مرکزی صفحہ / بلاگ / اداروں کا کمزور کردار اور عوام کی بے بسی

اداروں کا کمزور کردار اور عوام کی بے بسی

اشرف بلوچ

منتخب عنوان سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ادارہ ہے کیا ؟ جس کی چرچا ہم روز سنتے ہیں. اس کا کردار کیا ہے؟اور اس کے فرائض کیا ہیں؟ ایک ادنیٰ سا طالبِ علم کے لیے اس طرح کے عنوان پر لکھنا یا اس پر بحث کرنا شاہد بے وقوفی ہے۔

اس پر لکھنا اور بحث کرنا ان عظیم شخصیات کا کام ہے جو اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے عہدے کی شان میں مگن ہوکر ادارہ اور ادارتی کردار سے بے خبر ہیں۔ سبھی نے ملک و قوم کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذاتی مفاد کو ترجیح دی. اور پوری قوم کو ایک تاریک مستقبل کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بات ادارے کی ہورہی تھی لیکن کہاں بھٹک گئے۔ ظاہر ہے ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جو روز بھٹکتی ہے۔ ہارٹن کے مطابق ” اداراہ ایک ایسا نظام ہے جس میں اصولوں کی بنیاد پراجتماعی کوشش کرکے اس منزل کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا ہے جوکہ مجموعی آبادی کیلئے اہم ہو”۔ ہمارے ہاں چلنے والے ادارے مجموعی آبادی کے ساتھ کتنا مخلص ہیں شاید اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہم روز خبروں میں یہ سنتے اور پڑھتے ہیں کہ فلاں جگہ جرگہ نے یہ فیصلہ کیا پنچائیت نے وہ فیصلہ کیا۔ اب اس میڈیا کے لیے کیا کر سکتے ہیں جو ایک عظیم ملکی ادارہ صرف اور صرف ایک ایلچی کی حد تک رہ گئی ہے. حتیٰ کہ میڈیا کا کام ہے کہ وہ عوام کو شعوری بنیاد پر معلومات فراہم کرے. لیکن اس حوالے سے وہ اپنی کردار سے یکسر غافل نظر آتی ہے۔ کیا وہ انصاف کے بارے میں عوام کو آگاہی نہیں دے سکتی؟ روز نہتے لوگ گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ کیا یہ عدلیہ کی ناکامی نہیں ہے ؟ کیا یہ سیکورٹی اداروں کی ناکامی نہیں ہے؟ اگر ہے تو یہ میڈیا کیوں نہیں بتاتی؟ ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ خاموش ہے؟ کیا ان کی یہ خاموشی قومی مفاد کے لئے نقصاندہ نہیں ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں کہ ہر انسان کے کانوں میں ہمیشہ گونج رہے ہوتے ہیں۔

یہی صورتِحال تعلیمی اداروں کی ہے۔ یہاں کی صورتِحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ انہی کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے کہ آج تعلیمی نظام مکمل طورپر پرائیوٹائیز ہورہی ہے۔ لوگ گھریلو ضروریات کو پوری کرنے کی سکت نہیں رکھ سکتے اس کے باوجود وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلونے کے چکر میں پرائیویٹ تعلیم کی فیسوں کی بوجھ کو برداشت کر رہے ہیں. اور یہی صورتحال صحت کے شعبے کی ہے۔ اس عمل نے عوام کو اتنا متاثر کیا ہے کہ وہ صحت اور تعلیم کے حصول کے لیے پرائیویٹ اداروں میں جانے سے پہلے ہزار بار سوچتے ہیں. جب کہ پبلک سیکٹر کی کیا صورتحال ہے اس سے سب واقف ہیں۔

دوسری طرف ایک عطائی تعلیمی نظام ہے جوکہ بظاہر مذہبی تعلیم دلوانے کی نظام کی صورت میں نظر آتی ہے. لیکن حقیقی بنیاد پر دیکھا جائے تو صورت حال بلکل اس کے برعکس ہے۔ مذہب کی آڑ میں مظلوم عوام کی امن پسند جگر گوشوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کیا جارہا ہے۔ جوکہ اس عمل سے تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملنے والا۔

