مرکزی صفحہ / حال حوال / ’’لیاری کی ادھوری کہانی‘‘ کے خالق رمضان بلوچ سے مکالمہ (2)
?

’’لیاری کی ادھوری کہانی‘‘ کے خالق رمضان بلوچ سے مکالمہ (2)

مکالمہ: شبیر رخشانی
عکاسی: بشیر ساجدی

س: تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ لیاری میں پیپلزپارٹی کو مقام دلانے میں اینٹی سردار گروپ کا ہاتھ تھا؟
ج؛ کسی حد تک۔۔اسٹوڈنٹس طبقے میں۔۔ ویسے تو ایک عوامی ریلا تھا۔ ایک سیلاب تھا۔ اس میں تو سب بہہ گئے۔ پورے پاکستان میں ایک لحاظ سے انقلاب آگیا۔ بعد میں لوگوں کو مایوسی ہوئی۔ وڈیرہ شاہی وہ تو بعد کی بات ہے۔ لیکن شروع میں یہ بڑا دھچکا لگا۔ لیکن ہمارے جو دوست وہاں گئے، ان کی نسبت پرو سردار گروپ کے زیادہ بہتر لوگ تھے۔ کیونکہ ان کو استاد مل گئے۔

س: لیاری سے بلوچستان کو جو سیاسی رشتہ ٹوٹا، اسے دوبارہ کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟

ج: (ہنستے ہوئے) میں سمجھتا ہوں ٹوٹا تو نہیں ہے۔ بہرحال ہمارے ثقافتی لنکس ہیں، خونی رشتے ہیں، رابطے ہیں۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی حد تک رابطہ متاثر ہوا ہے۔ ٹوٹنا تو میں نہیں کہہ سکتا۔ ابھی تک لیاری میں سیاسی طور پر ایسی سوچ موجود ہے جو سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں جو حالات ہیں ان کو بہتری کی طرف جانا چاہیے۔ وہاں جو حالات ہیں ان کے ذمہ دار جو بھی ہیں ان کے خلاف تحریک ہو تو ان کی ہمدردی یہاں لیاری میں بھی ہے۔ لیکن اس حد تک نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں ماضی طرف جانا پڑے گا۔ کہ لیاری سے بلوچستان کا رشتہ یا بلوچ جو بلوچستان میں رہا ہے ان دونوں کے درمیان جو سیاسی رابطے تھے یا ایک لحاظ سے کوارڈینیشن تھا، وہ کیسے ختم ہو گیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ 60s کے آخر میں بی ایس او کے جو دو حصے ہو گئے اور نیپ جو پاکستان کی پروگریسو سیاسی پارٹی تھی جس میں لیاری کے بلوچوں کی بڑی تعداد تھی۔ جب نیپ ٹوٹی اور نیپ میں دراڈیں آئیں، یہ دوحصوں میں بٹ گئی تو ظاہر ہے لیاری میں وہی پوزیشن ہو گئی۔ ایک دھچکا اس زمانے میں لگا۔ اور پھر جو ہے بھٹو صاحب کے زمانے میں بلوچستان کے خلاف جو ایکشن ہوا۔ اس میں بھی لیاری کے لوگوں نے ، سب نے نہیں ایک طبقہ جو پرو سردار گروپ کا تھا ، نے اس زمانے میں احتجاج کیا۔ لیکن جب بھٹو صاحب کا زوال ہوا جب بھٹو صاحب گئے ضیاالحق کا دور شروع ہوا تو اس زمانے میں جو بلوچ سردار تھے نیب کے جو عہدیدار تھے ولی خان وغیرہ، اس میں لیاری کے لوگ بھی تھے۔ جو جیل گئے۔ یار محمد یار تھے، لطیف بلوچ صاحب تھے۔ یہ بھی جیلوں میں تھے۔

پتہ یہی چلا کہ ہمارے بلوچ رہنماؤں کے درمیان جیل میں بھی کچھ اختلافات ہو گئے تھے۔ تو اس سے فرق پڑا اور سرد مہری شروع ہوگئی۔ پھر جب ضیاالحق نے ان کو رہا کیا تو پھر ۔۔۔ سنی سنائی باتیں ہیں۔ پتہ نہیں صحیح ہے یا غلط ہے۔۔۔ کہ ضیاالحق گورنمنٹ کی طرف سے ان کو کچھ مراعات بھی ملیں۔ جو بلوچ سردار تھے اس زمانے کے۔ تو لیاری میں یہی سوال ابھرا تھا کہ بھئی جب ان کو ایک ڈکٹیٹر اور فوجی جو فنڈامنٹلسٹ ہے اس کے ساتھ بیٹھ کے معاملات طے ہو سکتے ہیں تو پھر بھٹو صاحب جو ایک سیاسی لیڈر تھے اس کے ساتھ سیاسی معاملات کیوں طے نہیں کیے گئے۔ چونکہ اس زمانے میں لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھ ہی تھا اور شاید اب بھی ہے تو یہ سوچ پرورش پا گئی کہ ہمارا مستقبل بلوچستان کے لیڈروں کے ساتھ نہیں ہے ہمارا مستقبل سندھ کے لیڈروں کے ساتھ ہے۔ کیونکہ ہم سندھ میں رہتے ہیں۔

