مرکزی صفحہ / حال حوال / ’’لیاری کی ادھوری کہانی‘‘ کے خالق رمضان بلوچ سے مکالمہ (1)
?

’’لیاری کی ادھوری کہانی‘‘ کے خالق رمضان بلوچ سے مکالمہ (1)

مکالمہ: شبیر رخشانی
عکاسی: بشیر ساجدی

مصف خود ایک کتاب ہے۔ مصنف نے اپنے اندر کا خاکہ کتابی شکل میں شائع کیا۔ کتاب ایک سال سے الماری کی زیب و زینت بنی رہی۔ تب خیال آیا، پڑھا۔ پڑھ کر خیال آیا ہم نے بہت دیر کر دی۔ کتاب لیاری کی ادھوری کہانی ہے۔ کتاب کے تخلیق کار رمضان بلوچ صاحب ہیں۔ پڑھنے کے بعد خیال آیا کیوں نہ کتاب پر تبصرہ لکھ کر جان خلاصی کی جائے۔ لیکن کتاب پڑھنے کے بعد خود کو ادھورا ہی محسوس کرنے لگا۔ کئی سوالات ذہن میں ابھرے۔

سوالات کا پلندہ لے کر مصنف کے ہاں پہنچا۔ کتاب کے تخلیق کار میں اپنا وجود پایا۔ سوالات ہلکے تھے، جوابات نے مکالمے کو توانائی بخشی۔ مصنف کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا شمار لیاری کے اہم دانش وروں میں ہوتا ہے۔ لیاری میں سماجی و تعلیمی شعور آگاہی کے لیے مہم چلاتے رہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ وابستگی کوعوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ اس وقت وہ ماہنامہ صدائے لیاری میں بطور چیف ایڈیٹر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا یہ طویل انٹرویو ہم نے ماڑی پور میں واقع ان کی رہائش گاہ پر لیا، جو قارئین کی نذر ہے۔

س: کتاب کا نام لیاری کی ادھوری کہانی کیوں رکھا؟ اور کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
ج: کتاب لکھنے سے پہلے کئی نام ذہن میں آئے تھے۔ تقریبا دس بارہ نام تھے ان میں سے ایک نام جو مجھے زیادہ اچھا لگا اور میرے کچھ دوستوں کو اچھا لگا، وہ ’’ لیاری کی ادھوری کہانی‘‘ تھا۔ کچھ باتیں ایسی تھیں، کچھ واقعات ایسے تھے کہ کسی طریقے سے وہ رہ گئے۔ بیچ میں امن و امان کے لحاظ سے لیاری کی جو حالت تھی، وہ اتنی اچھی نہیں تھی۔ اس کا کافی بیک گراؤنڈ تھا۔ میں سمجھتا ہو ں کہ وہ لیاری کا تاریک دور تھا۔ چونکہ یہ حساس ایشو تھا۔ ہم نے اسے ٹچ ہی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ یہ کتاب کسی این جی او Karachi Youth Initiative نے شائع کی ہے۔ اور انہوں نے ہی فنانس کیا تھا۔ تو ظاہر ہے شائع کرنے والے وہ تھے، ان کے بھی کچھ دائرے تھے، جو انہوں نے ہمیں بتایا تھا۔ تو اس لحاظ سے ہمارے کچھ چیپٹرز تھے، وہ ہم نے نکال سیے تھے۔ اس وجہ سے بھی یہ کہانی ادھوری رہ گئی۔

س: یاداشت کس طرح لکھتے تھے۔ وقت کیسے نکالتے تھے یا پہلے سے سب ڈائری کی شکل میں موجود تھا؟

