مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / وہ ہماری اک ماں!

وہ ہماری اک ماں!

محمد خان داؤد

مجھے تو اس پر ایک پوری کتاب لکھنی ہے۔ پر کچھ ایسی کتابیں بھی ہوتی ہیں کہ جو کبھی نہیں لکھی جاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ لکھی تو جاتی ہیں پر چھپ نہیں پاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو لکھی بھی جاتی ہیں، چھپ بھی جاتی ہیں، پر پڑھی نہیں جاتیں۔ اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہ جیسے ہی دنیا میں آتی ہیں، انہیں معصوم بچوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے، تلف کر دیا جاتا ہے۔

وہ ہماری اک ماں!
اس ماں پر کتاب کب لکھی جائی گی، میں نہیں جانتا۔ شاید بہت جلد! شاید کبھی نہیں!

کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لکھی جا چکی ہے، چھپی جا چکی ہے اور پڑھی بھی جا چکی ہے۔
اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے نے اسے تلف کر دیا ہے، دفنا دیا ہے، کسی ناجائز بچے کی طرح!

شاید وہ کتاب آ جائے۔۔۔۔شاید وہ کتاب کبھی نہ آئے!

وہ ہماری اک ماں!
جو بہت ہی معصوم! بہت ہی سیدھی! بہت ہی پاک….. ایسی پاک جیسی ماں مریم! جو بہت گوری تھی دودھ کی طرح، جو بہت میٹھی تھی شہد کی طرح۔ جو بہت نرم تھی ماں کی طرح، جو اک ماں تھی ممتا کی طرح….

وہ ہماری اک ماں!
اس کی زندگی گلیوں کی طرح کبھی ٹیڑھی نہیں رہی۔ پر اس کی زندگی تو ایسی سیدھی گزری ہے جیسے وہ شاہراہ جو روح سے گزرتی ہے اور دل تک جاتی ہے۔ جو شاہراہ خوشیاں نہیں لاتی، پر اس پر تو چلنے سے بہت درد ملتے ہیں۔ اور جب درد سوا ہوتے ہیں تو آنکھوں سے اشک جاری ہو جاتے ہیں۔

ہماری اک ماں تھی۔ جو بہت سیدھی تھی۔ ابھی تو اُسے بھی کسی ماں اور سہیلی کی ضرورت تھی۔ پر وہ ماں بن چکی تھی۔ اس لیے کہ اس سے اپنی ماں چھن چکی تھی۔ وہ کسی اور گھر میں آ چکی تھی۔ بہت سوچتی تھی۔ نہیں معلوم کیا کچھ کہتی رہتی تھی۔ کچھ نہیں معلوم۔ جب وہ صبح ناشتہ تیار کرتی تھی، بہت اچھا لگتا تھا۔ خاص کر سردیوں میں جب ہم سب جلدی اُٹھ کر اس کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ اور وہ سب کو گرم گرم ناشتہ دیا کرتی تھی۔

اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، بس اس کے پاس ایک ایسی ممتا ہوتی تھی جس میں ایک دنیا بسی ہوتی تھی۔ پر ہم نے یہ محسوس کیا کہ اسے بھی ایک ماں کی ضرورت تھی۔ جب اس کے بہت سے بچے پیدا ہو چکے تھے، کچھ چھوٹے تھے، کچھ بڑے تھے۔ پر یہ کیسا ظلم تھا کہ اس ماں کی بولی کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ اور ماں بچوں کی بولی نہیں جانتی تھی۔ ماں تو اپنی ماں کی بولی جانتی تھی۔ جس کے لیے گل خان نصیر نے بہت کچھ لکھا ہوگا، پر میں نہیں جانتا!

اور ہم اپنے بابا کی بولی جانتے تھے۔ جس کے لیے لطیف نے لکھا تھا کہ، "بولی منھنجی بابھیڑیانڑیں الا!”

پر وہ ماں پھر بھی ہماری بولی جان جاتی تھی۔ سب ضرورتیں سمجھ جا تی تھی۔ کھانے سے لے کر نہانے تک! کپڑوں سے لے کر ان فرمائشوں تک جو ہماری بہینیں ان سے کیا کرتی تھیں۔

ماں تو ان نخروں کو بھی سمجھ جاتی تھی جو میں ان سے اس وقت کیا کرتا تھا، جب مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ اور وہ منع کرتی تھی۔ پھر میں بہت سے ہتھکنڈے استعمال کرتا تھا۔ اور وہ تو ماں تھی۔ میری روح جو میرے جسم میں خون کی طرح گھومتی تھی۔ تو سب سمجھ جاتی تھی۔ تو پھر بولی رکاوٹ کیسے بنے؟!