س: پیپلز پارٹی کی بات کر رہے تھے تو لیاری کے سیاسی و سماجی اتار چڑھاؤ میں پیپلزپارٹی کا رول کیا رہا ہے؟
ج: دیکھیں سماجی کام ایسے ہیں جس میں سیاست تو چلتی نہیں ہے۔ سیاست کسی کی بھی ہو سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو، حکومت کسی کی بھی ہو سماجی کام تو رکتے نہیں ہیں۔ اور سیاسی پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر یہ سماجی کام کیے جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جتنے سماجی کام ہوئے ہیں اس میں سے بہت کم ایسے لوگ ہیں جو سیاست میں بھی رہے ہیں۔ سماجی میدان میں ہمارے لیاری کے بہت سے مایہ ناز لوگ رہے ہیں۔ غلام محمد نورالدین صاحب ہیں۔ صالح محمد سرحدی صاحب ہیں۔ عبدالکریم تاجک ہیں۔ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے سماجی میدان میں کافی کام کیا۔ اور یہ اس زمانے میں سیاست دان نہیں تھے۔

س: بی ایس او دو دھڑوں میں تقسیم ہوتی ہے تو بی ایس او اینٹی سردار گروپ کی ہمدردیاں بھٹو کے ساتھ کیوں ہو جاتی ہیں؟ لیاری کو اس کے ثمرات کیا ملے؟

ج: دیکھیں جب بی ایس او کے دو ٹکڑے ہوئے ہمارے کچھ دوست پرو سردار گروپ میں تھے۔ لیاری کے زیادہ تر لڑکے تھے وہ اینٹی سردار گروپ میں آگئے۔ اس کی قیادت عبدالرحیم ظفر صاحب کر رہے تھے۔ پھر یوسف نسکندی صاحب کی سرپرستی حاصل تھی انہیں۔ کیونکہ وہ پروچائنا ہو گئے تھے۔ اور وہ جو پرو سردار گروپ میں تھے وہ پرو رشین گروپ ہوگئے۔ تو یہاں اینٹی سردار گروپ نظریاتی طور پر کٹ آف نہیں ہوا۔ یوسف نسکندی صاحب اس حد تک تو کہتے تھے کہ چلیں آپ نے اچھا کیا ۔ لیکن اس اچھائی کو بڑھانے کے لیے نسکندی صاحب کے مخصوص نظریات تھے۔ وہ کبھی کبھی ڈسکس کرتے تھے۔ لیکن ان کے مقابلے میں لالا لعل بخش رند کی شخصیت زیادہ مؤثر تھی۔ اور پھر وہ نوجوانوں کی نفسیات سے بھی واقف تھے۔ وہ جب نوجوانوں سے بات کرتے تھے تو نوجوانوں کی نفسیات کے مطابق بات کیا کرتے تھے۔ باتوں باتوں میں وہ تعلیم دیا کرتے تھے۔ لیکن یوسف نسکندی صاحب کی سرپرستی اتنی مؤثر نہیں تھی۔

آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ پیپلزپارٹی کا لیاری میں پہلا اجلاس یوسف نسکندی صاحب کے گھر پر ہوا تو اس لحاظ سے اینٹی سردار گروپ یا جتنے لیفٹسٹ گروپ تھے سارے پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔ پیپلز پارٹی کی طرف جب گئے تو ظاہر ہے وہ جو نظریاتی سوچ یا بلوچ قومیت کی سوچ ہے وہ پھر بیچ سے ہٹ گئی۔ وہ پھر لیاری کی بنیاد پر سوچنے لگے۔ یا کراچی کی بنیاد پر سوچنے لگے۔ یا سندھ کی بنیاد پر سوچنے لگے۔ ثمر یہی ملا کہ پیپلزپارٹی لیاری میں پھر کامیاب رہی۔ جڑیں اس کی مضبوط ہوتی گئیں۔ کیونکہ نوجوان طبقہ ان کے ساتھ تھا اور پھر عام طبقات میں بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت کا بول بالا تھا۔ تو پیپلز پارٹی نے لیاری میں قدم جما لیے ۔