ج: نہیں کوئی ڈائری میں نے مینٹین ہی نہیں کی۔ ذہن میں کچھ باتیں تھیں۔ پتہ نہیں اسے کیا کہیں کہ بچپن کی جو باتیں تھیں، پہلی سے چوتھی جماعت تک ہم پڑھتے تھے، وہ باتیں ہمیں ابھی تک یاد ہیں۔ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا تھا، اس زمانے میں تعلیم کی کیا پوزیشن تھی، پھر ہمارے گھر کا کیا ماحول تھا، ہمارے محلے میں کیا ہو رہا تھا۔ یہ سب باتیں ذہن میں ہیں۔ تو یہ کوئی ڈائری نہیں ہے۔ باقاعدہ کوئی ڈائری ہم نے مینٹین نہیں کی ہے۔ بس ذہن میں خیال آتے گئے۔ اصل میں ریٹائرمنٹ کے بعد آدمی کے پاس وقت کافی ہوتا ہے تو ریٹائرمنٹ کے بعد یہ خیال آیا، کچھ دوستوں کی فرمائش بھی تھی۔ اس میں شبیر احمد ارمان کا بڑا ہاتھ ہے۔ (مسکراتے ہوئے) میونسپل کارپوریشن نے صدائے لیاری میگزین کے حوالے سے ہمیں انگیج کیا تھا۔ تو صدائے لیاری ہم نکالتے تھے۔ جب شبیر احمد ارمان نے میری باتیں سنیں تو وہ کہنے لگے کہ کیوں آپ انہیں تحریر میں نہیں لاتے۔ سو، ان کے اکسانے پر صدائے لیاری کے لیے اسے قسط وار لکھنا شروع کیا اور یہ چھپتا رہا۔

س: آپ نے گو کہ یاداشتیں لکھی ہیں۔ لیکن اس میں لیاری کی تاریخ بھی موجود ہے۔ تاریخ پر لکھنا کتنا مشکل کام ہے؟
ج: خیر اول تو میں نے کوئی تاریخ نہیں لکھی ہے۔ اس کے لیے بڑے مہارت کی ضرورت ہے۔ کوئی ایکسپرٹ ہو یا باقاعدہ طور پر کوئی ادیب ہو۔ میں سمجھتا ہوں یہ کام لیاری کی دو تین اور اہم شخصیتوں کو کرناچاہیے تھا۔ اس میں محمد بیگ صاحب (بیگ محمد بیگل) ہیں۔ بہت اعلیٰ پائے کے ادیب تھے۔ بلوچی اور اردو زبان میں انہوں نے بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ دوسرے رحیم بخش آزاد صاحب ہیں۔ ادب میں ان کا بھی بڑا نام ہے۔ ان کو لکھنا چاہیے تھا۔ لیکن وہ جو گیپ ہے ناں، جو 50s کے آخر میں شروع ہو کر 70s تک پندرہ، بیس سال ہیں۔ اس دوران لیاری میں بڑے بڑے واقعات ہوئے۔ اچھا وقت بھی آیا، برا وقت بھی آیا۔ مختلف مراحل سے گزرے۔ اس بارے میں جو میری معلومات ہیں اس پر کسی نے کوئی قلم نہیں اٹھایا تھا۔ تو اسی وجہ سے ہم نے کوشش کی ہے۔ ایک چھوٹی سی کوشش تھی۔ یہی ہم نے کیا۔

س: کتاب میں بہت سے دوستوں کا ذکر موجود ہے۔ کئی ایسے نام ہوں گے جن کا نام آپ سے رہ گیا۔ انہوں نے کبھی گلہ نہیں کیا؟
ج: ہاں یہ بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ جن جن دوستوں سے ، جو سماجی شعبوں سے تعلق رکھتے تھے، ان کا نام کسی بھی حوالے سے آ جائے۔ پھر بھی دو چار نام رہ گئے تھے۔ ان سے میں معذرت ہی کرتا رہا۔ اور پھر میں نے کتاب میں لکھ بھی دیا ہے کہ میری یادداشت جہاں تک ہے وہ میں نے لکھ دیا ہے۔ اگر کسی کا نام رہ گیا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ اس میں تقریباً ہمارے جتنے بھی دوست تھے جن سے میں ملا یا جن کے ساتھ میں نے دن گزارے ہیں، تقریبا سب کا جو اہم لوگ تھے، میری دانست میں سب کے نام آ چکے ہیں ۔

