مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / تحریمِ حرف اوستہ محمد کے زیرِاہتمام نعتیہ مشاعرہ

تحریمِ حرف اوستہ محمد کے زیرِاہتمام نعتیہ مشاعرہ

رپورٹ : اسرار احمد شاکر

زیرِصدارت: استاد عاشق علی بلوچ
مہمانِ خاص: پروفیسر منظور وفا عمرانی
نظامت : عبدالوحید تبسم
منتظمین: اسرار احمد شاکر (صدر تحریمِ حرف) صاحب خان صاحب ( نائب صدر ) عبد اللہ بلوچ (جنرل سیکریٹری ) ذوالفقار علی ابڑو (سیکریٹری فنانس) و اراکینِ کابینہ تحریم حرف اوستا محمد۔
خصوصی تعاون: عبدالجبار بنگلزئی (چیئرمین بلوچستان پبلک سکول اوستہ محمد)، عبداللہ پندرانی (پرنسپل بلوچستان پبلک سکول اوستہ محمد)
تاریخ اور مقام: اتوار 3 دسمبر2017 ، بلوچستان پبلک اسکول (نزد عبدالجبار کلینک) اوستا محمد۔

مشاعرے کی کاروائی:
اوستہ محمد میں ادب کے فروغ کے لیے تحریمِ حرف کے زیرِ اہتمام نعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تحریمِ حرف کو یہ افتخار حاصل ہے کہ اس نے اپنے قیام کے فوراً بعد اپنے پروگرام کا آغاز نعتیہ مشاعرے سے کیا ہے۔ نعتیہ مشاعرے کی کاروائی کی باقاعدہ شروعات اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے ہوئی، جس میں تلاوت کلام پاک کی سعادت مسعودالحسن نے حاصل کی۔ صفی اللہ سیفی نے حمد باری تعالیٰ سے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے لیے بلوچستان پبلک اسکول کے ہونہار طالب علم نے محفل کو پُرنور بنایا۔ اس کے علاوہ سیف الرحمٰن صاحب نے ترنم کے ساتھ ، بڑے والہانہ انداز میں بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔

تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد راقم الحروف نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ تحریم حرف کے قیام اور اغراض و مقاصد پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ سیاسی، سماجی ، علمی اور ادبی اعتبار سے اوستا محمد شہر کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ لیکن عرصہ دراز سے یہاں ادبی تنظیم کا نہ ہونا کسی المیے سے کم نہ تھا۔ چنانچہ نسلِ نو کی علمی اور ادبی آبیاری کے پیشِ نظر تحریمِ حرف کی بنیاد رکھی گئی ہے، جو کہ اس تنظیم سے وابستہ تمام دوستوں کے ادبی ذوق، محنت اور لگن کا ثمر ہے ۔

تحریمِ حرف خالص علمی اور ادبی تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد ایسا ادب تخلیق کرنا ہے جو براہِ راست عوام سے جڑا ہو۔ جو انسانی زندگی کے قریب تر ہو۔ ایسا ادب جو عوام الناس کے جذبات ، احساسات اور خیالات کی ترجمانی کرے۔ ایسا ادب جو عقائد اور ریاست کی نظریاتی و جغرافیائی اساس سے متصادم نہ ہو۔ اسی دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین ادب تخلیق کرنا اور اسے پروان چڑھانا ہمارا بنیادی مقصد ہے تاکہ معاشرے میں ادب دوستی کے ذریعے شعور کی راہیں طے کی جا سکیں۔

تنظیم کے اغراض و مقاصد:
۱ ادبی نشستوں کا انعقاد کرنا۔
۲ مشاعرے اور کانفرنسز کا انعقاد کرنا۔
۳ لائبریریوں کا قیام اور کتب میلے کا اہتمام کرنا۔
۴ کتب بینی کو فروغ دینا تاکہ اردواورمقامی زبانوں میں شائع ہونے والے ادب کی ترویج و اشاعت ہو سکے۔
۵ ادیبوں اور ادب کی بقاکے لیے کام کرناوغیرہ شامل ہیں۔

