مرکزی صفحہ / بلاگ / گوادر: اسپورٹس ٹیچر کی تقرری، مقامی نوجوان نظرانداز

گوادر: اسپورٹس ٹیچر کی تقرری، مقامی نوجوان نظرانداز

برکت اللہ بلوچ

جی ڈی اے پبلک ہائیر سیکنڈری اسکول گوادر میں اسپورٹس ٹیچر (اسکیل 14) کی آسامی پر بیرون ضلع تقرری عمل میں لائی گئی ہے جسے مقامی نوجوان حق ملازمت پر جاری ڈاکہ زنی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

اسپورٹس ٹیچر کی یہ آسامی تین مہینے قبل گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مشتہر کی گئی تھی جس کے لیے گوادر کے کئی نوجوانوں نے درخواستیں جمع کر رکھی تھیں۔ ان میں سے پانچ مقامی امیدوار نہ صرف ٹیسٹ اور انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ ہوئے تھے بلکہ انھوں نے ٹیسٹ میں کامیابی بھی حاصل کر لی تھی۔

اسپورٹس ٹیچر کی اس آسامی کے لیے کوچنگ سرٹیفکٹ کے علاوہ گوادر کا مقامی باشندہ ہونے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔ مقامی امیدوار نہ صرف اسکول کی جانب سے طلب کی گئے معیارات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوئے تھے بلکہ وہ اس آسامی سے متعلقہ اضافی صلاحیتوں اور تجربات سے بھی لیس تھے۔ لیکن اس کے باوجود اس پوزیشن پر مقامی نوجوانوں کو نظرانداز کر کے بیرون ضلع تقرری عمل میں لانا لمحہ فکریہ ہے۔

مقامی امیدواران کا کہنا ہے کہ انٹرویو پینل میں اسکول پرنسپل بھی شامل تھیں جو ایک غیر بلوچ اور میرٹ پر یقین رکھنے والی خاتون ہیں۔ لیکن انٹرویو بلوچی زبان میں لے کر انھیں ان تمام معاملات سے دور رکھنے کی دانستہ کوشش کی گئی جب کہ پرنسپل صاحبہ کا اصرار تھا کہ انٹرویو بلوچی کے بجائے اردو میں لیا جائے۔ مقامی امیدواران کا الزام ہے کہ انٹرویو بلوچی زبان میں لینے کا مقصد اسکول پرنسپل کو اندھیرے میں رکھ کر من پسند شخص کی تقرری عمل میں لانا تھا۔

مقامی نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کردار روز اول مایوس کن ہے۔

ہر دور میں بیرون اضلاع من پسند افراد کی تقرریوں میں جی ڈی اے پیش پیش رہا ہے۔ جس کے باعث آج جی ڈی اے میں مقامی ملازمین کی نسبت بیرون اضلاع ملازمین کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔ یہی لوگ جی ڈی اے میں سیاہ و سفید کے مالک بھی بنے بیٹھے ہیں اور ہر بیرون اضلاع تقرری میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔

چونکہ ان لوگوں کا تعلق بیرون اضلاع سے ہوتا ہے اس لئے انھیں مقامی نوجوانوں سے زیادہ اپنے من پسند افراد اور عزیز و اقارب کے مفادات کو تحفظ دینے میں دلچسپی ہوتی ہے اس لیے جی ڈی اے میں پے در پے بیرون اضلاع تقرریاں عمل میں لانے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

مسلسل سفارش اور میرٹ کی پامالی کے باعث جی ڈی اے کی کارکردگی پر بھی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور یہ اثرات تعمیراتی کاموں سے لے کر اسکول کی کارکردگی میں بھی نمایاں نظر آتی ہیں۔

جی ڈی اے میں اس وقت ڈائریکٹر جنرل کی پوزیشن پر تعینات موصوف دو اضلاع گوادر اور پنجگور سے تعلق رکھتے ہیں بذات خود وہ ایک نفیس اور میرٹ پر یقین رکھنے والے شخص ہیں۔ ان کی موجودگی میں میرٹ کی پامالی اور مقامی نوجوانوں کی نظراندازی ایک سوالیہ نشان ہے اور اس سے یہی گمان ہوتا ہے کہ بیرون اضلاع سے تعلق رکھنے والی بااثر لابی ان تمام فیصلوں میں ڈی جی کو بھی نظرانداز کر کے اپنی من مانی کر رہی ہے یا اسکول پرنسپل کی طرح انھیں بھی اندھیرے میں رکھ کر من پسند فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

جی ڈی اے پبلک ہائیر اینڈ سیکنڈری اسکول ایک تعلیمی ادارہ ہے۔ اور کسی بھی تعلیمی ادارے میں پسند و ناپسند کی بنیاد پر تقرریاں خطرناک ہوتی ہیں۔ جس کا اثر نہ صرف اسکول کی کارکردگی پر پڑتا ہے بلکہ یہ عمل طلبا کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کا موجب بھی بنتا ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ خدارا مستقبل کے معماروں کے ساتھ ایسے گھناؤنا کھیل کا کھیلنا بند کیا جائے۔ اس وقت ڈی جی، جی ڈی اے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسپورٹس ٹیچر کی تقرری میں مبینہ غفلت اور میرٹ کی پامالی کا نوٹس لے کر مقامی نوجوانوں کو انصاف دلائیں۔

Facebook Comments
(Visited 28 times, 1 visits today)

متعلق برکت اللہ بلوچ

برکت اللہ بلوچ
برکت اللہ بلوچ گوادر یوتھ فورم کے سربراہ ہیں نہ صرف گوادر کے نوجوانوں لیے اس فورم پر آواز بلند کرتے ہیں ان کے مسائل پر قلم کشائی بھی کرتے ہیں۔