س: طلبا سیاست کا حصہ رہے۔ بی ایس او سے وابستگی رہی۔ ایک وقت تھا کہ کراچی خصوصا لیاری میں بی ایس او فعال رہی۔ زوال کی وجہ کیا بنی؟
ج: (سرد آہ بھرتے ہوئے) ہاں تو مجھے سرد آہ بھرنا پڑے گی۔ کیا وقت تھا بی ایس او کا۔ آپ سمجھ لیں بی ایس او کا وجود بلوچستان میں کہیں ہوا ہوگا۔ کوئٹہ میں ہوا۔ اس زمانے میں حکیم بلوچ صاحب تھے۔ صورت خان مری تھے۔ شاید اس کی تشکیل کوئٹہ میں ہوئی ہو۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو پرورش ہے، وہ لیاری میں ہوئی ہے، کراچی میں ہوئی ہے۔ کیونکہ جتنے بلوچ اسٹوڈنٹس تھے، بلوچستان کے اسٹوڈنٹس تھے کراچی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ زیادہ تر ڈاؤ میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے۔ ان سے ہمارا رابطہ ہوا۔ اصل میں ہم نے ایک سوشل آرگنائزیشن شروع کی ہوئی تھی۔ لیاری اسٹوڈنٹس ویلفیئیر ایسو سی ایشن جس کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے۔ سو فیصد ہم نے سوشل فیلڈ پر کام کیا۔ جب بی ایس او کا تذکرہ آیا۔ بی ایس او کے بارے میں ہم نے سنا ، ظاہر ہے ایک لنک پیدا ہوا۔ تو اسی لنک میں پھر ہمارے لیاری کے جو اسٹوڈنٹس تھے، ڈاؤ میڈیکل کالج اور کراچی یونیورسٹی آتے جاتے گئے۔ اس زمانے میں عطا شاد تھا، محبوب جمالدینی تھا، عبدالرحیم ظفر۔ جتنے پرانے لوگ ہیں۔ جنہوں نے واقعی بی ایس او کے لیے کافی کام کیا۔ ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔

سب سے بڑی بات یہ کہ بی ایس او اس زمانے میں ایک طاقت تھی۔ بہت بڑی طاقت تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ کہ بلوچوں کے جو بلوچ قوم پرست لیڈر تھے، ان کی سرپرستی حاصل تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) ایک سیاسی جماعت تھی اور پروگریسو پارٹی تھی۔ اس میں روشن خیال لوگ تھے۔ اس میں جو ہمارا بلوچ طبقہ جو نیشنلسٹ تھے، نیپ کا ایک اہم حصہ تھے۔ نیپ کے صدر تو ولی خان تھے۔ لیکن سندھ اور بلوچستان میں بلوچوں کے ہاتھوں میں تھا۔ ان دنوں ہمارا رابطہ بی ایس او سے ہوا۔ بڑے اچھے دن تھے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس صرف تعلیم پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ شعوری حوالے سے بھی انہوں نے کافی کام کیا۔ اس زمانے میں سمجھاتے تھے ، محفلیں لگتی تھیں۔ رحیم بخش کے ہاں بیٹھکیں لگتی تھیں۔ جہاں ہم اسٹوڈنٹس جاتے تھے۔ اور جوڈاؤ میڈیکل یا کراچی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس تھے، وہ لالا لعل بخش رند کے پاس آتے تھے۔ وہاں پر محفل جمتی تھی۔ لیڈرز آتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں جو بلوچی دیوان ہوا۔ وہ ایک لحاط سے ہمارا مظاہرہ تھا۔ بلوچی دیوان کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں تین سیشن تھے۔ کراچی یونیورسٹی میں پہلی بار بلوچوں کی آواز گونجی۔ وہ محدود بھی نہیں تھا۔ اس میں سندھی ادب کے روشن خیال لوگ تھے۔ فیض احمد فیض صاحب جیسے لوگ تھے۔ ان کو بھی دعوت دی تھی۔ وہ بھی آئے۔ مذاکرے بھی ہوئے۔ بلوچ، بلوچستان کی تاریخ پر اظہارِ خیال ہوا۔ اس کے بعد دوپہر کو پینل ڈسکشن ہوئی۔ شام کو موسیقی کا پروگرام ہوا۔ ابھی تک یادگار ہے۔ اس میں ڈرامے ہوئے۔ ٹیبلو ہوئے۔ یوسف نسکندی صاحب اور استاد فتح محمد نے بلوچی کلچر کے بارے میں ٹیبلو پیش کیا۔ بلوچی کلچر، لٹریچر زیر گفتگو آئے۔ عطا شاد پروگرام کے ماڈریٹر تھے۔ اس وقت اعلان ہوا کہ یہ بلوچی دیوان ہر سال منعقد ہوا کرے گا۔ لیکن بدقسمتی ایسی ہوئی کہ وہ آخری دیوان ثابت ہوا۔ میرے خیال سے 66 کی بات ہے شاید۔ ا

