مرکزی صفحہ / بلاگ / اوستہ محمد، ماڈل ٹاؤن سے گٹر ٹاؤن تک

اوستہ محمد، ماڈل ٹاؤن سے گٹر ٹاؤن تک

انور زہری

شہر اوستہ محمد میں کچھ بگڑے نوجوانوں نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ ان کی "شرپسندانہ” سرگرمیوں میں آئے روز شہر میں احتجاج، اسکولوں اور کالج کا دورہ کرنا، تمام تر دفاتر کا چکر لگا کر موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کرنا، کرپشن کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا یا نیب کو الیکٹرونک میڈیا کی مدد سے ای میل وغیرہ کرنا، نئے ترقیاتی منصوبوں میں شامل تمام تر کاموں کا جائزہ لینا، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

ہائے رے قسمت، ان نوجوانوں کو حالاں کہ یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں، ان کو تو لکھنے پڑھنے کے ساتھ کھیل کھود میں حصہ لینا چاہیے تھا لیکن سیاسی اکابرین کے سیاسی کھیل نے انہیں بغاوت پر مجبور کر دیا ہے۔

آئے روز یہی عرض کرتے ہیں کہ یہاں عوامی نمائندے نہیں بلکہ عوام الناس کا خون چوسنے والے کرپٹ ترین نمائندے مسلط ہیں لیکن عقل کے اندھوں کو بات سمجھ کہاں آتی ہے۔

آج بروز اتوار یہی بگڑے ہوئے نوجوان میونسپل کمیٹی کے منہ پر طمانچہ رسید کرنے کے لیے خود جھاڑو اٹھانے کی مہم شروع کر رہے ہیں۔

سنگت احسان اور اس کی ٹیم نے بار بار درخواستیں جمع کرنے کے بعد شہر کی گندگی کو صاف کرنے کے لیے خود جھاڑو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

موصوف سے بات چیت کرتے ہوئے آنکھیں نم ہو گئیں کہ ایک لکھا پڑھا نوجوان اپناگھر بار چلانے، تعلیم یا کہ باقی سیاسی و سماجی کام کاج کو ترک کر کے آخر کیوں شہر کی گندگی کو صاف کرنے پر مجبور ہے؟

موصوف نے کہا ہے کہ ہم نے میونسپل کمیٹی سے لے کر ضلعی انتظامیہ اور تحصیل میں موجود تمام تر اعلیٰ افسران کو گزارشات پیش کی ہیں، درخواستیں جمع کی ہیں، بار بار ان کو یاد دہانی کروائی، بجائے اس پر نوٹس لینے کے ہمیں ہی دھمکایا جاتا ہے، طرح طرح کے ذہنی ٹارچر میں مبتلا کر دیتے ہیں تاکہ ہماری آواز کو دبایا جا سکے ۔

لیکن نوجوانوں نے یہ عہد کیا ہے کہ جب تک شہر میں صفائی سے لے کر اسے کرپشن تک پاک نہیں کیا جائے گا، ہم چین سے نہیں بیٹھے گے۔

"ہمارے ایک دوست کامریڈ سعد بلوچ کہتے ہیں کہ جس طرح شہر سے کچروں کی صفائی ضروری ہو چکی ہے اسی طرح شہر کے نااہل منتخب نمائندوں کا صفایا بھی ناگزیر ہے۔ ہم سراپا احتجاج رہیں گے اور عوام الناس سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس کارواں کا حصہ بنیں اور شہر کو صاف ستھرا بنا دیں۔”

میں نوجوانوں کی اس جدوجہد کو خراج تحسین کرتا ہوں۔

میونسپل کمیٹی کے حوالے سے موصوف نے بہت بڑا انکشاف ظاہر کرتے ہوئے کہا ملازمین بجائے اپنی ڈیوٹی دینے کے بڑے بڑے لوگوں کے بیٹھک میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری طرف اسسٹنٹ کمشنر کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ اے سی صاحب کا کہنا ہے کہ میں مجبور ہوں۔ باقی تمام تر آفسران بھی یہی بہانہ، مجبوری کہوں یا حقیقت پیش کرتے ہوئے آنکھیں نم کر لیتے ہیں یا پھر فنڈز نہ ہونے کی منطق پیش کر دیتے ہیں۔

سول اسپتال گٹر نالیوں کی وجہ سے گندگی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مزید بتاتا چلوں کہ اسپتال میں موجود ڈاکٹرز سال میں ایک یا دو بار آنے کی تکلیف کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سالوں رخصتی پہ چلے جاتے ہیں۔

سٹی کونسلرز صاحبان کا پتہ تک نہیں۔ ہر وارڈ میں گلی کوچے گندگی سے بھرے پڑے ہیں۔ جس سے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو آنے جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صرف یہ نہیں سرکاری اسکولوں سے لے کر پرائیویٹ اسکولوں تک سب اپنی اپنی من مانی میں لگے ہوئے ہیں۔ معیاری تعلیم رہی نہیں۔ کوئی کسی غیر قانونی کام کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں۔

رہی بات ڈگری کالج کی وہاں کچھ سالوں سے ایک بڑی مصیبت مسلط ہے جس کو ہٹانے کے لیے تعویز، دم وغیرہ کے علاوہ کوئی علاج بھی ممکن نہیں۔

کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ منتخب نمائندے فنڈز کہاں خرچ کر رہے ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھے لوگ کب تک تماشائی بن کر دیکھتے رہیں گے۔

بروز اتوار نوجوانوں کی طرف سے شہر اوستہ محمد میں اپنی مدد آپ کے تحت صفائی مہم کا انقعاد کیا جا رہا ہے۔ تمام شہری، علم دوست احباب، تاجر برادری کے ساتھ باشعور عوام الناس سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ صفائی مہم کا حصہ بنیں اور اپنے شہر کو صاف ستھرا بنائیں۔
صفائی نصف ایمان ہے۔

Facebook Comments
(Visited 28 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