دیکھیں بی ایس او کے ٹکڑے ہونے سے نتائج جو نکلے وہ منفی تھے۔ اگر بلوچ قوم پرستی کے حوالے سے دیکھا جائے۔ کیونکہ اینٹی سردار گروپ کو جو آپ نے چھوڑ دیا، اس کی طرف دیکھا نہیں نہ انہیں بلوچ سرداروں نے کبھی بلایا۔ کبھی ان کو ملانے کی کوشش کی یا نہیں کی ۔ ایک آدھ کوشش ہوئی تھی۔ لیکن وہ اتنی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ ہر ایک نے اپنا اپنا راستہ بنا لیا کہ ہمیں کس طرح سے جانا ہے۔ تو اس سے یہ جو بلوچستان کے لیڈران کی طرف سے اینٹی سردار گروپ کو چھوڑنا اس کے بڑے خراب ثمرات نکلے۔ اس میں یہ ہوا کہ جتنے بلوچ قومیت سے ہمدردی رکھتے تھے ، بلوچ قوم پرستی کے حامی تھے، وہ سب پیپلزپارٹی کی طرف گئے۔

دیکھیں نا پیپلزپارٹی کا تو اپنا الگ پولیٹیکل کلچر ہے۔ ان کی سوچ اس طرح نظریاتی نہیں تھی۔ خیر تھوڑی بہت تھی۔ بعد میں وہ نظریاتی سوچ بھی ختم ہوگئی۔ جتنے بھی لیفٹسٹ تھے، معراج محمد خان وغیرہ وہ سب پیچھے ہٹتے گئے۔ ظاہر ہے اس کے اثرات لیاری پر وہی پڑے۔ ہماری جو نظریاتی سوچ تھی، وہ ختم ہو گئی۔ اور پھر سیاسی سوچ نے جگہ لی۔ سیاسی سوچ اور نظریاتی سوچ میں بڑا فرق ہے۔نظریاتی سوچ مستقل آپ کے ذہن میں ہے۔ سیاست بھی نظریاتی سوچ کے مطابق ہی کرتے ہیں۔ لیکن جو سیاست تھی خاص کر پیپلز پارٹی کی، اس میں نظریاتی سیاست کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ اس وجہ سے اس کے برے اثرات آ گئے۔

س: آپ کی کتاب میں اسٹریٹ ایجوکیشن کا بھی ذکر ہے۔ بیسویں صدی میں لیاری تعلیمی میدان بن جاتا ہے۔ جب کہ اکیسویں صدی میں اس کی جگہ گینگ وار لے لیتی ہے۔ لیاری ان کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات کیا بنیں؟
ج: دیکھیں اسٹریٹ اسکول ایک نیا آئیڈیا تھا۔ اس کی بنیاد شاہ بیگ لین اور بغدادی سے ہوئی ہے۔ اس میں بہت سے نوجوانوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس میں نادر شاہ عادل ہیں۔ ن ۔م دانش ہیں۔ رؤف بلوچ ہیں۔ ناصر جمیل ہیں۔ انور علی بھٹی ہیں۔ ان لوگوں نے اس زمانے میں بڑا اچھا کام کیا کہ بچوں کو ایجوکیشن کی طرف مائل کیا۔ اسٹریٹ اسکول کا مطلب تھا کہ آپ نے ایک بہت بڑا بورڈ بنا لیا۔ اس میں آپ گلی میں بیٹھ گئے۔ یہ چونکہ ایک مثبت قدم تھا اس وجہ سے یہ بات پورے لیاری میں پھیل گئی۔ اس میں لڑکیاں بھی تھیں۔ لڑکے بھی تھے۔ اور جو پڑھانے والے تھے وہ بھی اسٹوڈنٹس ہی تھے۔ جو بڑی کلاس کے اسٹوڈنٹس تھے وہ چھوٹی کلاس کو پڑھانے لگے۔ ایک اچھا ماحول بن گیات ھا۔ اس میں وہ بچے بھی شامل ہوگئے جو اسکولوں میں نہیں پڑھتے تھے۔ پھر تعلیم بالغان کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ اس کا بڑا اچھا اورمثبت اثر پڑا۔ تو اسی دوران اسکولوں میں بھی اضافہ ہوا۔ لیکن پھر بھی ان اسکول اسٹریٹ کا کردار آخر تک رہا۔

80sکے بعد کراچی کے حالات بدلے۔ یہ جو امن تباہ و برباد ہوا۔ کراچی کے حالات پر ایک مخصوص گروپ حاوی ہوا۔ تو لیاری کافی حد تک محفوظ رہا۔ کافی عرصے تک محفوظ رہا۔ لیکن اس کے اثرات آہستہ آہستہ یہاں بھی آ گئے۔ پھر ایک ایسا دور شروع ہوا جس کو ہم تاریک دور ہی کہیں گے کہ اس میں پھر خون کی ارزانی ہو گئی۔ انسانی اقدار تباہ و برباد ہو گئیں۔ اس میں ہم لیاری والوں کو جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔ اس میں ہمارا امیج بھی خراب ہوا۔ معاشی طور پر ہم کمزور ہوتے گئے۔ ظاہر ہے اس کے اثرات ہمارے تعلیمی اداروں پر بھی پڑے۔ اس زمانے میں جو ریاستی لوگ تھے، حکام تھے یا اہلکار تھے۔ جو حالات پیدا کر رہے تھے انہوں نے تو انہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ تو اس طرح اسٹریٹ اسکول آہستہ آہستہ ختم ہوتے گئے۔ لیکن ایجوکیشن کا سلسلہ تعلیمی اداروں کے اندر کسی حد تک چلتا رہا۔ یہ رکا نہیں۔ اس میں ہمارے بہت سے نوجوانوں کا ہاتھ ہے۔ اسٹریٹ اسکول سے تو لوگ غائب ہوگئے۔ لیکن اسکولوں سے غائب نہیں ہوئے۔ تعلیم کا سلسلہ چلتا ہی رہا۔