س کے بعد اس لیے نہیں ہوا کہ بدقسمتی سے نیشنل عوامی پارٹی کے دو حصے ہوئے۔ بین الاقوامی طور پر۔ دیکھیں نیپ ایک سوشلسٹ ، بائیں بازو کی جماعت تھی۔ اس زمانے میں روس کا غلبہ تھا روس سے متاثر تھے، روسی لٹریچر پڑھتے تھے۔ روسی لائبریری تھی، وہاں ہم جاتے تھے۔ اس کے بعد جب چائنا میں ماؤزے تنگ کا دور شروع ہوا تو سوشلسٹ جماعتیں دو حصوں میں بٹ گئیں۔ پوری دنیا میں سوشلسٹ تحریک دو حصوں میں بٹ گئی۔ پرو چائنا اور پرو رشین۔ اس کے اثرات نیپ پر بھی پڑے۔ تو یہاں بھی دو حصے بن گئے۔ مولانا عبدالحمید بھاشانی تھے۔ بنگال کے لیڈر۔ کہتے تھے اسے مولانا۔ لیکن وہ سائینٹفک سوشلزم کے حامی تھے۔ وہ پرو چائنا ہوگئے۔ ولی خان جو نیپ کے صدر تھے وہ پرو رشین ہوگئے۔ تو اس کی تفریق پھر یہاں لیاری میں بھی ہوئی۔ یوسف نسکندی صاحب پرو چائنا ہوگئے۔ لعل بخش رند پرو رشین ہوگئے۔ بی ایس او بھی اسی دور میں دو حصوں میں بٹ گئی۔

لیکن بی ایس او کی ایک اور بھی تاریخ ہے۔ کیوں جدا ہوئے؟ اسی جانب آتے ہیں۔ میر غوث بخش بزنجو جو بڑا نام ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کے اصولی لیڈر تھے۔ لیکن ان سے پتہ نہیں غلطی ہوگئی۔ کیا ہوا کہ انہوں نے اچانک لیاری میں قومی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ اْس وقت لیاری اور بلوچستان میں بی ایس او ایک ہی تھی۔ جب بزنجو صاحب نے لیاری سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، تھی تو ہمارے لیے خوشی کی بات۔ اس زمانے میں یہ جو الیکشن ہوتے تھے ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر نہیں تھے۔ وہ ایوب خان کے متعارف کردہ بی ڈی سسٹم کے ذریعے منتخب ہوا کرتے تھے۔ جس میں 80ہزار بی ڈی ممبرز ہوا کرتے تھے۔ میونسپلٹی کے ممبرز کو الیکٹرول میں شامل کر دیا کہ وہ قومی اسمبلی کے ممبروں کا چناؤ کریں گے۔ اس سے پہلے باقی بلوچ جو لیاری میں بڑا نام تھے، وہ لیاری سے الیکشن لڑے تھے۔ جس کی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔ لیکن وہ محمود ہارون کے سامنے ہار گئے تھے۔ جو سرکاری لیگ کے نمائندے تھے وہ جیت گئے تھے۔

