مرکزی صفحہ / بلاگ / بیت المقدس کا نوحہ اور مسلم امہ کے مگر مچھ کے آنسو

بیت المقدس کا نوحہ اور مسلم امہ کے مگر مچھ کے آنسو

انور عباس انور

امریکی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو میں نے لکھا کہ’’ امریکی طالبان جیت گئے‘‘ نواز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ میں قدر مشترک شدت پسندی سے رومانس ہے۔ ٹرمپ اور نواز شریف کے مابین ایک بات اور قدر مشترک ہے وہ یہ کہ دونوں جو وعدے کرتے ہیں انہیں پورا بھی کرتے ہیں یعنی دونوں وہ بادل ہیں جو گرجتے بھی ہیں اور برستے بھی۔

انتخابی مہم کے دوران جو وعدے ٹرمپ نے کیے وائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہی اکثریتی آبادی والے چھ مسلم ممالک کے عوام کے امریکا داخلے پر پابندی کا وعدہ پورا کر دکھایا۔ وقتی طور پر امریکی عدالتوں نے ٹرمپ سپیڈ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے مگر سپریم کورٹ نے اس کے فیصلے پر جائز ہونے کی مہر تصدیق ثبت کر دی ،اب ٹرمپ کافیصلہ قانون بن گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دوسرا بڑا وعدہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا کیا تھا۔ اپنے دورہ سعودی عرب اور اسرائیل کے دوران انہوں نے عرب ممالک کے موجودہ قائد سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے صاحبزادے موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتوں میں اس کا واضح اشارہ دے دیا تھا کہ وہ بہت جلد یوروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

سعودی عرب کے ولی عہد (اصلی بادشاہ سعودی عرب اختیارات کے حوالے سے) اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے رضامندی کے اظہار کے بعد ٹرمپ نے بالاآخر اپنی انتخابی مہم میں امریکی عوام (یہودیوں) سے کیے گئے وعدے کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے، اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے اس اقدام کے پیچھے ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا ہاتھ ہے ،جو داماد ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کے سنیئر مشیرکے منصب پر بھی فائز ہے۔

جیرڈ کشنر سعودی عرب کے اصل بادشاہ (ولی عہد و وزیر دفاع) محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے ’’ جگری یار‘‘ بھی مشہور ہیں اور سعودی عرب میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور محمد بن سلمان کے تعلقات کے زیر اثر ہیں۔ یپشن گوئیاں کی جا رہی ہیں کہ مزید تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے داماد بزنس پارٹنر بھی ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت ٹرمپ کو یقین دہانی کرا چکی ہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امام شیخ عبدالرحمن السدیس نے بیان دیا ہے کہ بیت المقدس کی مسلمان شہر ہونے کی شناخت برقرار رہے گی۔ امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کے امریکی صدر کے فیصلے کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے یا اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کو سعودی عرب کے حکمران خاندان اور علما کی بھی تائید حاصل ہے۔
اسلامی کانفرنس تنظیم کے بعد مشرق وسطی کے 22 ممالک پر مشتمل تنظیم عرب لیگ نے امریکی صدر کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ نے اپنے اعلامیہ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ امریکا کی اس پالیسی سے انحراف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین بیت المقدس کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعہ نکالیں۔ عرب لیگ نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور تشدد کی لہر میں اضافہ ہوگا۔ عرب لیگ نے امریکا کے صدر کے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا بھی عندیہ دیا ہے لیکن اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ سلامتی کونسل سے امریکا پر پابندیاں لگانے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔

عرب لیگ کے اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شریک لبان کے مندوب نے امریکا کو اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے سے باز رکھنے کے لیے اس کے خلاف معاشی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب لیگ کے صدر نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کو اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر حملہ قرار دیا ہے اور اس فیصلے کو ناقابلِ قبول بھی کہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو مشرقِ وسطی میں نئی جنگ کی شروعات بھی کہا جا رہا ہے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے پس پردہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین وہ تناؤ ہے جس میں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ بیت اللحم (بیت المقدس یا یروشلم) پر ان کا حق ہے کیونکہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کا جائے پیدائش ہے جبکہ یہودی اس پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ عیسائیوں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کو آپس میں لڑوا دیا جائے اور ان دونوں کے ختم ہونے پر بیت المقدس پر اپنا جھنڈا لہرایا جائے۔ مسلمان بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے ہیں اور اسے اپنے زیر تسلط رکھنے کے خواہاں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے اس جاہلانہ اقدام کے خطے سمیت پوری دنیا پر اس کے دورس نتائج مرتب ہوں گے، یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور جنگ کی طرف لے جانے کا باعث بن سکتا ہے اور یہ جنگ مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی اور پوری دنیا کو اپنے شعلوں کی لپیٹ میں لے لے گی جو دنیا کے امن کو تہس نہس کر دے گی۔

دیکھنا یہ ہے کہ عراق اور افغانستان پر اقوامِ متحدہ کو سائیکلو سٹائل مشین کی طرز پر استعمال کرنے والے ’’ عالمی چودہری‘‘ دنیا کے امن سے کھیلنے اور جنگ کے شعلوں کی نذر کرنے والے ’’پاگل ٹرمپ ‘‘ کو باز رکھنے کے لیے کیا اقدامات تجویز کرتے ہیں۔ اور بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل فیصلے کی مذمت کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا کیوں کہ پاگل ٹرمپ باتوں سے ماننے والا نہیں۔

بعض حلقے مسلم امہ خصوصا عرب لیگ کے اعلامیے کو مگرمچھ کے آنسوؤں سے تعبیر کر رہے ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ اگر عرب لیگ کے تمام ممالک صدق دل سے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ امریکہ بائیکاٹ کر دیں اس کا معاشی و اقتصادی پابندیاں لگانے کے ساتھ اس کا حقہ پانی بند کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔

Facebook Comments
(Visited 11 times, 1 visits today)

متعلق انور عباس انور

khas.loag@gmail.com