مشاعرے کی صدارت ڈیرہ اللہ یار سے آئے ہوئے مہمان شاعرعاشق حسین بلوچ نے کی، جب کہ صحبت پور سے آئے ہوئے معروف شاعر پروفیسر منظور وفا عمرانی صاحب اس محفل کے مہمانِ خصوصی تھے۔ صحبت پور بلوچستان کے گاؤں بھنڈ شریف سے مہمان شاعر محمد رفیق طالب بھی اس ادبی اور نعتیہ محفل میں رونق افروز ہوئے، جنہوں نے اپنے شیریں کلام سے سامعین کے ایمان کو تازگی بخشی۔ مقامی شعرا میں صاحب خان صاحب، غلام حسین چانڈیو، عبدالرحمان اورمحمد طاہر نے اپنے کلام سے محفل میں رنگ بھرے۔ تمام شرکانے مہمان شعرا کو بھرپور دادددی اور مقامی شعرا کی بھی خوب حوصلہ افزائی کی۔ دیگر معزز مہمانوں میں استاد محمد صدیق، نثار احمد ابڑو، نور احمد جتک، غلام رسول آزاد، عبدالحق لہڑی اور خادم حسین جمالی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

آخر میں مہمانِ خاص پروفیسر منظور وفا عمرانی نے تحریم حرف کے قیام اور اس سے وابستہ نوجوانوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تنظیم کو یہاں کے ادب اور شہر کے لیے نیک شگون قرار دیا۔ حرف کی حرمت اور ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اوستا محمد کالج میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عابد میر، اسرار شاکر، نثار احمد، غلام رسول آزاد اور کچھ دیگر شاگردوں سے اسی وجہ سے بھی اب تک میرا تعلق قائم ہے کہ ان میں ادب سے وابستگی کا رجحان زیادہ تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ عابد میر کے یہاں سے کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد ادبی حوالے سے جو تعطل پیدا ہوا تھا، تحریمِ حرف کے قیام اور ادبی محافل کے انعقاد سے ایک بار پھر علمی اور ادبی سفر کا آغاز ہوا ہے۔

محفل کے اختتام پر درود سلام پڑھا گیا اور تمام شرکا کے علم و ادب میں برکت کی دعا کی گئی۔

مشاعرے میں پیش کیے گئے گلہائے عقیدت میں سے انتخاب۔

استاد عاشق حسین بلوچ
رب کی رحمت سے بصد موجِ فراغانی عروج
ہے فدا آقا پہ روحانی و جسمانی عروج

ہے غذا روح کی نعتِ شاہِ زمن
اور ہونٹوں پہ زیور درود وسلام

محمد رفیق طالب
اس جہانِ رنگ و بو میں میرا اپنا کچھ نہیں
آپ ہی سب کچھ ہیں میرے ورنہ میرا کچھ نہیں

ہم کو جو کچھ ملاسب خدا سے ملا
پر خدا کا پتہ مصطفےٰ سے ملا

صاحب خان صاحب
جس کو آقا کا سہارا مل گیا
اس کی کشتی کو کنارہ مل گیا
پیار کے قابل تو ہیں سب انبیا
پر ہمیں پیاروں کا پیارا مل گیا

غلام حسین چانڈیو
میں جب پیارے آقا کا نام لیتا ہوں
اس وقت میں طہارت سے کام لیتا ہوں

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق اسرار احمد شاکر

اسرار احمد شاکر
اسرار شاکر کا تعلق ضلع جعفرآباد کے شہر اوستہ محمد سے ہے۔ بنیادی طور پر فکشن کا بندہ ہے۔ افسانوں کی ایک کتاب "میرے بھی کچھ افسانے" کے عنوان سے چھپ چکی ہے۔