جب بزنجو صاحب کا اعلان ہوا تو ہم سوچنے لگے کہ جب باقی بلوچ کی الیکشن مہم میں اتنا جوش و خروش تھا حتیٰ کہ عورتوں میں وہ بڑا مقبول ہوا۔ بلوچی دوچ بھی باقی بلوچ کے نام پر پڑنے لگے۔ اسٹوڈنٹس، سوشل ورکر، پولیٹیکل ورکر سب نے ساتھ دیا مگر اس کے باوجود وہ ہار گئے کیونکہ بی ڈی ممبرز کو ووٹ دینا تھا، عوام کو نہیں۔ بزنجو صاحب کیسے جیتیں گے؟ یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ تو بعد میں پتہ چلا کہ جو محمود ہارون اور یوسف ہارون مسلم لیگ کنونشن کے کرتا دھرتا تھے، انہوں نے ان کو کھڑا کیا تھا۔ بزنجو صاحب نے اپنی کتاب جو بی ایم کٹی نے ترتیب دی ہے، اس میں اس کا تذکرہ آیا ہے۔ جس میں بزنجو صاحب کہتے ہیں کہ مجھے میرے دوست میر حمل خان اور دیگر دو دوستوں نے کراچی بلایا۔ جب میں کراچی آیا تو مجھے پتہ نہیں تھا کہ میں کراچی کیوں آیا۔ جب میں کراچی آیا تو انہوں نے کہا کہ محمود ہارون سے ملنے چلیں، ہم ان سے ملنے گئے۔ تو وہاں پتہ چلا کہ ان کو ایک آدمی کی ضرورت ہے جو ایوب خان کے امیدوار کو گرا دے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ لیاری میں جو الیکشن ہو رہا تھا۔

یہ الیکشن صدر ایوب خان اور گورنر مغربی پاکستان نواب کالاباغ ان کے درمیان ایک جنگ کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ ایوب خان کا جو امیدوار تھا وہ تھے حبیب اللہ پراچہ، جو ایک صنعت کار تھا۔ محمود ہارون کوکوئی اور آدمی نہیں ملا۔ اس نے میر حمل خان وغیرہ سے بات کی انہوں نے میر صاحب کو بلایا۔ میر صاحب نے الیکشن لڑا۔ الیکشن میں میر صاحب جیت گئے۔ نیپ ایک انقلابی و پروگریسو پارٹی، نیشنلسٹ، سوشلسٹ، کمیونسٹ سب کچھ آپ اسے کہہ سکتے ہیں۔ کنونشن مسلم لیگ جو سرمایہ داروں کی جماعت تھی یا رجعت پسند لوگ تھے یا حکومت کے۔ ان کے تعاون سے انہوں نے الیکشن جیتا۔ اس پر ایک تفرقہ ہوا۔ جو میں بی ایس او کی بات کر رہا ہوں تو پھر بی ایس او دو حصوں میں بٹ گئی۔

س: آپ کے خیال میں یہ جو الیکشن تھے، یہ بی ایس او کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کی وجہ بنے؟