س: آپ کی جو کتاب ہے اس میں چائے خانوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جہاں آپ لوگوں کی سیاسی و ادبی بیٹھکیں لگتی تھیں۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان چائے خانوں کو سیاسی و ادبی دفاتر کی حیثیت حاصل تھی؟

ج: صحیح کہا آپ نے۔ دیکھیں چائے خانے صرف چائے پینے کے لیے نہیں ہوتے تھے۔ صبح کے وقت لوگوں اپنے کام پہ، کالج، اسکول اور یونیورسٹیوں میں جاتے تھے۔ شام کا ایسا وقت تھا کہ سب فری رہتے تھے۔ تو شام کو ہوٹلوں میں جانا اور سب کا اکھٹا ہونا اسٹوڈنٹس ہوں، پولیٹیکل ورکرز ہوں، سماجی کارکن ہیں، وہ ایک جگہ جمع ہوکر صرف چائے نہیں پیتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ ملک کے جو کرنٹ افیئرز ہیں اس کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ اس میں پھر لعل بخش رند، اکبر بارکزئی، یوسف نسکندی صاحب آتے تھے ان کی باتوں سے ہم کچھ نہ کچھ حاصل کرکے اٹھتے تھے۔

چاکیواڑہ ایک لحاظ سے مرکز تھا۔ مرکز اس لیے تھا کہ سات آٹھ ہوٹلز قریبی قریبی فاصلے پر واقع تھے۔ لیکن سب سے اہم جو چائے خانہ تھ وہ سلیمانی ٹی شاپ نور محمد صاحب کی تھی۔ چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ بانکڑے تھے اس میں۔ لیکن ان بانکڑوں میں کون نہیں بیٹھا۔ بلوچستان کا کون سا لیڈر ہے جو ان بانکڑوں پہ نہیں بیٹھا۔ سیاسی لحاظ سے پیپلزپارٹی کا کون سا لیڈر ہے جو یہاں نہیں آیا۔ اور جنہوں نے عوام اور اسٹوڈنٹس سے انٹرلنک نہیں کی۔ وہ ایک تاریخی جگہ تھی۔ شام کو بڑی محفل سجتی تھی۔ ایک ہمارے سی مین تھے وہ جب جہازوں میں جاتے تھے مختلف ملکوں کا دورہ کر کے جب وہ واپس آ جاتے یہاں تو وہ بیٹھ کر اپنی داستان سناتے تھے۔ مصر میں یہ ہو رہا ہے لندن میں یہ ہو رہا ہے۔ امریکہ میں یہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک اچھا ماحول تھا۔ صرف کورس کی کتابوں سے آدمی کچھ حاصل نہیں کرتا۔ تجربہ اور ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہماری نسل کے جو لوگ ہیں۔ اس زمانے میں نوجوان تھے۔ جو چائے خانے کے بانکڑے ہیں۔ یہاں سے ہم نے کلاس رومز کی نسبت زیادہ سیکھا ہے۔

س: 60s کے دور کا ذکر آپ نے کیا۔ ایرانی ہوٹلز کا ذکر بھی کئی بار آیا۔ اس دور کو کس طرح یاد کریں گے؟

ج:ایرانی ہوٹلز صدر میں خاص طور پر تھے۔ کیفے فریڈرک تھا۔ کیفے ٹیریا تھا۔ کبھی کبھار سنڈے کو یا ہفتے کو ہم صدر بھی جاتے تھے۔ کیونکہ ٹرام وہیں سے چلتی تھی۔ چاکیواڑہ ٹرام جنکشن تھا۔ وہاں ایک آنہ دے کر ٹرام میں بیٹھے، بولٹن مارکیٹ گئے پھر بولٹن مارکیٹ سے ایک اور ٹرام میں بیٹھ کر صدر پہنچ گئے۔ اس زمانے میں صدر میں بڑی رونقیں ہوا کرتی تھیں۔ بڑی چہل پہل تھی۔ مختلف ایریا سے لوگ آتے تھے۔

