مرکزی صفحہ / خصوصی حال / جیونی اور پانوان کا سفری احوال

جیونی اور پانوان کا سفری احوال

یلان زامـرانی

میرے دوست، بلوچی زبان کے نوجوان قلم کار و مترجـم محمد شکاری کی خواہش پر گزشتہ ہفتے ہم دونوں نے بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے دورے کے لیے رخت سفر باندھ لیا.

گـوادر سے بذریعہ کار تقریباً شام پانچ بجے ہم منزلِ مقصود پہ پہنچے. جہاں ہمارے دوست و بلوچی زبان کے شاعر اور بلوچی میگزین ساچ پانوان کے چیف ایڈیٹر سمیـن کلمتی نے پرجوش اندازمیں ہمارا استقبال کیا. بلوچی روایات کے تحت جب ہمارے دیہی علاقوں میں کسی کے گھر کوئی مہمان آئے تو اس میتگ (گاؤں یا قصبہ) کے دیگر ہمسایہ مہمان کا حال احوال لینے آتے ہیں.

پانوان جہاں ایک شہر کی حیثیت رکھتا ہے وہاں آج بھی بلوچ قومی ثقافت اپنی تمام تر توانائیوں اور طاقت کے ساتھ مستحکم و مضبوطی سے اپنا وجود رکھتی ہے. اور پانوان کے تمام باسی اس کے امین ہیں. آج کل کی اس ہیجانی کیفیت میں لوگ جہاں ایک دوسرے سے بیزار ہیں اور ہر کوئی اپنی ہی فکرمیں مگن رہتا ہے وہیں پانوان کے پیر و کماش آپس میں ایک جسم کی مانند زندگی کے روز وشب گزار رہے ہیں.

پانوان کی آبادی تقریباً 20 ہزار کے لگ بگ ہو گی. وہاں کے لوگوں کی اکثریت ماہی گیری کے شعبے سے وابسطہ ہے. وہاں کے قبائل میں اکثریت حمـل جیہـند کے فرزنـد کلمـتی ہیں. جب کہ بلوچوں کے دیگر قبائل میں رئیس اور بِردیگ کی آبادی بھی کم نہیں. ایک مڈل اسکول اور ایک جامع مسجد کے علاوہ وہاں ایف سی و کوسٹ گارڈ سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں کی چیک پوسٹیں قائم ہیں. جس طرح پانوان کی آبادی ہے تو وہاں ایک دو مڈل اسکول قائم ہونے چاہئیں اور ایک ہائی اسکول کی اشد ضـرورت ہے. اس کے علاوہ پـانوان جیسے بڑے شہرمیں ہسپتال کی سہولت نہ ہونا افسوس ناک امر ہے.

پانوان کی ایک خاصیـت یہ ہے کہ وہاں انگریز دور کا قائم کردہ جیونـی ایئرپورٹ بھی موجود ہے جہاں لگے ریڈار سسٹم کے زریعے ہزاروں کی تعداد میں ہوائی جہاز کو سفری سہولت فراہم کرتے ہیں. جس طرح گوادر پیاسا ہے اسی طرح گوادرکے قرب میں‌ واقع جیونی بھی پیاس کی شدت سے بلبلا رہا ہے. پانی کا یہ مسئلہ آج سے ایک صدی قبل برطانوی دور حکومت میں تھا. مگر اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے نا صرف وقتی بلکہ ہمیشہ کے لیے پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے بڑے گہرے تالاب بنائے. جنہیں بلوچی میں ھوٹگ کے نام سے جانا جاتا ہے. جب بارش ہوتی ہے تو پانی وہاں جمع ہوتا ہے. جس سے لوگ مستفید ہوتے ہیں. لیکن موجودہ دور میں یہ ھـوٹگ عدم توجہی کا شکار ہیں اور اب مٹی کی نذر ہو گئے ہیں. اب بھی اگر ان کے اندر پڑی مٹی نکال دی جائے تو انہیں‌ استعمال میں لایا جا سکتا ہے. مگر کـون ہے جو اس کی فکـر کرے.

پانوان مڈل اسکول کے سامنے واقع مدی ھان زیارت کی زیارت بھی نصیـب ہوئی جہاں ایک طـویل عرصے تک جہالت کے حصار میں قید لوگ ان پتھروں کو اپنے لیے باعث تبرک سمجھتے تھے اور وہ اردگرد کے علاقوں سے یہاں منتیں مانگنے آتے رہے. لیکـن منتیں پوری نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بھی اب اس مدی ھان زیارت سے منہ موڑ لیا  ہے.

