مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / ناول: پرانے قصّے کی نئی صورت (آخری حصّہ)

ناول: پرانے قصّے کی نئی صورت (آخری حصّہ)

زاہد حسن

موت جسے معاصر ناول نگار کنڈیرا نے انسان کا خاص اور ذاتی مسئلہ قرار دیا ہے، بعض اوقات اہم اور عظیم تخلیقات کا موجب بنتی ہے۔ شاید اسی لیے کائنات میں موجود ہر ذی روح کے سفر کا اختتام اسی خوف پر ہوتا ہے اور خوشی جس کا وقفہ ہمیشہ بہت کم رہا ہے، دنیا کے ایک عظیم ناول موبی ڈاک (۱۸۵۱ء) کے تخلیق کار ہرمن میلول (۱۸۱۹ء۔ ۱۸۹۱ء) نے اپنے ایک کردار کے ذریعے اسے تخلیق کا منبع و ماخذ قرار دیا ہے۔

موبی ڈاک کا کردار کہتا ہے:
’’خوشی نہ تو دماغ کے ذریعے ملتی ہے نہ تخیّل کے ذریعے، بلکہ بال بچّوں میں، گھر بار میں، دِل میں، بستر پہ، دسترخواں پہ، گھوڑے کی پیٹھ پہ یہ یادیہات میں۔ اَب یہ ساری باتیں میری سمجھ میں آ گئی ہیں تو میں ہمیشہ ہمیشہ روغن نچوڑتے رہنے کو تیار ہوں۔ رات کو خواب میں بھی مجھے جنت میں فرشتوں کی لمبی لمبی قطاریں ویل روغن کے مرتبان میں ہاتھ ڈالے نظر آتی ہیں۔‘‘

ناول کے حوالے سے بیان کی گئی ان باتوں کا مقصد محض یہ ہے کہ ہمیں اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ ناول ایک ایسی صنف ہے جس کے حوالے سے بنائے گئے قواعد و ضوابط کسی حد تک تو اپنا جواز رکھتے ہیں، تاہم بہت سے اہم اور بڑے ناول نگاروں نے اس سے انحراف کرتے ہوئے سراسر اپنی خالص اور جداگانہ راہ بنائی ہے۔ کئی ایک نے تو ان لگے بندھے اصولوں پر اپنی گفتگوؤں اور تنقیدی تحریروں میں گہرا طنز کیا ہے اور کئی ایک نے اپنے ناولوں میں بھی اس کا اظہار کیا ہے جن میں ہرمن میلول، بالزاک، حوزے سارا میگو، میلدن کنڈیرا، ویکوم محمد بشیر، کوئیلو پاوَلو سمیت ہمارے پنجابی کے ایک اہم ناول نگار گردیال بھی شامل ہیں۔

ہندی ناول نگار دھرم ویر بھارتی نے اپنے کُلیتاً ایک نئی تکنیک پر اُسارے گئے ناول ’’سورج کا ساتواں گھوڑا‘‘ میں اس کا برملا اظہار کیا ہے۔ اس ناول کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں کہانی سنانے کے قدیم انداز کو استعمال میں لاتے ہوئے نئی تخلیق کی جا رہی کہانی اور کرداروں کو درپیش معاملات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ناول میں کہانی سُنانے والا کردار مالک مُلاّں ایک جگہ کہانی سنانے والوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے، (جن میں ایک کہانی لکھنے والا بھی موجود ہے۔)

ترجمہ: ’’تکنیک! ہاں تکنیک پر زیادہ زور وہی دیتا ہے جو کہیں نہ کہیں سے کچّا ہوتا ہے، جو ابھی مشتق کر رہا ہے، جِسے مناسب موضوع نہیں مل سکا۔ لیکن پھر بھی تکنیک پر دھیان دینا اچھی بات ہے بشرطیکہ وہ تناسب سے زیادہ نہ ہو جائے۔ جہاں تک میرا سوال ہے مجھے تو کہانی کہنے کے نقطۂ نظر سے فلابئیر اور موپیساں بہت اچھے لگتے ہیں، کیوں کہ اُن کے پاس پڑھنے والے کو اپنے ساتھ بہائے لیے چلے جانے کی طاقت ہے۔ یوں اُن کے بعد چیخ و خوف کہانی کے میدان میں قابلِ قدر کہانی کار ہے اور میں اس کی خوبی تسلیم کرتا ہوں۔ چیخوف نے ایک بار کسی عورت سے کہا تھا، کہانی کہنا مشکل بات نہیں ہے، آپ کوئی چیز میرے سامنے رکھ دیں؛ یہ شیشے کا گلاس، اس ایش ٹرے پر کہو کہ میں اس پر کہانی لکھوں، تھوڑے ہی وقت میں میرے تصور کو جلا ملے گی اور اس سے جڑا ہوا کئی لوگوں کا جیون مجھے یاد آجائے گا اور وہ شئے کہانی کا خوب صورت موضوع بن جائے گی۔‘‘

تکنیکی اور اسلوبیاتی حوالے سے ہونے والی ان تبدیلیوں کا اطلاق ہم پچھلی دو دہائیوں کے دوران لکھے گئے بعض پنجابی ناولوں پر بھی کر سکتے ہیں۔ اگرچہ شروع میں دیگر بہت سی زبانوں میں لکھے جا رہے ناولوں کی طرح پنجابی ناولوں میں بھی داستانوں اور لوک کہانیوں کا سا انداز روا رکھا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ لوک داستانوں کے کرداروں کے ذریعے بنیادی تھیم میں تھوڑی بہت کمی بیشی کر کے ایک ایسی کہانی تخلیق کر دی جاتی جو بنیادی انسانی قدروں کی ترجمانی کر رہی ہو اور جس کا مقصد ایک طرف آنے والی نئی نسل کی پرورش اور نشوونما میں مثبت سماجی، معاشرتی اور تہذیبی اقدار کو داخل کرنا ہوتا تھا، دوسری طرف ہمیشہ پُرامن اور جنگ وجدل سے پاک معاشرے کا قیام بھی پیش نظر رہتا۔

Facebook Comments
(Visited 35 times, 1 visits today)

متعلق زاہد حسن

زاہد حسن
لاہور میں مقیم زاہد حسن پنجابی اور اُردو کے معروف لکھاری ہیں۔ فکشن ان کا خاص میدان ہے۔ پنجابی میں ان کی کہانیاں اور ناول معروف ہیں۔ ان دنوں سماجی ترقی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ zahid_dchd@yahoo.com