اچھا! اس زمانے میں ہر علاقے میں دوکانیں نہیں تھیں۔ صرف صدر میں دوکانیں تھیں۔ یہ جو کیفے ٹیریا کی ہم بات کر رہے ہیں یہاں بڑے بڑے دانش ور ، اردو کے شعرا، شوکت صدیقی، فیض احمد فیض صاحب ، ابن انشا، ابرہیم جلیس اس قسم کے لوگ بھی وہاں آ کر بیٹھتے تھے۔ ہم جیسے اسٹوڈنٹس جا کر ڈھونڈتے تھے ۔ اس زمانے میں ہمارے آئیڈیل یا تو پاکستانی فلموں کے ہیرو تھے یا انڈین فلموں کے ہیرو ہوتے تھے یا پھر پھر یہ دانش ور ہوتے تھے۔ کیونکہ اس زمانے میں کسی اور آئیڈیل کی گنجائش ہی نہیں ہوتی تھی۔ کبھی ہم آرٹس کونسل جاتے تھے تو وہاں بھی نشستیں ہوتی تھیں۔ بیٹھتے تھے، سنتے تھے۔ شاعر شاعری کر رہا ہے۔ ادیب اپنا افسانہ سنا رہا ہے۔

اچھا تو یہ ہوٹل سارے ایرانی تھے۔ ایرانیوں کے تھے۔ یہ جو پیٹیز آج کل مشہور ہے، یہ ایرانیوں کی ایجاد تھی۔ چار آنے میں آپ اچھا خاصا کیک بھی کھا سکتے تھے۔ چائے بھی پی سکتے تھے۔اس زمانے کے دانش ور اتنے well off نہیں تھے، جتنے آج کے ہیں۔ وہ تو ایک دوسرے کی نظروں کی طرف دیکھتے تھے کہ آج کون چائے پلائے گا۔ اگر کوئی چائے پلانے والا آ گیا۔ تب اسی کے بینچ پر بیٹھ جاتے تھے۔ (مسکراتے ہوئے)۔ لیکن باتیں ان کی بڑا اعلیٰ ہوتی تھیں۔ وہ شاعری ہو یا سیاسی حالات ہوں یا دنیا کے حالات ہوں۔ اچھا ماحول تھا۔ صدر میں ایرانی ہوٹلز کے ساتھ سینما بھی تھے۔ ریکس سینما، کیپیٹل سینما،پیلس سینما، ریو سینما، ان میں انگلش فلمیں چلتی تھیں۔ چائے پی کر لوگ فلمیں دیکھنے چلے جاتے تھے۔

ایک اچھا ماحول تھا۔ کھلی فضا تھی۔ باہر کے لوگ آتے تھے۔ ٹورسٹ بھی آتے تھے۔صدر میں کرسچن کی بڑی آبادی تھی۔ وہ سب گھومتے پھرتے تھے۔ کوئی کسی کو ٹوکتا نہیں تھا۔ کسی کا ایمان کمزور نہیں پڑتا تھا۔ بار کھلے ہوئے تھے۔ نائٹ کلبز کھلے ہوئے تھے۔ جس کو نائٹ کلب جانا ہوتا تھا نائٹ کلب جاتے۔ جس کو بار جانا ہوتا بار چلا جاتا۔ یہ 60s کا زمانہ تھا۔ فری ماحول تھا اور اخلاقیات کے لحاظ سے ہم بہت آگے تھے۔ ٹریفک سینس تھا۔ سوک سینس تھا۔ بسیں ہر جگہ نہیں رکتی تھیں۔ ان کے اسٹاپ ہوا کرتے تھے۔ بس جہاں ٹھہرتی تھی پسینجر بھی وہیں جا کر کھڑا ہوتا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ راستے کے بیچ میں کوئی اشارہ دے اور رک گئے ۔ سڑکوں پر سگنلز تھے۔ سگنلز پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ پیدل چلنے والوں کے لیے زیبرا کراسنگ تھا۔ پولیس کا کنٹرول تھا ،امن تھا۔

کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں ہمارے سیاسی جو دوست ہیں کہتے ہیں کہ یہ جو آپ 60s کی اتنی تعریفیں کرتے ہیں وہ تو ایوب خان کا دور تھا، بڑا آمر تھا۔ ہم کہتے تھے کہ سیاسی حوالے سے ہم نہیں جانتے ہو سکتا ہے کہ سیاسی حوالے سے غلط ہو۔ لیکن ماحول اس زمانے کا بڑا پرامن تھا۔ انسان و جانوروں کی عزت تھی۔ حتیٰ کہ اس زمانے میں گدھے اور گھوڑا گاڑی ان پر بھی کوئی تشدد کرتا تھا پکڑا جاتا تھا۔ جرمانے ہوتے تھے اور باقاعدہ جانوروں کے ہسپتال تھے۔ انگریزوں کے دور سے چلا آ رہا تھا۔ اس کی شاید وجہ بھی یہی تھی کہ انگریز جو نظام مضبور کرکے گئے اس کے اثرات 60s, 70sتک رہے۔

