زلیخہ

منظور مینگل

اوئے..!!! ہو اوئے….!! چھیتی آؤ چھیتی۔۔ قریباً پانچ فر لانگ کے فاصلے سے ماما دھنی چلا کر ہمیں پکار رہا تھا. رات کے اس پہر ہم ٹیوب ویل کے جنریٹر میں تیل ڈالنے کے لیے گھر سے نکلے تھے.گاؤں میں مجھے پانچویں شب تھی کہ خلاف معمول ماموں زاد نے مجھے جگا کر کھیتوں کی طرف چلنے کو کہا. ابھی ہم ٹیوب ویل پر پہنچے ہی تھے کہ ماما کی مغرب سے آتی چیخوں کی طرف دوڑ پڑے. ماما دھنی ماموں جان کے ہاری تھے جو شب وہیں بسر کرتا تھا۔

دوڑتے ہوئے ماموں زاد نے اپنے کارتوس کی بیلٹ مجھے پکڑا دی اور رپیٹر اپنے ہاتھ میں پکڑ لی۔

جب ہم ہانپتے ہوئے ماما کے پاس پہنچے تو وہ بیچارے لرزتے ہوئے کہنے لگے اوئے پتر ادھر آء جانی ادھر ویکھ کسی نیاڑی کی لاش پڑی ہے ادھر. ان کے ٹارچ کے مدھم روشنی میں میں نے جو دیکھا تو یہ دیکھا کہ ایک جوان لڑکی ابھرتی جوانی کی سرخی سے بے خبر، لباس کے بوجھ دے بےپرواہ، دوپٹے کے جھنجھٹ سے عاری اوندھے منہ لیٹے ہوئی تھی،میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا. ماما دھنی مجھے محتاط کرنے لگے کہ پتر خیال نال، ہتھ نہ لاویں کڑی نوں، جب میں نے اس کے بالوں میں چھپی چہرے کو دیکھا تو پیچھے ہو لیا اور ہڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا. ارے ماما، یہ تو زلیخہ ہے زلیخہ۔۔۔۔ماموں زاد بھی پریشان ہو گیا کہ میں اس لڑکی کو کیسے پہچانتا ہوں۔۔۔۔

اوۓ جانی۔۔تو پہچانتا ہے اسے،ارے ہاں ماما۔۔۔تو پہلے بڑے ماموں کو فون کر چھیتی کر کہ اتھے سانوں اک لاش ملی ئے کسے کڑی دی۔۔۔!

ماموں دھنی کے من میں چبھتا ہوا سوال آخر ان کے زبان پر آ ہی گیا۔۔ مجھ سے کہنے لگے اوئے پتر تو دس مینو اے کڑی ہئے کون میں اینو پہلے کدی ویکھیا نہیں پنڈ اچ،….۔۔ ماما یہ زلیخہ ہے زلیخہ اور میں اپنے ذہن میں خیالات کے الجھے ڈور کو سلجھاتے ہوئے زلیخہ کی اس زلیخہ کی جو میرے خیالوں میں میرے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے بول رہی تھی بھا جی ! دس روپے دے دو.. اللہ کے نام پہ دس روپے دے دو۔۔۔۔۔۔۔

میں ایک ماہ قبل ماموں کے ساتھ ان کے بیٹے کی شادی کی شاپنگ کرنے کے لیئے ان کے ساتھ قمبر شہر کی پتلی گلی میں واقع سیٹھ سری داس کے کپڑے کے دکان پہ بیٹھا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کوئی میرے کندھے کو ہلا رہا ہو. میں نے نظریں گھمائی تو میرے سامنے ایک حسین لڑکی کھڑی تھی. جھالری پلکیں، سرخی مائل رخسار، سبز آنکھیں اور ہونٹ جیسے عرق گلاب سے دھلے ہوئے یاقوت، اتنی حسین و نوخیز لڑکی دیکھ کر میرے اوسان ایسے خطا ہوئے کہ میں شہر اور لوگوں کی موجودگی کا پرواہ کیے بغیر ذہن میں اس کی موجود نقوش پر بار بار قلم پھیرنے لگا. لیکن اس پراسراریت کو اس کے الفاظ نے توڑا کہ بھا جی !! ١٠ روپے دے دو اللہ کے نام پر ١٠ روپے۔۔۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ایسی نظروں کا بوجھ اٹھانا اس کے روز کا معمول کا ہوگا تبھی تو وہ شرمانے کی بےوجہ اداکاری نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔ ماموں بڑے سخت طبیعت کے مالک ہیں. اپنے سوا فٹے پیشانی پر پتلی کمر سی تین بل ڈال کر کہنے لگے چل جا چھوری معاف کر. میں نے ماموں کو منع کیا تو مجھے گھور کر سیٹھ سے مخاطب ہوئے.

میں نے اس سے اس کا نام پوچھا تو کہنے لگی زلیخہ، میں نے کہا اس میں شک نہیں تو وہ پریشان سی پوچھنے لگی کیا مطلب بھا جی…!! میں بھی سادہ سا بن کے کہنے لگا کچھ نہیں۔۔۔آخر تم بھیک کیوں مانگتی ہوں۔۔۔؟؟اتنی حسین ہوتے ہوئے اور اتنا سج دھج کے۔۔۔

بھا جی،!! میں اپڑی اماں کے ساتھ سکھر میں رہتی تھی،مارا سارا خاندان بھیک مانگو ہے سکھر میں،لیکن مارا گھر کا صرف ما اور ماری چھوٹی بھینڑ سلائی کرکے کما لیتے تھے، پر جب ماری امڑ مارے کو چھوڑ کے چلی گئی تو اب خالہ ہمیں اپنڑے پاس لائی اور مارے سے بھیک منگواتی ہے پورے بازار میں،
ایک بےوزن سا سوال کیا میں نے اس سے،،،کیا تمہیں یہ سب اچھا لگتا ہے؟
بھا جی!یہاں شہر کے تمام سانڈے جیسے مرد مارے کو آنکھیں ناک تک نکال کر مارے جسم کو گھورتے ہیں. ویسے تو ہمیں بھیل اور اچھوت کہتے ہیں لیکن مارے جسم کے لالچ میں ہمیں اپنے دکانوں میں صرف جسم کا سودا کروانے کیلئے گھسنے دیتے ہیں،۔۔۔۔

ویسے تو ہم سے ہاتھ نہیں ملاتے لیکن جب ان کی شہوت آسمان کو چھونے لگتی ہے تو سب کے سب ہمارے جسم کو نوچنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں.

میں چپ بیٹھے اسے تکے اور سنے جارہا تھا. چلو بھر پانی کا پوچھ کر اس میں ڈوب کر مرنا چاہ رہا تھا. میں بھی اک مرد ہوں میرا جسم بھی جسم کا پیاسا تھا. آنکھیں بھی پیاس کی شدت سے شباب کے جام کو گھوری جا رہی تھیں۔۔۔۔۔ لیکن اس کی باتوں نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔۔ وہ ایک عورت تھی جو نظروں کے بوجھ تلے صبح سے شام تک بھوکی نظروں کے سامنے پھرتی تھی۔

اوئے جانی کہاں کھو گئے پتر۔۔۔ ماموں والے آرہے ہیں پولیس سی وین بھی نال ہے ان کے۔۔۔۔۔

جی جی ماما ! میں سوچوں کے بھنور سے نکل کر ہڑبڑاتے ہوئے بولا جی ماما یہ زلیخہ ہے زلیخہ۔۔۔۔

ایسی کئی زلیخائیں، مردوں کے راتوں کا سامان بنتی ہیں اور وہ اپنی پیاس بجھا کر انہیں ملک الموت کے ہاتھ اوپر کو بھیج دیتے ہیں….

پولیس نے زلیخہ کی برہنہ لاش کو وین میں ڈال کر لاڑکانہ پوسٹ مارٹم کیلئے روانہ کردی اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں زلیخہ چانڈکا میں سرجری کے ٹیبل پہ دراز نظروں کے بوجھ تلے سہمی ہوئی ہوگی.

Facebook Comments
(Visited 25 times, 1 visits today)

متعلق منظور مینگل

منظور مینگل
جعفرآباد کے نوجوان طالب علم منظور مینگل لاہور میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پڑھنا اور لکھنا ان کا دل پسند مشغلہ ہے۔ Email: manzoorh328@gmail.com