ج: لیاری کی حد تک۔ جو دوسرا گروپ تھا وہ بزنجو صاحب کے الیکشن کیمپوں میں نہیں گیا۔ یہ اختلاف الیکشن کے نتیجے سے پہلے پیدا ہوا۔ بی ایس او اینٹی سردار گروپ جس میں ہم شامل تھے، کیمپ میں نہیں گئے۔ وہ جو لڑکے ہم سے بچھڑ گئے، انہوں نے بزنجو صاحب کا کیمپ جوائن کیا وہ پرو سردار ہوگئے۔ ہماری قیادت عبدالرحیم ظفر نے کی۔ پرو سردار میں لطیف (ڈان) تھا، صدیق بلوچ تھا۔ اور پھر جو ڈاؤ میڈیکل یا کراچی یونیورسٹی کے بلوچ اسٹوڈنٹس تھے، وہ بھی بٹ گئے۔ کچھ پرو سردار گروپ میں چلے گئے کچھ ہمارے ہاں آ گئے۔ ہمارے پاس صابر بلوچ آیا۔ محبوب جمالدینی ہمارے کیمپ میں تھا۔ مشتاق بلوچ اور احد جن کا میرے خیال میں تعلق کیچ سے تھا، یہ اینٹی سردار ہوگئے اور وہ پرو سردار ہوگئے۔

س: آپ لوگ کیا سمجھتے تھے کہ یہ جو فیصلہ غوث بخش بزنجو کا تھا، ان کا ذاتی فیصلہ تھا یا اس میں کسی کا عمل دخل شامل تھا؟
ج: میرے خیال میں جو بھی ہوا۔ لیکن پھر بھی ہم انہیں عظیم لیڈر ہی کہیں گے۔ اس وقت جو ہم نے ذہن بنایا ہوا تھا کہ نیپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی ہے۔ مطلب آپ کو ایک نیا نظام لانا ہے۔ آپ کو الیکشن میں حصہ نہیں لینا ہے۔ آپ تو اس نظام کو بدلیں۔ لیکن آپ نے جا کر اسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے نظام کو اپنا لیا۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ میر صاحب کی سادگی تھی یا ان کو دوستوں کی مجبوری تھی۔ یا ان کو ٹھگا لیا گیا۔ کیونکہ وہ صرف ایک مہینے تک قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ اس کے بعد وہ ایوب خان کی جیل میں رہے۔ تو ایک مہینے کے لیے وہ اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں تو ظاہر ہے یہ بڑا دھچکا ثابت ہوا۔

س: لیاری سے بلوچ لیڈران یا سیاسی جماعتوں کا جو ناطہ تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ اس کے محرکات کیا تھے۔ ؟
ج: دیکھیں عطااللہ مینگل ہو، نواب خیربخش مری ہو، میر غوث بزنجو ہو، اکبر بگٹی ہو یا کوئی بھی ہو، ان کو جو شہرت ملی ہے، وہ لیاری اور کراچی سے ملی ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے 1962 میں کے ڈی اے (کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی) نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ ان کی پلاننگ میں یہ تھا کہ لیاری پورٹ ایریا کے نزدیک ہے۔ یہاں کے لوگوں کو ہٹا کر ہم نیو کراچی بھیج دیتے ہیں۔ اور یہاں ہم اپنی پلاننگ کرتے ہیں۔ تو لوگوں نے Resist کیا۔ اسٹوڈنٹس نے ریزسٹ کیا سب نے ریزسٹ کیا ۔اس زمانے کے ڈی اے کی ایکشن کے خلاف ککری گراؤنڈ میں بڑا جلسہ ہوا تھا۔ یہ 62 کی بات ہے۔

اس میں عطااللہ مینگل صاحب آئے میر غوث بخش بزنجو صوحب آئے۔ شیر محمد مری صاحب آئے۔ خیر بخش مری آئے۔ اکبر بگٹی نہیں آئے۔ اکبر بگٹی کی جگہ احمد نواز بگٹی شاید ان کا بھانجا تھا یا بھتیجا، وہ آئے۔ پہلی مرتبہ دنیا کو پتہ چلا کہ بلوچستان میں کوئی مسئلہ ہے اور کراچی میں لیاری والوں کو۔ کیونکہ ان کو اسٹیج دیا گیا۔ باقاعدہ ککری گراؤنڈ میں اسٹیج پر یہ لوگ آئے۔ وہاں عطااللہ مینگل نے اردو زبان میں ایک تقریر کی۔ وہ تقریر اتنی پراثر ثابت ہوئی کہ اس کے بعد وہ سب کے آئیڈیل بن گئے۔ اس کے ساتھ دیگر بلوچ لیڈراں بھی۔ بلوچ لیڈرز اسی جلسے سے ہائی لائیٹ ہوئے۔ یہیں سے اسٹارٹ ہوا۔ پھر اکبر بارکزئی، لعل بخش رند، یہ ساتھ تھے۔ ظاہر ہے یہ نیپ کے تھے۔ پھر اِن لوگوں نے ان کے لیے بڑا کام کیا۔ اور اسٹوڈنٹس میں یہ پاپولر ہوگئے۔

