مرکزی صفحہ / بلاگ / پی پی ایل کمپنی کی ہٹ دھرمی

پی پی ایل کمپنی کی ہٹ دھرمی

شوکت علی بگٹی

یوں تو پورا بلوچستان پاکستان کا قدرتی وسائل کے لحاظ سے مالا مال صوبہ ہے مگر ضلع ڈیرہ بگٹی میں سوئی کا علاقہ جہاں 1952 قدرتی گیس سب سے پہلے دریافت ہوا تھا. پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔قدرتی گیس ملک بھرمیں گھریلو استعمال کے علاوہ وسیع پیمانے پر کارخانوں میں بھی بطور ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ایک معروف کمپنی یہاں سے گیس نکالتا ہے۔ جب سے یہا ں گیس نکلی ہے. اس وقت سے پی پی ایل کمپنی یہاں کے علاقائی نواب سے مختلف اوقات میں معاہدے کرتی چلی آرہی ہے ان معاہدات کی رو سے کمپنی گیس رائیلٹی کی ادائیگی، مقامی لوگوں کو کمپنی میں ملامتوں کی فراہمی،گیس ،بجلی،پینے کا صاف پانی ،صحت کی سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر بنیادی سہولتیں دینے کا پابند ہے۔ مگر جب ہم کمپنی کے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اس نے کبھی اپنے کیئے ہوئے معاہدات کی پوری طرح پاسداری نہیں کی ہے۔ پی پی ایل ایک نہایت ہی منافع بخش کمپنی ہے. اس کے ہوتے ہوئے ضلع ڈیرہ بگٹی خاص کر سوئی شہر کو پاکستان کا ایک ماڈل سٹی بننا چاہیئے تھا ،مگر کمپنی کی ظلم اور بے حسی کی انتہا ہے کہ سوئی کے شہری آج بھی لکڑیا ں جلا نے پر مجبور ہیں۔

کمپنی کا یہاں کے عام شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنا تو درکنار اپنے ملازمین کے ساتھ بھی ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ ملازمین کو دی گئی سہولتیں اور مراعات ایک ایک کر کے ختم کیے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی ملازم اپنا آدھے سے زیادہ زندگی کمپنی خدمت کر کے جب ریٹائر ہوتا ہے. تو اس کے بعد کمپنی اسے اپنے احاطے میں بھی داخل بھی ہونے نہیں دیتا۔

معاہدات کی رو سے اگر کوئی ملازم ریٹائر ہوتا ہے. تو اس کے بچے یا کسی وارث کو 3 مہینے کے اندر اندر کمپنی میں ملازمت دینے کا پابند ہے۔ اس پر بھی اب کمپنی عملدآمد نہیں کر رہا ہے. اب سینکڑوں ملازمین فوت یا ریٹائر ہوئے 6 سے10سال ہونے کو ہیں. مگر ان کو اب تک ملازمتیں نہیں دی گئی ہیں۔ ریٹائر یا وفات پا جانے والے ملازمین کے بچے اور لواحقین گزشتہ ایک ماہ سے کمپنی کے گیٹ نمبر1 کے سامنے سخت سردی میں ہڑتالی کیمپ میں سراپا احتجاج ہیں۔ پی پی ایل کمپنی کے آتے جاتے آفیسران ہڑتالیوں کے ساتھ مذاکرات تو درکنار آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ ملازمین کے بچے جنھوں نے دن رات کمپنی کی خدمت کی ۔کئی لوگ کمپنی کے حادثات میں اپنی جانیں بھی قربان کر چکے ہیں. اور کئی ملازم اپاہج بھی ہو چکے ہیں۔ مگر افسوس اور بے حسی کی انتہا ہے کہ پی پی ایل انتظامیہ کا کوئی آفیسر ان کے بچوں سے مذاکرات تک کرنے نہیں آیا۔

