مرکزی صفحہ / بلاگ / ایک گریجویٹ کے خواب اور سماج کی دلدل

ایک گریجویٹ کے خواب اور سماج کی دلدل

شاکر لعل

میرا دوست علی ابنِ حسن بچپن سے ہی ایک ذہین حافظہ کا مالک تھا اور بدقسمتی سے وہ اس معاشرے کے ایک غریب خاندان کا رکن تھا۔ شاید یہ وہ وجہ تھی جس کے باعث مستقبل کی شاندار آس لگائے یہ نوجوان مایوسی کی دلدل میں دھنستا جا رہا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح ایک عام سے تعلیمی ادارے سے منسلک تھا اور امتحان میں نقل کی بھرمار کا اندازہ تو ہر وہ فرد جانتا ہے جو اس سسٹم سے گزرا ہوگا۔

سخت محنت اور لگن سے پڑھنے کے باوجود علی ابنِ حسن صرف اس لیے پہلی پوزیشن حاصل نہ کر سکا کہ اس کا مقابلہ شہر کے ایک جاگیردار کے بیٹے سے تھا۔ علی کو ہر وقت پہلی پوزیشن حاصل کرنے کی امنگ ستاتی تھی۔ مگر یہ ادھورا خواب آنکھوں میں لے کر وہ فارغ التحصیل ہو گیا۔

اسکول کے دنوں کے بعد لمبے عرصے تک میری ملاقات علی سے نہیں ہوئی مگر دوستوں کی مجالس میں، میں اس کی ذہانت و محنت کا ذکر اکثر کرتا تھا۔

ایک دن میری میری ملاقات میرے بچپن کے دوست سے پھر ہو گئی۔

علی سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ہم ایک دوسرے کا حال حوال پوچھنے کی غرض سے چائے کے ایک ہوٹل پر بیٹھ گئے اور ماضی کے قصے ایک دوسرے کو سناتے رہے۔ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے کے بعد علی نے میرے روزگار کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے بتایا کہ میں دستِ ہنرمندی اور صحافت کے غیرمستقل روزگار سے زندگی کے پہیے کو دھکا لگا رہا ہوں۔

جب میں نے علی سے اس کے روزگار کے متعلق پوچھا تو علی کے چہرے پر مایوسی کے آثار نمودار ہوئے۔ پھر اس نے دکھ بھرے لہجے میں اپنی داستان یوں بیان کی کہ کس طرح بدعنوانی، شخصیت پرستی، لالچ و رشوت کے مارے معاشرے نے اس کے بیش بہا خوابوں کو مایوسی کے تاریک کنویں میں پھینک دیا۔

علی ملازمت کی خاطر درجنوں محکموں میں کاغذات جمع کرتا رہا مگر تمام امتحانات میں کامیابی کے باوجود صرف اس لیے نظرانداز کیا جاتا رہا کہ وہ ایک غریب خاندان کا فرد تھا۔ وقت کروٹ بدلتا رہا، علی کو ملازمت نہ ملی تو اس نے سیاست کرنا شروع کی۔ مایوس چہرے کے ساتھ علی نے دورِحاضر کی ایک معروف سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے مالی حالات میں پہلے سے اب کافی بہتری آ چکی ہے۔

جب علی نے مزید حقائق سے پردہ اٹھایا تو میری عقل دنگ رہ گئی کہ علی جیسے نوجوان جو ظالم وقت کے ہاتھوں شکست کھا کر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو یہ جماعتیں ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں صرف تپتی دھوپ میں کھمبوں پر جھنڈے لگانے اور دیواروں پر کھوکلے نعرے لگانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ علی جیسے ہزاروں نوجوان پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر پختہ نظریے سے عاری سیاسی جماعتوں میں اس نیت سے شامل ہوتے ہیں کہ شاید کہیں ان کے لیے بھی روزگار کے دروازے کھل جائیں مگر انہیں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

جب پارٹی کے قائدین اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں تو ان کی نظریں علی جیسے لاچار نوجوانوں کی بجائے اپنے من پسند افراد تک ہی جاتی ہیں۔ علی کی نظریں اپنے قائدین پر ہیں کہ کب انہیں ایک چھوٹی سی نوکری ملے مگر اب تو قائدین کے خاص لوگوں کے ہجوم میں علی کو شاید بیٹھنے کی جگہ بھی نہ ملے۔

ہماری گفتگو کے دوران علی کے موبائل پر بار بار کال آ رہی تھی۔ انتخابات قریب ہیں، خوب جلسے ہو رہے ہیں، شاید علی کو آج پھر کسی کھمبے پر چڑھ کر پارٹی کا جھنڈا لگانے کے لیے بلایا جا رہا تھا۔

بقول ایک ”دانا“ کے، دنیا میں کچھ لوگ دنیا کی تمام تر سہولیات حاصل کرنے کے باوجود خوش نہیں رہتے ہیں۔

میں ششدر و حیران یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور ایک نئی امید کی تلاش میں تھا۔

Facebook Comments
(Visited 66 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