مرکزی صفحہ / مباحث / نوجواں نسل اور چند تلخ حقائق

نوجواں نسل اور چند تلخ حقائق

فہد عبدالعزیز بلوچ

ہر ریاست نوجواں نسل کی توانائیوں سے بے تحاشہ فائدہ اٹھاتی ہے۔ جن ریاستوں میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، وہ اپنے مقدر پر ناز کرتی ہیں۔ اور نوجوان نسل کو ایک راہ پر گامزن رکھنے کی تدابیر کرتی رہتی ہیں۔ ریاست کے عسکری شعبے سے لے کر زراعت تک ہر جگہ نوجوانوں کا کردار نظر آتا ہے۔

نوجوان نسل آگ کے شعلوں کی طرح ہوتی ہے، جو پلک جھپکنے میں دشوار گزار منزلوں کی راہیں ہموار کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس اگر محدود فوائد حاصل کرنے تک نوجوانوں کو استعمال کیا جائے تو پھر معاشرے میں مایوسیاں، جرائم، جھوٹ و فریب جیسے مسائل جنم لیتے ہیں جو ترقی اور فلاح کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے رہتے ہیں۔

نوجواں نسل کے بیکار ہونے سے معاشرے میں معاشی انحصاری (Economic dependency) بڑھ جاتی ہے۔ جوائنٹ فیملی (Joint Family system) میں ترقی کی رفتار کم پڑ جاتی ہے۔ دنیا، جدت (Modernization) کی طرف رواں داواں ہے۔ بے روزگاری، اس راہ میں بڑی رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ اگر روزگار دستیاب ہو جائے، تو اسی ماہ سے آمدنی اور اخراجات کا نظام شروع ہوتا ہے، صوبے اور ریاست کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ معاشرے میں بچت (Saving) کا رواج بڑھ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ بچت فرد کی بچت ہے۔ جس میں بینک کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ جب بچت ہونا شروع ہو جائے، تو انوسٹمنٹ کے مواقع دستیاب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر روزگار کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ ریاست کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں اور آمدنی بڑھ جاتی ہے۔

نوجوان نسل بیکار ہو جائے، تو پہلا نقصان معاشی انحصاری (Economic dependency) کی شرح بڑھ جانے سے ہوتا ہے۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ اگر کوئی نوجوان ایک سال بیکار رہے، تو ایک سال کی ترقی کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ تیسرا نقصان یہ کہ بے کار زندگی گزارنے کی وجہ سے نوجوان کاہل بن جاتا ہے اگر وہ شخص باروزگار بن جائے، تو سستی اور کاہلی کی وجہ سے کام کو بڑے ہی دیر سے انجام دیتا ہے۔ معاشرے میں مایوسی کی فضا بن جاتی ہے۔ اُسے جو چیز پڑھائی گئی ہے اور جو عملی زندگی (practical life) میں دیکھتا ہے اس کے درمیان میں ایک خلا نظر آتا ہے۔ اور پھر یہ مایوسی بعض دفعہ تعیلم حاصل کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جو ناخواندگی کی شرح کو بڑھا دیتا ہے۔ بے روزگاری اور ساتھ میں نوجواں نسل خود کو صرف موبائل پیکجز مصروف رکھتی ہے، لیکن یہ اپنا نقصان ہے۔

عرب معاشرے میں ایک رسم تھی کہ 40 سال والے شخص کو عاقل، بالغ اور اپنے بھلے اور بُرے میں فرق کرنے والا سمجھا جاتا تھا۔ ابو جہل واحد شخص تھا، جو 22 سے 24 سال کے درمیان اپنے قبیلے کا سردار بنا۔ لیکن ابوجہل حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ باقی جو صلاحیتیں تھیں، اُس کو ہر قبیلے کا سردار مانتا تھا۔ دوسرا فرد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہیں، جن کی عمر 27 سال تھی، اور اسلام کی عزت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ سے اسلام کی خاطر ان کی مدد طلب کرتے ہیں۔ تیسرا شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ ہے، جو 26 سے 27 سال کے ہوتے ہوئے پہلے غزوہ میں شامل ہوتے ہیں۔ اور کم عمری میں خیبر فتح کرتے ہیں۔ آج کے معاشرے میں بمشکل ہی کوئی اس عمر میں کوئی اہم کام سرانجام دے۔ اگر ہم لوگ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے اس دور میں زیادہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو ترقی کے اس دور میں رفتار بہت ہی سست ہو گی۔ مستقبل میں جو پچھتاوے کا باعث بنے گی۔

مشہور قصہ ہے کہ ایک شخص عباسی خلیفہ کے دور میں اپنا ہنر دکھانے آیا، جس کا ہنر نرالا تھا کہ سوئی کے سوراخ سے ایک اور سوئی پاس کر دیتا۔ خلیفہ نے جب کرتب دیکھا، تو حکم دیا کہ اس شخص کو انعام دیا جائے اور ساتھ میں کوڑا مارا جائے۔ وہ اس لیے کے اس ہنر کو سیکھتے ہوئے اس نے کافی وقت ضائع کیا ہے۔ اگر یہ وقت کسی اور چیز میں صرف کرتا تو اس کا اُسے کافی فائدہ ہوتا۔