ہو سکتا ہے اس کا کریڈٹ ہم ایوب خان کو نہ دیں۔ اگر آپ ایوب خان کو نہیں دیں گے تو آپ کو یہ کریڈٹ انگریزوں کو دینا پڑے گا۔ کہ وہ ادارے مضبوط چھوڑ گئے۔ امن چھوڑ گئے۔ معاشی اور تجارتی لحاظ سے کراچی ایک اچھا شہر تھا۔ روزگار کے لحاظ سے سب خوش تھے۔ اتنی بے روزگاری نہیں تھی۔ مذہبی رواداری تھی۔ کوئی کسی کو ٹوکتا نہیں تھا۔ شیعہ سنی کے علاوہ کوئی تیسرا فرقہ تھا ہی نہیں۔ یہ مسلکیں تو تھیں نہیں۔ جن کا سلسلہ 80s کے بعد ہوا۔ جتنے بھی فتنے شروع ہوئے، ضیاالحق کے دور میں شروع ہوئے۔ 70s تک صحیح تھا۔ آخر میں حالات بگڑ گئے۔

س: برٹش کمپنی سے جب آپ نے استعفیٰ دے دیا تو اسے اپنا جذباتی پن قرار دیا ۔ اب بھی اپنی اس رائے پر قائم ہیں کہ یہ ایک جذباتی فیصلہ تھا یا اچھا فیصلہ؟

ج: نہیں خیر جذباتی تو تھا اس زمانے میں۔ ہوا یہ کہ ملیریا کا مجھ پر اٹیک ہوا۔ جس کی وجہ سے ہم چھٹی لے کر چلے جاتے تھے۔ برٹش کمپنی تھی بڑے اچھے لوگ تھے۔ منیجر کے پاس جانا پڑتا تھا۔ Sir I am not feeling well، وہ کہتے Ok, Goوہ بھی منع نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے ٹھیک ہے جاؤ۔ جب میں چھٹیاں زیادہ کرنے لگا تو خود مجھے احساسات نے گھیر لیا کہ میں صحیح نہیں کر رہا ہوں۔ جو ہمارا باس تھا وہ شرافت میں کچھ کہتا نہیں تھا۔ لیکن مجھے اچھا نہیں لگتا تھا کہ میں بار بار جاؤں۔ ان سے کہوں کہ Not feeling well، ایک مرتبہ اس نے کہا Again?اس سے زیادہ انہوں نے اعتراض بھی نہیں کیا۔ لیکن آپ خود سوچیں مہینے میں چار، پانچ مرتبہ چھٹی کر لیں، اور اس زمانے میں ورکنگ ایتھیکس تھے کہ نو بجے آئیں، پانچ بجے تک آپ کو کام کرنا ہے۔ اس میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی تھی۔ اگر ہفتے میں ایک دو دن چھٹی کر لوں گا تو ظاہر ہے کمپنی کا نقصان ہوگا۔

میں اندر سے سوچ رہا تھا کہ میں کس بات کی تنخواہ لے رہا ہوں۔ تو اندر جو ایک رمضان بیٹھا ہوا تھا اس نے مجھے ٹوکا۔ بولا یہ اچھی بات نہیں۔ تم چھوڑ دو جا کر اپنا علاج اچھی طرح کراؤ۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ وہاں پہ اکاؤنٹس آفیسر جو تھا کبھی کبھار مذاق بھی کیا کرتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھے کہا کہ ’’ بلوچ مبارک ہو‘‘ میں حیران ہوا کہ کیا ہوا ۔ بولا آپ فرسٹ آگئے ہیں۔ حیران تھا کس میں فرسٹ آ گئے ہیں میں نے کچھ ایسا کیا بھی نہیں ہے۔ پھر اس نے لسٹ میرے سامنے رکھ دی۔ اس لسٹ میں یہ تھا کہ کتنے لوگوں نے کتنی چھٹیاں کی ہیں۔ تو ٹاپ میں میرا نام تھا۔(ہنستے ہوئے)۔ سوچ تو میں پہلے سے رہا تھا اس دن میں نے فیصلہ کر لیا۔ بس اب ٹھیک نہیں ہے چلے جاؤ۔