رات کو سمیـن کلمتـی نے پرتکلف عشائیہ دیا جہاں بلوچیت کی تمام ترخوبیاں واضح تھیں جہاں سمیـن کلمتی نے اپنے دیگر معزز ہمسایوں کو بھی مدعو کیا تھا.

کھانا کھانے کے بعد ہمارے ایک اور دوست گل بلوچ نے رات اپنے بلوچی مہمان خانے میں گزارنے کی دعوت دی. جسے ہم ٹالنے کی جرات نہ کر سکے اور وہ ہمارے میزبان کی اجازت سے ہمیں اپنے مہمان خانے لے گئے. جہاں بلوچ معاشرے کی قدیم روایات کے تحت پانوان کے بزرگـوں اور نوجـوانوں نے دیوان دیا جہاں قصـیدہ گوئی، شعر و شاعری اور مختلف موضوعات پر گرماگرم بحث ہوئی.

صبح گل بلوچ اور ان کے برادر محترم ہردل عزیز شخصیت عبدالعزیز کلمتی نے پرتکلف ناشتہ دیا. ناشتہ کے بعد ایک مرتبہ پھر میتگ کے بزرگ اور نوجوانوں کی مجلس سج گئی. جس میں مختلف موضوعات زیر بحث رہے. اس کے بعد ہمارے محترم بھائی سمین کلمتی نے پانوان کی سیر کرائی. پانوان کے نوجوانوں کو علم و ادب سے گہری دوستی ہے. اور وہ علم کے شیدائی ہیں اگر پانوان جیسے شہر میں علمی وادبی اور تفریحی سرگرمیوں کو فروغ ملے تو اس مٹی کے خمیر سے بہت سے ہیرے ابھر کر سامنے آ سکیں گے اور معاشرے کو اپنے نور سے منور کر سکیں گے. لیکـن افسوس کہ اس کھیت کی پیاس بجھانے کی فکر کسی کو نہیں.

پـانوان کے بعد ہمارا رخ‌ جیونی کی طرف تھا. جیونی پہنچ کر سب سے پہلے ہمارا گزر پیاسے یاسمیـن و ازگل بلوچ کے لہو سے رنگین چوک شہدائے جیونی چوک سے ہوا.

آپ کو بتاتا چلوں کہ جیونی کی پیاس بجھانے کے لیے ننھی بلوچ بچیاں جان کا نذرانہ دینے کے باوجود بھی اس کی پیاس نہ بجھا سکیں اور آج بھی جیونی کی پیاس بجھانے کے لیے پانوان میں لگے ایک بور کے پانی کا استعمال کیا جا رہا ہے. یہ نہیں کہ وہاں پانی نایاب ہے بلکہ گوادر کی طرح جیونی کو بھی آپ لاوارث اس طرح سے سمجھیں کہ وہاں تین اطرف سمندر ہونے کے باوجود پیاس کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں.

جیونی کی اپنی الگ شناخت ہے. رنگ و موسم الگ ہے. بلوچی زبان کے معروف راجی شاعر جی آر ملا کا تعلق بھی اسی جیونی سے ہے. جیونی میں سب سے پہلے ہم معروف بلوچ عالم دین و قلم کار مفتی عارف ارجمندی صاحب کے پاس پہنچے جہاں مفتی صاحب نے ہماری خدمت کی اور جیونی شہر کی تفصیـلی سیر کرائی. مفتی صاحب ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ علاقہ جیونی کی سیاسی سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں. بلوچی زبان میں ان کی دو تصانیف "مســـاپرءِ رھشـون ” اور ” سجتگیــں سگار ” شائع ہو چکی ہیں. وہ جیونی کی جامع مسجد کے خطیب بھی ہیں.

جیونی شہر کی آبادی تقریباً 32 ہزار کے لگ بھگ ہے اور یہاں کے لوگ ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں.لیکن شعبـہ ماہیگیری کیلئے اب تک بھی کوئی جیٹی نہیں اور اس شعبہ کی بہتری کیلئے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں. جیونی تحصیل ہونے کے باوجود بھی ترقی کی اس تیز رفتاری سے دوڑتی ہوئی دنیا میں قرون اولیٰ کامنظر پیش کر رہا ہے. سڑکیں، ہسپتال، بجلی اور پانی کے لیے آج بھی آنکھـیں منتظـر ہیں.

Facebook Comments
(Visited 84 times, 1 visits today)

متعلق یلان زامرانی

یلان زامرانی
کیچ کے رہائشی یلان زامرانی قلمی نام سے لکھتے ہیں۔ "رُژن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی چھاپتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی، سماجی مسائل ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