امریکہ شروع شروع میں زراعت اور صنعت والی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ زراعت والی ریاستیں غلام رکھنے کی رسم کو جاری رکھنا چاہتی تھیں، جب کہ صنعت والی ریاستیں غلامی کے عمل کو ختم کرنے کے حق میں تھیں۔ جب 15ویں صدی میں ریاست بنی تو صنعت اور کسان طبقے کے درمیان جنگ ہوئی کہ دونوں کا عدد برابر ہو۔ اس کی وجہ سے امریکہ کافی وقت تک ترقی کی رفتار سے دور رہا۔ جب 1850 کے اوائل میں ابراہم لنکن (Abraham Lincoln) صرف ایک کہانی پڑھنے سے غلامی عمل کے خلاف ہوا تو امریکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ لیکن دوسری ریاستوں کے امور میں دخل دینے کی وجہ سے امریکی نوجواں بے روزگار ہونا شروع ہو گئے۔ کیونکہ روزگار کا جو بجٹ تھا، وہ جنگ لڑنے اور لڑوانے میں چلے گیا اور نوجواں اسٹریٹ کرائمز میں مبتلا ہونا شروع ہو گئے۔

پاکستان میں بھی صنعت کاروں کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کسان اور مزدور طبقے کی پارٹی ہے۔ جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے تو بے روزگاری کی شرح آسمان کو چھوتی ہے، کسان طبقے کی جب فصل تیار ہوتی ہے تو بارڈرز کھول دیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے فصل کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور مانگ نہ ہونے کے برابر آ جاتی ہے۔ مزدور طبقے کی تنخواہ میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس میں بچت کی گنجائش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دوسری طرف جب پی پی پی کی حکومت ہوتی ہے تو روزگار کے مواقع پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کسانوں کو پیکج ملنا شروع ہوتا ہے۔ کسان طبقہ سُکھ کا سانس لیتا ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ ہونا شروع ہوتا ہے۔ نئی کاروباری زندگی جنم لیتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً 13 کروڑ کی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جس کا مطلب ان سیاسی پارٹیز کے اعمال، نوجوان نسل پر زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف ایک نئی پارٹی ہے، جس کا منشور اتنا واضح نہیں کہ نوجوان نسل کو کس سمت میں لے جا سکتی ہے۔

برطانیہ جب چین پر قابض ہوا، تو اُس نے نوجوان نسل کو افیم (Opium) کا عادی بنانا شروع کر دیا۔ جس نے چین کی نوجواں نسل کو کافی نقصان پہنچایا۔ افیم ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر بےروزگار شخص اس کا عادی بن جائے، تو ڈکیتی اور بڑے جرائم کی وارداتیں معاشرے میں جنم لیتی ہیں۔ چین نے دو افیم جنگیں لڑیں۔ برطانیہ افیم کی تجارت کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو تباہ کر رہا تھا۔ چین میں اب تک ورزش بنیادی چیز ہے، جسے چینی شوق سے کرتے ہیں اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے دور رکھنے کا عزم ہے۔

بلوچستان میں بےروزگاری کی شرح موجودہ اتحادی پارٹیز کے دور میں کافی بڑ گئی ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف افسر شاہی پر نہیں بلکہ سیاسی پارٹیز کے منسٹرز پر بھی عائد ہوتی ہے۔ پروٹوکول، چائے اور سگریٹ کا مزہ لیتے ہوئے نوجواں نسل کو 4 سال کے عرصے میں تباہ کر دیا گیا۔ حالاں کہ جب تقریر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نوجوان نسل ہمارے ساتھ ہے۔ پہلی بات کہ نوجواں نسل نائٹ پیکجز میں لگی ہے۔ اس گپ شپ کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے وہ ہر ناجائز راستہ اپناتے ہیں۔ سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نوجوان نسل کو نظریاتی طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ پھر مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے نوجوان نسل کو جنگ و جدل کی طرف دھکیلتے ہیں۔ مری معاہدے نے بعض سیاسی پارٹیوں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کیے رکھا کہ زیادہ سے زیادہ بجٹ لیپس کرنے سے ان کو 5 سال پورے کرنے کا موقع ملے گا۔ بجٹ لیپس ہونے کی وجہ سے ترقی بھی نہیں ہوئی اور نوجوان بے روزگار ہوتے رہے۔

نوجواں نسل میں توانائی کا مادہ ہوتا ہے جو ہر کام کو کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کو ہنر دیا جائے، تو ریاست کا ہر مشکل سے مشکل کام آسانی سے سرانجام پائے گا اور وہی ریاست کی مالی مشکلات بھی حل کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 33 times, 1 visits today)

متعلق فہد عبدالعزیز بلوچ

فہد عبدالعزیز بلوچ
fahadazizbaloch@yahoo.com