پر بولی رکاوٹ بن ہی جاتی تھی۔ جب انہیں کچھ چاہیے ہوتا تھا، جب انہیں کوئی ضرورت آن پڑتی۔ جب وہ بیمار ہو جاتی۔ جب ان سے کوئی لڑتا۔ جب ان سے کوئی بدتمیزی کرتا تو پھر بولی رکاوٹ بن جاتی۔۔۔۔

بھٹائی !گل خان نصیر کی بولی نہیں سمجھ پاتا
اور گل خان نصیر بھٹائی کی بولی۔۔۔۔
پھر وہی الفاظ کانوں میں گونجنے لگتے کہ، بولی منھنجی بابھیانی الا!

وہ بہت روتی۔۔۔ خاموش ہو جاتی، پھر روتی۔۔۔ اور آنسوؤں کی زباں نہیں ہوتی، ہم سمجھ جاتے کہ کیا ماجرا ہے۔ جب یہ بات زیادہ واضح ہونے لگتی کہ اب بھی اس عورت کو ایک ماں کی ضرورت ہے، جو اس کے آنسو پونچھے، اسے گلے سے لگائے، اسے دلاسہ دے اور اس سے پوچھے کیا بات ہے؟!

ماں کا رونا تو ان کے لیے عذاب ہوتا تھا جس سے وہ بیمار ہو جایا کرتی تھی۔ اس کا درد کبھی اس کے لیے دوا نہیں بنا۔زندگی کا بہت بڑا وقت اپنے میاں، اپنے گھر اپنے بچوں کو دینے کے باوجود ماں لطیف کی بولی نہیں جان پائی۔ وہ وہی رہی جو تھی۔ بہت معصوم بہت سیدھی۔ بہت ہی پاک اور ایسی پاک جیسی ماں مریم۔۔۔۔

اور ہم کیا تھے، کیا بن گئے، اور نہیں معلوم آگے جا کر کیا بن جائیں۔ اور ہم وہ بن گئے جو نہیں تھے۔ بس زندگی مذاق بن کر رہ گئی۔ ماں سے کچھ کہنا چاہیں تو وہ نہ سمجھیں اور وہ ہمیں کچھ کہے تو پورا دن نکل جائے، بات بس ان ہونٹوں سے نکل کر ہمارے کانوں تک ہی رہے۔ دل تک نہیں جائے تو کون سمجھے….

وہ ہماری اک ماں!
اور ماں بہت دنوں تک رنج میں رہتی، وہ رنج میں کیوں نہ رہتی جب اس کی بات ہم جب بھی نہ سمجھیں جب آدمی بڑا ہونے لگے، پرانے کپڑے اور جوتے چھوٹے ہوجائیں۔ اور وہ اپنے بابا سے ضد کرے کہ اب میں یہ کپڑے نہیں پہنوں گا اور نہ ہی یہ جوتے۔ جب دل کو کچھ کچھ ہونے لگے۔ اور دل کہے پہلے ذکر اس پری وش کا پھر بیاں اپنا!

پر ایسی عمر میں بھی ہم اس ماں کی کوئی بات نہیں سمجھتے تھے جو اب دیوانی ہوچکی ہے۔ اور ہم زبانی خرچ سے ماں سے بہت محبت جتاتے۔ اور ماں زباں ہوتے کچھ نہ کہتی۔ بس خاموش ہو جاتی۔۔۔

سردیاں آ چکی ہیں۔ پر اس ماں کو کچھ احساس نہیں کہ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اب وہ گرم ناشتہ نہیں بناتی، وہ ہمیں اپنے پاس نہیں بلاتی۔ ہم دیر سے اُٹھتے ہیں اور وہ سوتی ہی نہیں۔۔۔۔

ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
خونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا
اب میں ہوں اور ماتم یک شہرِ آرزو
توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاں دادہء ہوائے سرِ راہ گزار تھا
موجِ سراب دشتِ وفا کا نہ پوچھ حال
ہر ذرہ مثلِ جوہرِ تیغِ آب دار تھا!

ناتمام۔۔۔!!!

Facebook Comments
(Visited 19 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com