مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / آؤ اک دعا تحریر کریں!

آؤ اک دعا تحریر کریں!

محمد خان داؤد

پرانا سورج ڈوب رہا ہے
بس اب ڈوب جائے گا
ایسے جیسے کوئی ملاح بچہ
ماں کے ساتھ کھیلتا
ندی میں ڈوب جائے
اور ماں ماتم کرتی رہ جائے!

پرانا سورج پہاڑوں کے دامن میں
دفن ہورہا ہے
دفن ہو جائے گا
ایسے جیسے نامعلوم لوگ، نامعلوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں
اور پھر پہاڑوں کی پیچھے
پہاڑوں کے دامنوں میں دفن کر دیتے ہیں.
یہ سورج بھی پہاڑوں کے دامن میں بس دفن ہوجائے گا!
اور میڈیا ورکر اسے کور کریں گے
اور اپنے آپ کو کوستے رہ جائیں گے کہ
،،وہ رپورٹر کیوں ہیں
وہ اینکر کیوں نہیں؟!!!،،

کل نیا سورج طلوع ہوگا
جسے میڈیا کوریج کرے گا
سردی میں ٹھٹرتے نئے رپورٹر
اسے کور کرنے ساحل پر جائیں گے
اور یہ حسرت نماں سوال ان کے دماغوں میں
ہتھوڑے کی طرح لگتا رہے گا کہ
،،وہ رپورٹر کیوں ہیں
وہ اینکر کیوں نہیں؟!!،،

کل وہ سورج طلوع ہوجائے گا
جو میڈیا اپنے بے سرے راگ میں ہمیں یہ بتاتا رہے گا کہ
،،یہ نیا ہے!،،
جب کہ وہ سورج بھی جانتا ہے کہ بس ہندسہ بدلا ہے
نصیب نہیں!

اس سورج کو آتے دیکھ کر
پنڈک اپنے مندروں سے باہر آئیں گے
اور دعائیں مانگیں گے
پر نمازی گزر جائیں گے
کیوں کہ یہ صدا کے غمگین ہوتے ہیں!!!

آئیے ہم اس نئے پرانے سورج کو
پہاڑوں کے اُوٹ سے
ساحل کے سینے سے نکلتے یہ دعا تحریر کریں

"اے سورج تو سب دیکھ رہا ہے
اور دیکھتا گیا ہے
اور آج بھی دیکھ رہا ہے
اور کل بھی دیکھے گا
تو سُن
اب کے
نہ کسی کا پیٹ بھوکا رہے
نہ کسی کا گھر بارش میں
پانی سے ٹپکے
نہ کوئی گھائل ہو
نہ کسی کے سینے میں گولی اُترے
بس سینے محبت سے ملیں
اور نہ کوئی مرھم کو روئے
نہ کوئی دوا کو ترسے
نہ بچہ کوئی دودھ کو روئے
نہ ماں دُکھ سے آنسو بہائے
نہ دھرتی پر قبریں بنیں
نہ چاند ماتم کرے
گُم شدہ سب مل جائیں

نہ کوئی گھر سے اُٹھے
نہ ماں کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر رہے
نہ کوئی باپ بڑھاپے میں
تھانوں کے چکر لگائے
اور نہ وہ کسی کا گُم شدہ بیٹے کا
کسی سے پتا پوچھے
کوئی خود کشی نہ کرے
پر ہر کوئی طویل زندگی کی دعائیں مانگے

محبت مرھم ہو
محبت دوا ہو
محبت میں دل دھڑکیں
محبت سزا نہ ہو
روٹھے ہوئے لوٹ آئیں
اور ان لبوں پر کبھی یہ گیت سزا بن کر نہ آئے کہ
،،روئیندے عمر نبھائی
یار دی خبر نہ کائی،،،،!!!
نئے پرانے سورج بس اس دعا کو
اپنے ماتھے پر تحریر کودو!!!

Facebook Comments
(Visited 14 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com