مرکزی صفحہ / بلاگ / تعلیم، طلبا اور سماجی ذمہ داری

تعلیم، طلبا اور سماجی ذمہ داری

شگفتہ رمضان داؤدی

ہمارا تعلیمی نظام آج بھی جدید خط استوار کے مطابق نہیں۔ نظام تعیلم میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں سکولوں اور کالجز میں بنیادی تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔ جس کے منفی اثرات امتحانات کے نتائج سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ طلبا و طالبات کا فیل ہونا اس کی ایک کڑی ہے۔

پاس ہونے والے طلبا و طالبات کے اچھے مارکس نہ آنے کی وجہ سے وہ بعض پروفیشنلز اداروں میں داخلے سے رہ جاتے ہیں اور مقابلے کی امتحانات میں بھی شرکت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سکولوں اور کالجز میں تعلیمی سہولیات کا فقدان، اساتذہ کی کمی، سائنسی آلات سمیت کلاس رومز کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے طلبا و طالبات کو وہ ماحول دستیاب نہیں ہوتا ہے جو کہ ایک اچھے تعلیم ماحول کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

جب طلبا و طالبات کو والدین اور اساتذہ کی طرف سے دھیان اور سہارا نہ ملے تو ان کی تعلیم پر اثر پڑ سکتے ہیں۔

طلبا و طالبات میں زیادہ تر ایسے بھی ہیں جو پڑھنے کی بجائےموبائل فون، گیم،گانا، فلم وغیرہ میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ ان کے والدین کہتے ہیں کہ یہ ابھی بچے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ تعلیم کی طرف توجہ دینے کے بجائے اپنے زیادہ تر وقت فضول کاموں میں گزارتے ہیں۔

کیرئیر کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے طلبا و طالبات داخلہ لیتے وقت ایسے مضامین کا بھی انتخاب کرتے ہیں ہیں جن کا ان کو سرے سے پتہ نہیں ہوتا اور اس کے اثرات آگے جاکر ان کے تعلیمی کیرئیر پر پڑتے ہیں۔ جب کہ طلبا و طالبات میٹرک کے بعد اکثر سائنس کے مضامین کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔

اس کی وجہ معاشرتی رویے ہوتے ہیں کہ آرٹس گروپ کی ویلیو نہیں ہے اور ایسے طلبا و طالبات سائنس میں بھی داخلہ لیتے ہیں جو کہ آرٹس کے مضامین میں بہتر ہوتے ہیں۔

جیسے کہ اکثر والدین چاھتے ہیں کہ ان کے بچے ہر حال میں ڈاکٹر، ٹیچر، وکیل یا کہ انجینر بنیں مگر بچے کی خواہشات کچھ اور ہیں پھر اسی زور زبردستی کی وجہ سے بچے کی خواہشات بیچ میں ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

اگر اسکول اور کالج میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کا بھی وقتا فوقتا انعقاد ہو تو اس سے طلبا و طالبات میں مقابلہ کے رجحان میں اضافہ ہوگا اور اس سے ان کی تعلیم پر مثبت اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔

ایک اچھے تعلیم یافتہ ماحول کے لیے اچھےاساتذہ کو بھرتی کرنا بھی ضروری ہے۔

تعلیم کا نظام تب اچھا ہوگا جب والدین بھی اپنے بچوں پر دھیان دینا شروع کریں گے کہ انکے بچے کیا کر رہے ہیں اور کون کون سی activities میں شامل ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