مرکزی صفحہ / اداریہ / صوبائی ادبی ایوارڈ: کچھ سنجیدہ سوالات

صوبائی ادبی ایوارڈ: کچھ سنجیدہ سوالات

ایڈیٹر

ادب ایک سنجیدہ سماجی سرگرمی ہے. یہ ایک سخت ذہنی مشقت ہے، جس کا حتمی ثمر نوعِ انسانی کو مسرت سے سرشار کرنا ہے. اسی لیے یہ ایک ذمہ دارانہ عمل بھی ہے. اسی کے پیشِ نظر دنیا بھر میں ادب تخلیق کرنے والوں کو سماج میں ایک الگ، منفرد اور اعلیٰ مقام سے نوازا جاتا ہے. مثبت سماجی تبدیلی میں‌ اپنا کردار ادا کرنے والے اہلِ قلم کی خدمات کا نہ صرف اعتراف کیا جاتا ہے بلکہ انہیں اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا جاتا ہے.

عالمی سطح پر ادب کا سب سے بڑا انعام نوبل انعام، اسی سلسلے کی کڑی ہے. اسی طرح بُکر پرائیز کو دنیا میں بھر میں‌ادب کا دوسرا بڑا انعام سمجھا جاتا ہے. پاکستان میں بھی ملکی سطح کے مختلف ادبی انعامات سالانہ بنیادوں پر دیے جاتے ہیں. جو ادب کی ترویج میں بہرحال ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں.

بلوچستان میں بھی صوبائی سطح پر ادبی تخلیقات پر انعامات کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے. یہ انعامات کلچر ڈپارٹمنٹ کے زیراہتمام ہر سال جاری کیے جاتے ہیں. جس کے تحت بلوچستان کی اہم زبانوں اُردو، بلوچی، براہوی، پشتو اور فارسی میں تخلیق ہونے والی تازہ کتابوں میں‌ تحقیق، نثر و نظم میں‌ پہلا، دوسرا، اور تیسرے درجے کا انعام دیا جاتا ہے.

چار برس کے تعطل سے گزشتہ روز اس ایوارڈ کی تقریب ایوانِ ثقافت کے کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہوئی. جہاں صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت مجیب الرحمان محمد حسنی اور سیکریٹری ظفر علی بلیدی نے 5 زبانوں کے 50 سے زائد ادیبوں میں انعامات تقسیم کیے.

واضح رہے کہ ہر صنف کے پہلے انعام میں 80 ہزار، دوسرے انعام میں 65 ہزار اور تیسرے انعام میں 55 ہزار روپے، اسناد کے ساتھ دیے گئے.

ایک طرف جہاں ادب کی ترویج میں اس طرح کے ادبی ایوارڈ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، وہیں دوسری طرف اس کے طریقہ کار سے لے کر حالیہ انعامات کا اجرا کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے. جس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے.

ذیل میں ہم ایسے ہی چند اہم نکات کا تذکرہ کر رہے ہیں:

* سب سے پہلے کلچر ڈپارٹمنٹ کو اس ایوارڈ کے موجودہ طریقہ کار پہ غور کرنے اور اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے. مروجہ طریقہ کار یہ ہے کہ کلچر ڈپارٹمنٹ ایک اخباری اشتہار کے ذریعے ادیبوں سے مذکور سال میں شائع ہونے والی کتب کی تفصیل طلب کرتا ہے. جو مصنف کو سیکریٹری کلچر کے نام ایک درخواست کے ساتھ ایک فارم بھر کر جمع کروانی ہوتی ہے، جس میں اپنے تمام کوائف اور تصنیف کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں. ساتھ ہی پبلشر کا تصدیق نامہ بھی منسلک کرنا ہوتا ہے.

یہ نہایت بودا بلکہ توہین آمیز طریقہ کار ہے. یعنی ایک مصنف خود سرکار کو لکھ کر دے کہ اس نے ایک ایسی کتاب لکھی ہے جسے وہ انعام کا حق دار سمجھتا ہے. اس کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ ایک ایسی کمیٹی بنا دے جو بلوچستان میں شائع ہونے والی سال بھر کی تصانیف کو ازخود جمع کرے. اس کے لیے معروف اور رجسٹرڈ پبلشر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے.

محتاط اندازے کے مطابق بلوچستان بھر سے سال بھر میں سو سے زائد تازہ کتب شائع نہیں‌ ہوتیں. سرکار کے لیے سو، سوا سو کتابوں کی فہرست جمع کرنا ایسا مشکل کام بھی نہیں.

وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ محض مروجہ طریقہ کار کی وجہ سے کئی جینوئن لکھاری اس ایوارڈ سے محروم ہیں، کیوں کہ ایک جینوئن ادیب خود اپنی کتاب ایوارڈ کے لیے پیش کرنا اپنی اور تخلیقی عمل کی توہین سمجھتا ہے. دنیا بھر میں کسی ادبی ایوارڈ کے لیے یہ طریقہ کار رائج نہیں.