پچھلے 50 سالوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اس نظام سے تعلیم حاصل کی ہے اور آج وہ پیداوار کیا دے رہے ہیں؟ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں تو کوئی بتا سکتا ہے کہ اس تعلیمی نظم کی وسعت کیا ہے؟ اس طرح کی صورت حال کو دیکھ کر انسان مستقبل کی راہوں‌کا تعین کیسے کرے؟ کیا یہ عمل ایک تابناک اور تاریک مستقبل کی نشان دہی نہیں کر رہا؟ کیا اس کے تباہ کن اثرات برآمد نہیں ہوں‌گے؟ کیا یہ انسانیت اور ملک و قوم کی سالمیت کی وجود کے لیے خطرہ نہیں ہے؟ اگر وقعی ایسا ہے تو عوام کے تنخواہ دار ادارے کیوں غفلت کی نیند سورہے ہیں؟ آخر کب تک وہ اس غریب عوام کو دھوکے میں رکھ کر تاریخی رسوائی اپنے نام کرتے رہیں گے؟

اس طرح کی صورتحال کو دیکھ کر مجھ جیسے بھٹکے ہوئے لوگ دعا ہی کر سکتے ہیں کیوں کہ اس کے علاوہ ہمیں‌اور کوئی ممکن علاج نظر نہیں آرہا۔ یہاں کا تعلیمی نظام دعا سکھانے کی حد تک ہے اور یہی ہمارا رتبہ ہے۔ سوچ و تجسس کی طرف کبھی راغب ہی نہیں کیا گیا اور دوسری طرف ہمارے وہ مصنوعی خدا ہیں جوکہ اس نظام کے خالق ہیں خود ان کے بچے آکسفورڈ اور کیمبریج جیسے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی تعلیم زر و حصولِ زر کی حکمت عملی پر مشتمل ہے۔ ان کے آباواجداد نے یہی تعلیم حاصل کرکے عوام کو لوٹا تھا تو یہ بھی انھی کے بچے ہیں اور اپنی قوم سے غداری صحیح لیکن اپنی آباواجداد کی خون سے غداری ہرگز نہیں کریں گے۔

ہم بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ایک خوشحال مستقبل ہمارا منتظر ہے لیکن اپنی کردار سے اس کا موازنہ کیا جائے تو ایک بات یاد آتی ہے جس کو یہاں پیش کرنا غیر موزوں ہے لیکن پیش ہی کردوں بہتر ہے۔

ایک شخص نے اپنی دوست کو جہنمی کے نام سے پکارا۔
دوست: میں آپ کو جہنمی لگتا ہوں کیا؟
دوسرا دوست: یار آپ کے کردار تو جہنمی کے لگتے ہیں باقی اللہ تعالیٰ کی ذات رحمٰن ہے وہ آپ کو بخش دے تو الگ بات ہے۔

اب ذرا اپنی، اپنے معاشرے کی اور اپنے اداروں کی کردار پہ ایک نظر دوڑائی جائے کیا یہ کچھ ایسا کر رہے ہیں. جس سے ہمارا مستقبل خوش حال ہو؟ اگر واقعی ہم پستی کی طرف جارہے ہیں اور اس خوش فہمی میں ہیں کہ ایک خوشحال مستقبل ہماری منتظر ہے تو یہ خودسرابی ہے۔ ایک طویل تجربہ ہے کہ اس نظام کے ذریعے ہم ترقی نہیں کر سکے بس اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تجربوں سے سیکھنے کی توفیق دے۔ کسی نے چارلس ڈارون سے پوچھا کہ اپ کا لیڈر کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا "میرا تجربہ” ۔ ایک بار پھر اللہ سے دعا ہےکہ اس جیسے دماغ ہمیں بھی عطا فرمائے۔

اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو ہمیں "مستقبل” سے تباہی و بربادی کے علاوہ اور کوئی مثبت امید نہیں رکھنی چاہئیے اگر عدل اور امن وامان کا یہ سلسلہ جاری رہا تو بہت سارے حوا کی بیٹیاں پنچائتوں اور جرگوں کے مجمعے کے سامنے انصاف کی آڑ میں برہنہ کردی جائیں گی۔ بہت سارے مشالوں کی لاشیں عوام کے سامنے برہنہ حالت میں پڑے انصاف کے لیے ترستی رہیں‌گی۔ بہت سارے صغیر اور رضاخان غائب کردئے جائیں گے۔ بہت سارے ہسپتال، اسکول، مسجد، مندر، چرچ اور امام بارگاہیں خود کش بمباروں کی نظر ہو جائیں گے ممکن ہے کہ اور بھی بہت کچھ ہوجائے۔

Facebook Comments
(Visited 48 times, 1 visits today)

متعلق اشرف بلوچ

اشرف بلوچ
اشرف بلوچ کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں بی ایس کر رہے ہیں. طلبا سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور اسی موضوع پر لکھتے ہیں۔