میں جا کر منیجر سے ملا۔ بتایا کہ I am resigning۔ وہ تو حیران ہوا۔ بولا Why، میں نے کہا I Dont know, Some domestic affairs which I to attend، تو وہ سمجھا نہیں۔ اس نے کہا Its alright you take some leave میں نے کہا NO, Sir I am going. مطلب جذبات میں آ گیا نا۔ تو وہ بیچارہ آخر تک سوچتا رہا کہ میں آخر وہاں سے کیوں گیا۔ بہرحال میں پھر چلا آیا۔ اس زمانے میں وہ کمپنی بڑی تھی۔ تنخواہیں اچھی تھیں اس زمانے میں 350 روپے ہر مہینے ملتے تھے۔ تو یہ بہت بڑی رقم تھی۔ جب یہاں آیا، ایک دو مہینے گزرے پھر دماغ ٹھکانے آیا۔ کیونکہ والد ہمارے مزدور تھے۔ لیمارکیٹ ٹاور کے نیچے سبزی بیچتے تھے۔گھر کی پورتی کیسے ہو۔ میری تنخواہ سے بہن بھائیوں کا گزارہ ہوتا تھا، وہ بھی ختم ہوا۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ یار میں نے اچھا نہیں کیا۔ پھر ایک سال تک تقریباً بے روزگار رہا۔ اس کے بعد یہ ایمبیسی جوائن کی۔

س: آپ میں ذمہ داری اور حساس پن کا غلبہ رہا۔ یہ دونوں چیزیں بچپن کی ساتھی تھیں؟

ج: یہ ماحول ہمیں اپنے گھر سے ملا۔میرے والد تھے تو مزدور۔ تعلیم یافتہ نہیں تھے۔ لیکن ان کی دو چار نصیحتیں زندگی بھر کا نسخہ بنیں۔ اول تو کوئی کام ہاتھ میں لو نہیں۔ اگر لو گے تو اسے آخر تک پہنچاؤ، بیچ میں نہیں ہٹنا۔ میری ماں تعلیم میں بڑی دلچسپی لیتی تھیں۔ ہم لوگوں کو پڑھانے اور اسکول بھیجنے میں ماں کا بڑا کردار تھا۔ ماں کی تربیت کا بڑا اثر ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تربیت ہمیں گھر سے ملی۔ ذمہ داری کا احساس اور حساس ہونا۔ ہم خود غریبی مرحلے سے گزرے ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ہمیں کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کبھار ہم اپنی ماں سے کہہ دیتے تھے کہ بتاؤ ماں کیا ہوا تھا۔ کہتی تھیں، چھوڑیں، تعلیم کی طرف جائیں۔ ایسے ماحول سے ہم نکلے ہیں تو وہاں حساسیت خود بخود جنم لے گی۔ میں آج تک یہاں تک آیا ہوں تو میرا خیال ہے کہ انسان کی سب سے بڑی دشمن غربت ہے۔ اگر آپ کوئی معاشرہ یا سسٹم بنانا چاہیں تو سب سے پہلے غربت کو ختم کریں۔ مسئلہ معاشی ہے اور کچھ نہیں ہے۔ یہ اخلاقیات، مذہبیات، جو بھی ہے یہ بعد میں آتے ہیں۔ آپ معاشی سسٹم کو ٹھیک کریں باقی چیزیں خود بخود ٹھیک ہو جائیں گی۔ غربت کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔

س: سماج، سیاست، بیوروکریسی، صحافت سے جڑے رہے۔ ادب کا حصہ رہے۔ سب سے زیادہ کون سا شعبہ آپ کو راس آیا؟
ج: (مسکراتے ہوئے) شعبہ جو میرا تھا وہ سرکاری ملازمت تھی۔ اس میں پروفیشنل وے میں اپنے 30 سے 35 سال گزارے۔ ظاہر ہے ہماری اتنی اچھی کارکردگی نہیں تھی۔ لیکن پھر بھی ہم مطمئن رہے۔ جس شعبے سے ہم منسلک تھے اس سے ہم نے انصاف کیا۔ بڑی کوشش کی۔ ذمہ داری کا احساس تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو سول سروس میں خدمت کا ایک تصور ہے۔ دیکھیں انگریزوں سے متعلق آپ کے خیالات کچھ بھی ہوں، انگریزوں نے یہ سسٹم ایسے بنایا ہے کہ اس میں انسان کی عزت ہے۔ کیپیٹلزم، سوشلزم، کمیونزم ایک الگ بحث ہے۔ لیکن کچھ انسانی اخلاقیات ہیں اور کچھ انسانی سہولتیں ہیں جو ہر گورنمنٹ نے شہریوں فراہم کرنی ہیں۔ یہ انگلش وے آف گورننگ ہے۔ اس میں اسی چیز پر زور دیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو پبلک افیئر کے کسی ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ بنایا جاتا ہے تو آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ عام آدمی تک وہ سہولتیں پہنچ جائیں۔