ہم اپنے گھروں میں سب لیڈروں کے تصویریں لگاتے تھے۔ خاص طور پر عطااللہ مینگل کی۔ تو یہ بلوچ لیڈرز کا آنا اور بلوچ نیشنلزم کا اسٹارٹ ہونا لیاری سے ہوا۔ اس سے پہلے بھی ہوئے تھے لیکن وہ لٹریری ۔۔ مثلاً مولانا خیر محمد ندوی نے سب سے پہلے بلوچی میں رسالہ نکالا۔ اور بہت سے لوگ تھے۔ علی محمد مکرانی، مراد آوارانی وغیرہ۔ لیکن سیاسی طور پر یہ پہلا جلسہ ہوا اور یہ لیڈر متعارف ہوئے۔ اب بلوچ سیاست لیاری سے کیسے ختم ہوئی تو ایک واقعہ وہی جو میں نے بتایا۔ جس سے لوگ دلبرداشتہ ہوئے۔ اسٹوڈنٹس طبقہ جو دلبرداشتہ ہوا اس سے بڑا فرق پڑا۔ بی ایس او وہ بی ایس او نہ رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

س: آپ سمجھتے ہیں کہ غوث بخش بزنجو کا الیکشن میں حصہ لینا ایک بڑی غلطی تھی؟

ج: ظاہر ہے غلطی تو بہت بڑی تھی بی ایس او اس الیکشن کے نتیجے میں تقسیم ہوئی۔ اس میں نہ صر ف بی ایس او تقسیم ہوئی بلکہ اس میں نیپ بھی تقسیم ہوائی۔ بعد میں جا کر ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ پہلے ایک آواز تھی اس کے بعد تو بی ایس او کے مختلف دھڑے بن گئے۔ اس کے بعد بی ایس او ایک نہیں رہی۔ ہم اس کا احترام کرتے ہیں مگر اس کے باوجود اسے ایک غلط فیصلہ تصور کرتے ہیں۔ ہاں آپ کا سوال ہے کہ بلوچ نیشنلزم لیاری سے کیسے نکلا۔ میں نے کہا ناں ، یہ اینٹی سردار گروپ کی لیڈرشپ صابر بلوچ اور سب سے زیادہ عبدالرحیم ظفر کے ہاتھوں میں تھا۔ یہ وہی وقت ہے جب پیپلز پارٹی ابھر رہی ہے۔ 67 میں پیپلز پارٹی کا وجود ہوا۔ 67 کی پیپلزپارٹی آج کی پیپلزپارٹی سے بہت ہی مختلف تھی۔ اس زمانے میں یہ بائیں بازو کی جماعت ہوا کرتی تھی۔ جتنے بھی لیفٹسٹ تھے، عبدالرحیم ظفر بی ایس او اینٹی سردار گروپ کے دیگر اراکین بھی اس طرف چلے گئے۔ پیپلز پارٹی کے آنے سے اور ان کے پیپلزپارٹی میں چلے جانے سے بلوچ نیشنلزم کے جذبات ختم ہوگئے۔ پھر وہ جو پرو سردار گروپ ایکٹو رہا انہوں نے بلوچ قومیت کے نعرہ ترک نہیں کیا۔

Facebook Comments
(Visited 64 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani