مرکزی صفحہ / بلاگ / بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تشہیری مہم اور ماروی میمن کی ضد

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تشہیری مہم اور ماروی میمن کی ضد

انور عباس انور

ملکی سیاسی صورتحال میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں سے مسلم لیگ فوائد حاصل کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔ پاکستان تحریک انصاف نے ملک کے طول و عرض میں جلسے کرکے انتخابی مہم کی فضا پیدا کردی ہے ۔ اس کی دیکھا دیکھی باقی جماعتوں نے بھی جلسے اور ریلیاں نکال کر اسکی تقلید کرنا شروع کررکھی ہے ۔

مسلم لیگ بھلا اپنی حریف جماعتوں سے پیچھے کیسے رہ سکتی ہے؟ اس مقصد کے لیے اس نے ہر پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن اس کے کنٹرول میں ہے اور جو چیز اس کے کنٹرول سے باہر ہے اسے ’’قابو‘‘ کرکے اس سے پورا پورا استفادہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تشہیری مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے بلکہ مکمل کی جا چکی ہے۔ اس مہم کے تحت ماروی میمن جو اس پروگرام کی چیئرپرسن ہیں۔اس کی خواہش ہے کہ اس تشہیری مہم میں مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف کی تصاویر بھی شامل کی جائیں تاکہ عوام کو باور کریا جائے کہ یہ پروگرام نواز شریف کے دم قدم سے جاری و ساری ہے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حکام ماروی میمن کی اس خواہش کی راہ میں حائل ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ہم ایک ایسے شخص کو اس تشہیری مہم کا حصہ بنانے کے عمل کا حصہ نہیں بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے. جس شخص کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نااہل قرار دے چکی ہے۔ لیکن مضبوط اعصاب کی مالک ماروی میمن چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بضد ہیں کہ وہ ہرحال میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس تشہیری مہم کا حصہ بنائیں گی۔

ماروی میمن صاحبہ اس مہم میں اپنے قائد محترم کو حصہ بنانے پر کیوں بضد ہیں؟ وہ اس مہم میں نواز شریف صاحب کو شریک کرکے اس میں سے کیا نکالنا چاہتی ہیں؟ ایک شخص جو عدالت عظمی سے تاحیات نااہل قرار پاچکا ہے تو آپ سرکاری آفیشلز کو کوئی امتحان میں ڈل رہی ہیں؟ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے جو حکام آپ کے مقصد کے راستے کی دیوار بنے ہیں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے اس فرمان کی تعمیل کی ہے جس مین قائد محترم نے سرکاری ملازمین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کے سیاسی دباؤ کو قبول نہ کریں۔

ماروی میمن سچی محب وطن راہنما ہیں، ان کی تربیت بھی ایسی ہوئی ہے کہ آئین اور اصول پسندی کی سیاست کی جائے. اصولوں کی پامالی اور اعلی اخلاقی اقدارکو روند کر اقتدار حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کرلی جائے۔ عائشہ گلالئی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ اسے پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کے ذریعے پہنچا۔ جب اس نے عمران خاں پر الزامات لگا ئے اور عمران خاں کی سیاست سے الگ ہوگئی مگر اس نے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے سے انکار کردیا۔ جب کہ ماروی میمن نے مسلم لیگ قائد اعظم سے راستے جدا کیے اور مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی تو اس نے سب سے پہلے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفی دیا تھا۔

مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا کہ واقعی محترمہ ماروی میمن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حکام پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ بی آئی ایس پی کی متوقع تشہیری مہم میں اپنے قائد جو عدالت عظمی سے نااہل قرار پا چکے ہیں اسکو اس مہم کا حصہ بنانے کی ضد کررہی ہیں۔ بی آئی ایس پی کے حکام پریشانی کے عالم میں ہیں، کہ اگر ماوروی میمن کے ’’آکھے نئیں لگدے‘‘ تو محکمانہ ناتبع داری کے مرتکب ہوتے ہیں اور اگر نااہل قائد مسلم لیگ کی تصاویر کو اشتہاری مہم کا حصہ بناتے ہیں تو سپریم کورٹ کے ایکشن کی زد میں آتے ہیں۔

بانی پاکستان کے یوم ولادت کے موقعہ پر اخبارات میں اشتہارات دیکھ کر اپنے دوست کی بات پر یقین نہ کرنے کا کوئی تک نہیں بنتا۔ 25 دسمبر 2017 کو قائد اخبارات کی زینت بننے والے اشتہارات ’’ہم بنا رہے ہیں قائد کا پاکستان‘‘ میں قائد کی فوٹو میں چہرے پر جس طرح شریف خاندان خصوصا نواز شریف کے مختلف تصاویر لگائی گئیں ہیں ایسا کرنا ہی محترمہ ماروی میمن کا مقصود ہے۔

حیران ہوں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تشہیری مہم میں نواز شریف کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کی اشتہاری مہم میں ہر حال میں بے نظیر بھٹو شامل رہیں گی اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس مہم کا جز بن سکتے ہیں. نواز شریف یا کوئی دوسرا ماسوائے اس پروگرام کی چیئرپرسن ماروی میمن کے نہیں رول ادا نہیں کرسکتا۔ لہذا مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف اور اس کے میڈیا مینجر ہوش کے ناحن لیں کیوں اس ملک کو بحران در بحران کی زد میں دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کو اور وفاقی حکومت کو کسی قسم کے غیر آئینی اقدام اٹھانے سے پرہیز کی راہ اپنائے تو مسلم لیگ نواز ،شریف خاندان اور ملک کے لیے مفید ہوگا۔بقول سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز ’’ہم بنا رہے ہیں قائد کا پاکستان‘‘ کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ آئین کی پاسداری کی جائے اور عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کیا جائے۔۔۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم کے فرامین پر عمل درآمد کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ سوائے ملک کو غیر یقینی صورتحال میں جونکنے کے کچھ نہیں۔۔۔
صلاح عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے.

Facebook Comments
(Visited 32 times, 1 visits today)

متعلق انور عباس انور

khas.loag@gmail.com