ہم نے بھی کوشش کی جہاں جہاں رہے عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی۔ اس میں ہم مطمئن بھی رہے۔ سب سے بڑی بات ہے کہ ہم انسانیت کو مانتے ہیں۔ انسانیت ہی اصل شعبہ خدمت ہے۔ باقی چیزیں تو بعد میں آتی ہیں پہلے تو آدمی انسان ہی ہے۔ اگر آپ پہلے مجھ سے پوچھیں تو سب سے پہلے میں انسان ہوں۔ اس کے بعد پتہ نہیں کیا کیا ہوں۔ اس کے بعد بلوچ ہوں۔ اس کے بعد مسلمان ہوں۔ اس کے بعد پاکستانی ہوں….. پتہ نہیں کتنے اور حصوں میں آدمی تقسیم ہو جاتا ہے۔ لیکن انسان ہونا بہت ضروری ہے۔ میں نے ساری زندگی کوشش کی ہے اور بڑوں سے یہی سنا کہ انسان بننا سیکھو۔ ستر سال سے زائد ہمیں ہو گئے ہیں۔ ہم نے انسان بننے کی کوشش کی ہے۔ اور شاید ہم ابھی تک کامیاب نہیں ہو ئے ہیں۔

س: زندگی نے آپ کو قریب سے دیکھا اور آپ نے زندگی کو۔ زندگی نے آپ کو متاثر کیا یا آپ نے زندگی کو؟
ج: نہیں زندگی نے ہمیں متاثر کیا۔ زندگی سے پیار کرنا چاہیے۔ زندگی جو ہے ایک بار ملتی ہے، لوگ کچھ بھی کہیں۔ لیکن یہی زندگی ہے۔ اسی سے محبت کریں۔ دیکھیں انسان کی زندگی بہت مختصر ہے۔ اس مختصر زندگی کو ہم جھیڑے جھگڑوں میں، نفرت میں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کیوں ضائع کریں۔ ہم کیوں نہ امن کی طرف جائیں۔ کیوں نہ انسانیت کے پیغام کو پھیلائیں۔ ہم کیوں نہ محبت کے پیغام کو اور زیادہ وسیع کریں۔ ہم کیوں نہ ایسی قوتوں کا ساتھ دیں جو امن کی طرف جاتی ہوں، جو رواداری سکھاتی ہوں، جو انسانیت کی خدمت بتلاتی ہوں۔

س: لیکن یہ تمام چیزیں انصاف سے آئیں گی نا۔ جب تک انصاف نہیں ہوگا تو یہ ساری چیزیں نہیں ہوں گی؟

ج: دیکھیں جب آپ ایک اچھے انسان بنیں گے تو آپ ظاہر سی بات ہے انصاف بھی لائیں گے۔ انصاف بھی آپ پر انحصار کرتا ہے۔ آپ کی بات درست ہے۔ سسٹم کون بناتا ہے؟ انسان ہی بناتا ہے۔ آپ اگر اچھے انسان ہیں، اچھا سوچتے ہیں اور اس طرح کئی اچھے انسان اکھٹے ہوں، ضابطہ حیات بنا لیں، لائحہ عمل طے کریں یا سسٹم بنائیں تو ظاہر ہے انصاف اس میں نمبر ون ہو گا۔

س: لیاری کی ادھوری کہانی آپ نے لکھی مکمل کہانی کب منظر عام پر آئے گی؟
ج: (ہنستے ہوئے)۔ یہ تو تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ کچھ گوشے ہم نے چھوڑ دیے تھے "لیاری کی ادھوری کہانی” میں تو پچھلے تین چار مہینے سے میں نے کوشش کی ہے کہ وہ جو چھوڑے ہوئے گوشے ہیں انہیں کسی صورت میں سامنے لائیں۔ میری ایک کتاب بہت جلد مارکیٹ میں آ رہی ہے۔ اس کا نام ہم نے رکھا ہے؛’’ لیاری کی ان کہی کہانی‘‘۔ اس میں میری بساط کے مطابق میں نے کہانی مکمل کر دی ہے۔ کوئی ایسا گوشہ رہ ہی نہیں گیا کہ جس کو ہم نے ٹچ نہ کیا ہو۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہتا ہوں کہ کون سی کہانی مکمل ہوتی ہے۔ کہانی کوئی مکمل نہیں ہوتی۔ صرف کردار بدلتے ہیں۔ مثلا ہم لیاری کی کہانی پہ جائیں۔ لیاری کی کہانی تو ختم نہیں ہوئی ہے۔ فرض کریں میں آپ سے کہوں کہ یہ کتاب میں نے لکھی ہے، لیاری کی ان کہی کہانی۔ بس اب لیاری کی کہانی ختم ہو گئی ہے۔ تو یہ غلط بات ہوگی۔ کیونکہ کہانی ابھی چل رہی ہے۔ اور شہروں کی کہانیاں ختم نہیں ہوتی ہیں۔ کراچی کی کہانی کہاں ختم ہوئی۔ کراچی کی کہانی بھی چل رہی ہے۔ تو کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ کردار ختم ہو جاتے ہیں، نئے کردار سامنے آ جاتے ہیں۔ نئے اسکرپٹ رائٹر آ جاتے ہیں۔ یہی کہانی کسی اور شکل میں بھی آ سکتی ہے۔

(ختم شد)

Facebook Comments
(Visited 39 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani