مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / شاہزیب کا ماں کے نام خط!!!

شاہزیب کا ماں کے نام خط!!!

محمد خان داؤد

پیاری امی جان!
میں کوئی ادیب نہیں، نہ دانشور ہوں۔ میں تو گھر میں آئے اخبار تک نہیں پڑھتا تھا۔
ماں میں نے تو کبھی زندگی میں،، مرزا غالب کے خطوط ،،بھی نہیں پڑھے،اور نہ مولانا آزاد کی،،غُبارِ خاطر!،،

ماں میں تو زندگی میں آپ کے دامن سے چپٹا رہا،یا گٹار بجا تا رہا۔
اچھا امی!میرا گٹار صحیح سلامت تو ہے نہ ؟! اُس کے تاریں تو باقی ہیں نہ؟!!
امی! وہ بھی کیا دن تھے. میں آپ سے ضد کرتا۔ آپ ابو سے کہتی وہ شریف آدمی میری ضد کے آگے کمزور دکھائی دیتے اور وہ وہ چیزیں مجھے مل جاتیں۔

پر وہی باپ اب کتنا کمزور ہو چکا ہے ۔جس کے دل کی کیفیت شاید آپ بھی نہ جان پائیں۔ پر میں یہاں بھی جان سکتا ہوں کہ وہ باپ جو میری ہر ضد پوری کرتا تھا۔آج میرے قاتل کو معاف کر کے کتنا روتا ہے۔ جب ساری خلق سوجاتی ہے۔

امی!
مجھے لکھنا نہیں آتا۔پر پھر بھی آپ کے لیے کچھ لکھ رہا ہوں۔
امی! یہ امیروں کی دنیا ہے۔ یہ سرمائے کی دنیا ہے۔ یہ پیسوں اور روپیوں کی دنیا ہے۔
امی!یہ انسان کی دنیا نہیں ہے۔ انسانیت تو پیسے میں لپٹی وہ لاش ہے جو کب کی دفن ہو چکی۔

امی! ہم جیسے لوگ اس دنیا میں اس لیے ہیں کہ ان کی بیٹیاں جوان ہوں اور پھر یہ سرمائے دار یہ امیر لوگ ان کے ساتھ جو مرضی آئے کرتے پھریں. اور جب کوئی مجھ جیسا اُن وڈیروں کا ہاتھ روکے تو ننگی گولیاں اُس کا مقدر بنے۔

امی!میں نے بھی تو شارخ جتوئی کو بس منع کیا تھا۔
اور اُس امیر زادے نے اپنے جدید ہتھیار کی سب گولیاں میرے سینے میں اتار دیں جس سینے پر بُلیٹ پروف جیکٹ تو کیا ہوتی ۔پر سردی میں سُوئیٹر تک نہیں تھا۔
امی!اس دنیا میں انصاف بس کتابوں میں بند ہے۔ کتابیں بک شیلفوں میں بند ہیں۔اور وہ کتابیں خاک آلود ہیں۔

امی!یہاں سستا انصاف امیر کے نام اور مہنگا انصاف مجھ جیسوں کے نام ہے۔
جو کبھی نہیں ملتا۔ اور ملے بھی کیوں ہم تو یہاں بس مرنے رونے اور پھر احتجاج کرنے کو ہیں۔

امی! اس بوڑھے کو کوئی الزام نہ دیں۔ جو میرا باپ ہے۔ وہ کیا کرے وہ تو بہت غریب ہے۔ وہ بیچارہ تو اب اپنا کچن بھی پنشن سے چلا رہا ہے۔ وہ جتوئی بہت امیر ہے۔ جو ہم نے کبھی زندگی میں نہیں کھایا وہ اُس کے کمدار اور کتے کھاتے ہیں.

امی!اس کے پاس بہت پیسے ہیں۔ اور ابو سو روپے بچانے کے لیے رکشا میں نہیں بیٹھتے۔ پر وہ بیچارے پیدل چلتے ہیں۔ امی! وہ جتوئی سندھ کا وڈیرا ہے۔اور ابو ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار۔
امی!ایسے پولیس والے تو اُس جتوئی کے جوتے صاف کرتے ہیں۔امی آپ جانتی ہیں آئی جی رینک کے افسر بھی اُن وڈیروں کے اوطاقوں پر حاضری دیتے دیکھے گئے ہیں۔

امی! اس جتوئی کے سندھ، اس ملک اور باہر کئی گھر ہیں۔ اور اُس بوڑھے کا وہی ایک گھر! وہی ایک درر! وہی ایک کام! وہی ایک نام! وہی ایک پہچان!
پولیس والا، اور اب وہ بھی ریٹائرڈ!!!

پر امی! وہ جتوئی اس کا ایک کام نہیں ایک گھر نہیں ان گھروں کے ایک در نہیں۔ ان کی ایک پہچان نہیں۔ ان کی پہچان کے کئی زاویے ہیں۔ وہ میڈیا ہاؤسز کے مالک، بزنیس میں، ایلیٹ کلاس، نوبل مین، اور جب پانی اُن کے سروں پر سے گزرتا ہے تو یہی وڈیرے سیاست دان بن جاتے ہیں۔ اور اسمبلی میں آکر قانون کا منہ کالا کرتے ہیں۔

امی! آپ اُس بوڑھے کو کوئی الزام نہ دیں جو میرا باپ ہونے کی سزا میں جی رہا ہے!

امی!آپ جا نتی ہیں!!!! اُس جتوئی نے اپنا ایک میڈیا نیٹ ورک بھی بنا رکھا ہے ۔ جو سندھ میں رہ کر مظلومیت کی تو بات کرتا ہے۔ پر اس میڈیا نیٹ ورک پر مجھے ایک بار بھی مظلوم نہیں دکھایا گیا۔

جب بھی بات ہوئی شاہ رُخ جتوئی کی بات ہوئی۔ اُس کی آزادی کی بات ہوئی۔ اُس کی بے گناہی کی بات ہوئی۔ پر اُس میڈیا نیٹ ورک نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ
،،تم کہاں ہو؟ کس حال میں ہو؟ ابو کہاں ہے کس حال میں ہے ؟!!،،

اُس میڈیا نے اس امیر جتوئی کو دکھایا جس کے پاس بہت پیسے ہیں۔ اور وکلا تو کیا ججز تو کیا وہ تو وہ کتابیں ہی خرید لے جن کتابوں میں قانونی پیچیدگیاں لکھی ہوئی ہیں۔

امی! میں اس ریٹائرڈ پولیس والے کا ایک ہی تو بچہ نہیں تھا۔ وہ بھی کیا کرے۔ اس کے اور بھی دیگر کئی بچے ہیں۔ اگر وہ معاف نہیں کرتا تو وہ امیر جتوئی پھر اُسے معاف نہیں کرتا۔

امی! وہ بوڑھا کیا کرے اس کی اور بھی جوان بیٹاں ہیں۔ وہ کس کس کا ہاتھ روکے اور اگر وہ ہاتھ روکے تو پھر کیا تمہارے پاس اتنے سینے ہیں جن میں وہ ننگی گولیاں اتریں؟!!!
امی!ابو کو معاف کردو۔

جو وہ جانتا ہے تم نہیں جانتیں۔ اور جو میں جانتا ہوں وہ ،وہ نہیں جانتے!
امی!اب میں کبھی نہیں آؤ گا!
امی!
امی!
امی!پلیز آپ سویا کریں جب آپ کو نیند آئے گی ۔ تو خوابوں کے در کُھل جائیں گے. میں آجاؤں گا پھر مجھے کون روکے گا۔ قانون ۔وہ امیر جتوئی۔ یا وہ وکلا جو کئی سالوں تک تو اس امیر زادے کو بچہ ڈیکلیئرڈ کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ کبھی دانت چیک ہوتے اس امیر کے تو کبھی ہڈیاں۔ پر ان ظالموں نے ایک بار میں آپ کی آنکھیں چیک نہیں کیں جن میں اب نیند نہیں اور ایک بار بھی دل چیک نہیں کیا جس میں میں دفن ہوں۔

امی! مجھے کوئی نہیں مار سکتا میں آپ کے ساتھ ہوں۔آپ کی یادوں میں،آپ کی باتوں میں۔آپ میرا جب خیال کریں گی میں حاضر ہو جاؤں گا۔امی! میں آپ کے لیے اپنے گٹار پر آپ کے لیے گیت بھی گاؤں گا۔
امی!پلیز آپ نہیں رویا کریں۔
رونا تو اب مجھے ہے میں آپ کے پاس نہیں۔

امی! میں بہت اُداس ہوں اتنا اُداس کہ پھر مرجانے کو دل کرتا ہے۔ پر میں اب نہیں مروں گا ۔

میں آپ کو بار بار بار نہیں ماروں گا۔ میں وہ امیر وڈیرہ نہیں ہوں امی! میں تو شاہزیب ہوں جسے آپ نے جب پہلی بار تیار کر کے اسکول بیجھا تھا تو خالی گھر دیکھ کر آپ پورا دن اداس رہیں تھیں۔ کہ جب تک میں آ نہیں گیا۔ تو اب آپ کی کیا حالت ہوگی؟میں جانتا ہوں۔

امی! میں اتنا اداس ہوں جتنے یہ الفاظ کہ
،،آج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اُداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں!،،
امی! میں گزری کے قبرستان میں دفن ہوں۔پلیز اب مجھے اپنے دل میں بھی دفن کردیں اور نہ رویا کریں

امی!امی!
بس ایک حسرت ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ
،،کوئی خبر نہیں پر مرنے کے بعد
آپ سے ملنے کی حسرتیں رہیں گی!!!،،
امی!امی!
پہلے ہم ایسے تھے کہ
جیسے مکئی کے دانے !
جو ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں
پر جب اُن دانوں کو جدا کیا جاتا ہے
پھر وہ اپنی اصل حالت میں کبھی نہیں رہ سکتے
اور نہ ایک دوسرے سے کبھی مل پاتے ہیں۔

امی! اب ہماری بھی ایسی ہی حالت ہے۔ امی! میرے گٹار کا خیال رکھنا۔ ابو کا خیال رکھنا۔ اسے بُرا بھلا نہیں کہنا جو وہ جانتے ہیں آپ نہیں جانتی۔

امی! پیاری امی! آپ بہت یاد آتی ہیں۔ پلیز رونا نہیں مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ اور آپ کے آنسو بھی کوئی نہیں صاف کرتا۔
اچھا اجازت لیتا ہوں۔
آپ کا مقتول بیٹا
شاہزیب
قبر نمبر ۱۱۰۲
مین گزری قبرستان کراچی

Facebook Comments
(Visited 13 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com