* ادبی ایوارڈ کے لیے پہلا انعام، دوسرا انعام اور تیسرا انعام کی کیٹگری بھی بچکانہ معلوم ہوتی ہے. یہ سکول کے بچوں کی طرح پہلی، دوسی اور تیسری پوزیشن کی دوڑ کی طرح لگتی ہے. اس کی بجائے بہتر ہو گا کہ ہر کیٹگری میں بنا کسی عددی تخصیص کے تین انعامات دیے جائیں اور انعام کی رقم کو بھی مساوی کر دیا جائے. موجودہ رقم کو ہی تین برابر حصوں میں تقسیم کر دیا جائے. اس سے ایک تو مسابقت کے رحجان کی حوصلہ شکنی ہو گی نیز لکھنے والے نمبر کی بجائے تخلیقی عمل میں زیادہ دلچسپی لیں گے.

* یہ ایوارڈ کئی برسوں سے "صوبائی ادبی ایوارڈ” کے نام سے جاری ہوتا رہا ہے. اب نجانے کس محبِ وطن نے حب الوطنی کے شوق میں اسے علامہ اقبال ایوارڈ سے منسوب کر دیا ہے، جس کا کوئی منطقی جواز نہیں بنتا. اگر نام دینا اتنا ہی ضروری ہے تو اسے بولان ادبی ایوارڈ کا نام دیا جا سکتا ہے. علامہ اقبال کے نام سے پاکستان میں بیسویوں ایوارڈ پہلے سے موجود ہیں. بلکہ ایک نوجوان لکھاری کے بقول بہتر ہو گا کہ ہر کیٹگری کو بلوچستان کے ادیبوں کے نام سے منسوب کر دیا جائے تو اس سے اچھا تاثر بنے گا. اقبال کے نام سے، اقبال پہ ہونے والے کام پہ ایوارڈ دیا جائے تو اس کا جواز بھی بنتا ہے.

* ایک نہایت بری روایت یہ دیکھنے میں آئی کہ کل کی تقریب میں ادیبوں کو دس بجے بلا کر منسٹر صاحب 12 بجے تشریف لے آئے. بلوچستان کے عمر رسیدہ سینئر ادیب اور لکھاری دو گھنٹے سخت ٹھنڈ میں ان کا انتظار کرتے رہے. حد یہ ہے کہ انہوں نے اس پہ ندامت کا اظہار کرنا تک ضروری نہ سمجھا. جب کہ دنیا بھر میں‌سیاست دان اور وزرا ایسی تقاریب میں ادیبوں کا استقبال کرتے ہیں، ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

اصولا یہ ہونا چاہیے کہ ایسی تقریب کی صدارت وزرا کی بجائے کسی سینئر ادیب سے کروائی جائے. ایوارڈ بھی ادیب ہی لکھاریوں کو پیش کریں. بلکہ جیوری اراکین سے ہی یہ کام لیا جا سکتا ہے. اب تو شنید میں یہ ہے کہ جیوری میں شامل اراکین بھی خود ایوارڈ لے رہے ہیں‌ جو انتہائی غیراخلاقی اور غیرقانونی طریقہ ہے. اس طرح جیوری اراکین مقابلے سے باہر ہو جائیں گے، مرکزی تقریب میں‌ ان کے نام بھی سامنے آ جائیں گے اور انہیں‌ وہیں خصوصی شیلڈ دے کر ان کا شکریہ بھی ادا کیا جا سکتا ہے.

* دیکھا یہ گیا ہے کہ ایوارڈ جاری کرتے ہوئے تخلیق و تصنیف کی بجائے سینارٹی کو مدنظر رکھا جا رہا ہے. موجودہ ایوارڈ میں ہی اکثر کیٹگریز میں پہلے اور دوسرے نمبر کے اکثر انعامات کی تصانیف کسی بھی سینئر کو دکھا دی جائیں، اندازہ ہو جا ئے گا کہ فیصلہ تصنیف کو نہیں، مصنف کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے. یہ نہایت غیرمنصفانہ اور بھونڈا طریقہ ہے. اس رحجان کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے.

* کیٹیگریز کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے. تحقیق میں تو انعام دیا جا رہا ہے مگر تنقید سے صرفِ نظر کیا گیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے. اسی طرح نثر میں ایک ہی ایوارڈ دیا جا رہا ہے. اسے کم از کم تخلیقی نثر یا فکشن و نان فکشن میں تقسیم کرنا ازحد ضروری ہے. ترجمہ انتہائی اہم کام ہے، جس پر کوئی انعام نہیں دیا جا رہا ہے. اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے.

یہ وہ نکات ہیں جو سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں. ان سے صرفِ نظر کیا جاتا رہا تو یہ ایوارڈ، اعزاز کی بجائے محض اندھے کے ریوڑیاں بانٹنے والے محاورے کا عملی نمونہ بن کر رہ جائے گا.

Facebook Comments
(Visited 66 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر