مرکزی صفحہ / بلاگ / وقت یوٹرن نہیں لیتا

وقت یوٹرن نہیں لیتا

عینی نیازی

عر بی کا مقو لہ ہے کہ وقت تلوار کی ما نند ہے، اگر تم نے اسے نہیں کاٹا تو وہ تمھیں کاٹ دے گی۔

بے شک وقت کبھی نہیں تھمتا۔ یہ ایسا وسیلہ ہے جو آپ دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے۔ لیکن یہ وقت کیا ہے؟ محض مہینے، ہفتے، دن، رات کے جمع کا حاصل یعنی 365 دن سال کہلا تا ہے اور اسی ماہ و سال کی گنتی میں جتنے پل ہم نے زندگی سے خوشی کشید کی، خواہ وہ اپنے لیے یا دوسروں کے لیے وہی ہمارا سرمایہ حیات ہے۔

فینکلن کہتا ہے کہ زندگی سے محبت کرتے ہو تو وقت کو ضا ئع نہ کرو، کیوں کہ وقت ہی زندگی ہے لیکن ہم انسان بھی زندگی اپنی شرائط پر جیتے آئے ہیں۔ خواہ کتنا ہی گھاٹا ہو جائے، لاکھ نئے سال پر ہم عہدوپیماں باندھیں، ارادہ کریں کہ وقت کی قدر کریں گے، اب بہت ساری کتابیں پڑھنی ہیں، مستقل مزاجی سے ورزش کرنا، غصہ پہ قابو پانا سیکھنا ہے، قرآن کو تر جمے کے ساتھ پڑھنا و سمجھنا اور کوئی نئی زبان سیکھنے کی کوشش کرنا شامل ہے مگر اس کے ساتھ ہم کچھ نئے امکانات کا بھی اضافہ کر سکتے ہیں تو اس بار ہم سب کیوں نہ کچھ نئے ارادوں نئے عہد کے ساتھ شروع کریں۔ جیسے ہم سو چ لیں کہ اپنے تما م ان ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کی کو شش کریں گے جن کو دیکھتے ہمارے کئی ما ہ وسال گزر گئے۔ وقت ہمارے ہاتھ سے تیزی سے نکلتا جارہا ہے۔ یہا ں بھی طلب اور رسدکا نظام رائج ہے۔ وقت بہت کم اور کام اتنے زیادہ کہ زندگی میں فرصت کے لمحات میسر ہی نہیں۔

اس سال میری کوشش ہو گی کہ میں تمام ان لوگوں سے ملوں جنھیں میں جاگتی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں ان میں الطاف فاطمہ، ڈا کٹر جمیل جالبی اور زاہدہ حنا کے علا وہ ایک لمبی فہرست ہے جن میں میرے دوستوں کے علاوہ وہ عزیز و اقارب بھی شامل ہیں جنھیں ملے زمانے ہو ئے۔ حالاں کہ بچپن میں انہی ہستیوں کا ہاتھ تھامے چلنا سیکھا یا پھر دنیاداری و دین داری سیکھی۔ ہو سکتا ہے ان میں کچھ حیات نہ ہوں مگر جوحیات ہیں ان سے ملا قات تو کی جا سکتی ہے کہ وہ بزرگ بھی تو ہما ری آمد کے منتظر رہتے ہوں گے، مبادا ان کے چلے جانے کے بعد وہ کسک دل میں نہ رہے جو آپ ہم سب ہی محسو س کرتے ہیں۔

ملکی سطح پر پورا سال پانامہ لیکس کے حوالے سے عدلیہ موجودہ وزیراعظم کا احتساب کرتے دکھائی دی اور بالآخر انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب اب تک اپنی غلطی تسلیم کر نے سے انکاری ہیں۔ وزرا کی کارکردگی کے حوالے سے دیکھا جائے تو بدترین سال کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ منتخب ارکان پارلیمینٹ تمام محنت اپنے وزیراعظم کو صادق و امین ثابت کرنے پر صرف کرتے رہے۔ عوام کی فلاح پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔

گز شتہ سالوں کے حالات و واقعات مستقبل کے لیے چیلنج بن کر آتے ہیں۔ ہم ایک قرض میں ڈوبی ہوئی قوم ہیں۔ ہما رے حکمرانوں نے ہم پر اتنا قرض لاد دیا ہے کہ آنے وا لی کئی نسلیں اس کے سود تلے گروی ہو چکی ہیں۔ نوجوان نسل بیروزگا ری، فکری بحران اور احتجاجی مزاج کا شکار ہے۔ سی این جی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عام پا کستانی کو اقتصادی مشکلات کا شکار بنائے رکھا۔ جس کی وجہ سے ملک میں اسٹریٹ کرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ سرکاری محکموں سے عوامی سطح تک بدعنوانی، چوری، رشوت ستانی، سفارش اور کرپشن میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ دہشت گردی، پانامہ لیکس اور دھرنوں کے گورکھ دھندوں میں پورا سال پھنسے رہے۔ رہی سہی کسر سیاسی لیڈروں کے طنز آمیز بیانات اور الزام بازیوں نے پوری کی۔ سب نے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے میں سخت محنت کی۔

بہرحال، ملک کے حالات خواہ کتنے ہی کیو ں نہ خراب ہوں، بحیثت مسلمان ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہر سیاہ رات کے بعد صبح کا اجالا ضرور ہوتا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود عدلیہ اور فوج نے اپنا کردار باحسن و خوبی نبھایا۔ پوری قو م نے متحد ہو کر دہشت گردی سے نمٹنے کا عزم کیا۔ فوج کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت ہم سب پُرامید ہیں کہ نئے سال میں مثبت تبدیلی آنی شروع ہوگی۔ ملک جس کر ائسس سے گزر رہا ہے، اس سے نکل کر اگلے سال کچھ اچھے حالات ہمارے منتظر ہوں گے۔

پوری قوم نے ان ستر سالوں میں گرتے پڑتے بہت سبق سیکھا ہے۔ ہر آنے والے لیڈر نے سبز باغ دکھا کر قوم کی پشت پر وار کیا ہے۔ بس ہم اپنے بروٹس کو شا کی نظروں سے دیکھتے رہ گئے۔ نئے انتخابات ہمارے منتظر ہیں۔ ہو سکتا ہے آنے والا سال ہمارے لیے ایک روشن پا کستان کی ضمانت ہو۔

2018ء کا سورج وقت کی لو ح پر بہت سارے نئے امکانات کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ کیوں کہ وقت کبھی یوٹرن نہیں لیتا، یہ مسلسل آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے۔

Facebook Comments
(Visited 11 times, 1 visits today)

متعلق عینی نیازی

عینی نیازی
کراچی میں مقیم عینی نیازی بیک وقت استاد، کہانی کار، ڈرامہ نویس اور کالم نگار ہیں۔ لکھنے کا شوق ہے ۔ بالخصوص تحقیقی کالم لکھنا اچھا لگتا ہے۔ مختلف ویب سا ئٹس اور اخبارات میں لکھتی ہیں۔ اس وقت ایکسپریس نیوز میں لکھ رہی ہیں۔ Email:ainee.niazi@gmail.com