیہ کردا کچھ سمجھ نہ آوے
رُکدیا رُکدیا تھڑ تھڑ دھڑکے
تھڑ کدیاں رُک جاوے!

وہ مست ایم پی اے تو مان ہی نہیں رہا تھا کہ وہ آج اپنی گاڑی سے کسی کو ہٹ کر آیا ہے۔ پر شہر میں موجود سی سی ٹی وی کیمرہ نے دکھایا دیا کہ جو پہلے سفید وردی میں ملبوس اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا۔ اور اب اُسے سفید کفن پہنا کر پنجاب روانا کیا جا رہا ہے، اُس کی وردی لہو رنگ میں کیسے آئی؟!!

مجید اچکزئی قانون کی گرفت میں آ گیا۔ اُسے جیل بھیجا گیا، یہ منظر ہم نے بھی دیکھا کہ جب موصوف جیل کے مہمان ٹھہرے تھے تو گرمیاں تھیں۔ پھر کیسے اس کے چاہنے والے اس کی بیرک میں ٹھنڈے ایئر کولر کا انتظام کر رہے تھے۔

اور دور پنجاب کے کسی گاؤں میں وہ سکھی اپنے پیا کو یاد کر کے آہیں بھر رہی تھی جو اب بیوہ بن چکی تھی۔ وہ سکھی اپنی آہوں میں، اپنے پیا کو ایسے یاد کر رہی تھی کہ جیسے قطب شاہ نے اپنا دکھ بیان کیا تھا کہ،

پیا باج پیالا پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
کہے ہیں پیا بن صبوری کروں
کہا جائے اما کیا جائے نا

محبوب کے بغیر پیالا نہیں پایا جا رہا،محبوب کے بغیر تل جتنا بھی وقت نہیں گزرا جا رہا،کہتے ہیں محبوب کے بغیر صبر کرو،کہنا تو بہت آسان ہے، پر صبر کرنا! بہت مشکل ہے!!

عطا محمد پنجاب کی کلراٹی مٹی میں دفن ہو کر اب تو ایک خواب بن چکا ہے۔ جسے کبھی اس کی چھوٹی بیٹی دیکھتی ہے کہ وہ اس کے لیے کھلونے لا رہا ہے۔ک بھی وہ بوڑھا والد دیکھتا ہے کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑے اس اسپتال لے جا رہا ہے۔ اور کبھی وہ سکھی اپنے پیا کو دیکھتی ہے جو اس سے بہت محبت کرتی تھی۔

پر جب اُن سب کی خوابوں سے آنکھیں کھلتی ہیں تو ان کے سامنے کیا ہوتا ہے؟!: ماتم، رنج، اُداسی!

اس ملک میں انصاف کے سب تقاضے پورے ہوتے ہیں پر انصاف نہیں ملتا، اس ملک میں غریبوں کے لیے کوئی وکیل نہیں پر ان امیر زادوں کے لیے وہ گڑنگ وکیل ہائر کیے جاتے ہیں جن کے نام ہی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں اور غریب کو سوائے پیشیوں کے اور کیا ہاتھ آتا ہے؟!!!

اُن کو تو کوئی سستا اور ناکام وکیل بھی میسر نہیں ہوتا۔ انصاف تو بہت مہنگا ہو چکا ہے جسے بس اب وہ خرید رہے ہیں جو قتل بھی ایسے کرتے ہیں جسے کوئی کرامات کر رہے ہوں۔

کبھی شاہ رخ جتوئی آزاد ہو جاتا ہے اور کبھی وہ مجید اچکزئی ناحق قتل میں بس چھ ماہ ہی جیل میں رہ پاتا ہے۔ وہ بھی ایسے کہ جیسے صاحب کی کوئی سیاسی تربیت ہو رہی تھی۔ اور جب جیل سے آزاد ہوتے ہیں تو پھول نچھاور کیے جاتے ہیں۔ کیا وہ کوئی کمال کر کے لوٹے ہیں جو ان پر پھول نچھاور کیے جا رہے ہیں؟۔

کیا یہ وہ صبح ہے جس کا انتظار تھا؟ یہ ہمارے معاشرے اور سماج کی تنزلی کی آخری حد ہے۔ بھلا اس سے اور یہ سماج کتنا نیچے گرے اور کیا کرے کہ قاتل ہیرو ٹھہرتا ہے اور پھولوں کی پتیوں سے اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔

کیا یہ وہ سحر ہے جس کا انتظار تھا؟!! جس صبح کی سحر میں جمہوریت ننگی کی گئی تھی اور لانگ شوز نے عوام کی گردن مروڑی تھی۔ اگر یہی جمہوریت کی سحر والی صبح ہے تو ایسی سحر والی صبح نہیں چاہیے!

شاہ زیب کی ماں اور عطا محمد کی سکھی جیسی بیوی پوچھ رہی ہیں کہ،
"ظلم اور نا انصاف کی ان کالی سیاہ راتوں کی کب صبح ہوگی اور کب سویرا ہوگا؟!!”

Facebook Comments
(Visited 25 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com