پی پی ایل کے ساتھ آخری معاہدہ صوبہ بلوچستان کے منتخب نمائندوں نے کی جن میں وزیر اعلی ثناء اللہ زہری اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سر فہرست تھے۔بلوچستان کے منتخب نمائندوں کے فریق ہونے کے باوجود پی پی ایل اپنے روایتی بد عہدی اور ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہے۔ آج بھی بلوچستان باالعموم اور ڈیرہ بگٹی با الخصوص محرومیوں کا شکار ہے۔ آج بھی سوئی کے لوگ جہاں سے گیس نکلتا ہے لکڑیاں جلانے پے مجبور ہیں ۔

پی پی ایل کی ہٹ دھرمی تو یہاں کے لوکل آبادی کے باعث ظلم ہے مگر اس سلسلے میں ہمارے منتخب عوامی نمائندوں کی خاموشی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جب عوامی نمائندوں کو متخب کیا جاتا ہے تو اس وقت عوام کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسمبلیوں جا کے ان کے حقوق کے سلسلے میں ان کے لیئے آواز بلند کریں گے۔ مگر اٖفسوس کہ ان لوگوں نے سوائے اپنے مفادات کے کبھی بھی پی پی ایل کے نا روا رویے اور دیگر محرومیوں کے خلاف کھل کربات نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہ ہڑتالیوں‌ کے لیے آواز بلند کریں. مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انھوں نے بلوچستان اسمبلی کے فلور میں پی پی ایل کے رویے کے خلاف آواز بلند کی ہو۔

واضح رہے کہ سرفراز بگٹی کے الیکشن کے جیت میں سوئی کے لوگوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔ سوئی کے عوام نے ان پہ اندھا اعتماد کر کے ووٹ دیا تھا۔ سوئی میں سرفراز بگٹی کے والد غلام قادر مرحوم کافی عرصہ سے قبائلی حیثیت سے مقیم رہے ہیں۔یہاں وہ بیٹھ کر ڈیرہ بگٹی کے لوگوں کے معاملات بلوچی رسم و رواج کے مطابق نمٹاتے رہے ہیں۔ سوئی کے لوگ بھی ان کو بڑی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے بعد سرفراز بگٹی کے بڑے بھائی جان محمد بگٹی سوئی میں مقیم ہیں اور بلوچی قبائلی انداز میں سوئی کے عوام درمیان میں موجود ہیں۔ سوئی کے عوام کے سرفراز بگٹی سے بڑے توقعات وابستہ ہیں۔

سرفراز بگٹی کو چاہیئے کہ پی پی پی کے معاملات میں اپنا کردار ادا کریں. جواس سلسلے میں اب تک سرگرم نظر نہیں آ رہے ہیں۔پی پی ایل اور ڈیرہ بگٹی عوام کے درمیان معاملات میں اگر سرفراز بگٹی کو اہم کردار ادا کرتے ہیں اور پی پی ایل مزدور یونین اگریمنٹ،سن کوٹہ سمیت دیگر مسائل ہوتے ہیں تو وہ آئندہ آنے والے الیکشن2018 میں سوئی کے عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف بڑھ سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ مسائل آنے والے الیکشن تک برقرار رہتے ہیں تو سرفراز بگٹی کے سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ اب جو نفع یا نقصان سوئی کے عوام کو ہو رہا ہے ان کا ذمہ دار لوگ سرفراز بگٹی کو ٹہراتے ہیں۔

بہرحال ابھی بھی وقت ہے سرفراز بگٹی اپنا کردار ادا کریں تو ممکن ہے پی پی ایل اپنے رویے میں لچک پیدا کرے۔ ویسے بھی سیاسی بصارت کا تقاضہ ہے کہ رہنماء اپنے عوام کے دکھ درد اور مسائل میں ان کا ساتھ دے ۔ مسائل حل ہوتے ہیں یا نہیں یہ اور بات ہے مگر لوگ اپنے رہنماء کے کردار کو جانچتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 13 times, 1 visits today)

متعلق شوکت علی بگٹی

شوکت علی بگٹی
ڈیرہ بگٹی میں مقیم شوکت علی بگٹی جز وقتی طور پر صحافت سے منسلک ہیں۔ وہ مختلف ملکی اور صوبائی صحافتی اداروں کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔ ای میل: shoukatibugti@gmail.com