مرکزی صفحہ / بلاگ / جو اپنے دیس پہ قرباں ہوئے تھے!

جو اپنے دیس پہ قرباں ہوئے تھے!

خالد حسین بگٹی

آج سے تقریباً 8 سال پہلے ضلع ڈیرہ بگٹی میں ایک ایسا المناک واقعہ پیش آیا شاید ہی کبھی انسانی تاریخ میں ایسا ہوا ہو. آج سے 8 سال پہلے ایک 12 سال کے معصوم بچے اغوا کر کے بے رحیمانہ انداز میں قتل کیا گیا. ایک ننھے سے جسم پر گولیوں کی برسات کر دی گئی اور تقریباً پچیس گولیاں ایک ننھے سے جان پر برسائی گئی اور اس کے قاتل آج بھی زندہ اور آرام سے زندگی بسر کر رہے ہے. کیا قاتلوں سے حساب لینے والا کوئی نہیں.
انسان کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو، ہر قسم کے خوف کا مقابلہ کرنے والا ہو، دشمن سے لڑنے والا ہو۔لیکن وہ بچے کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔وہ بچے اُس کے اپنے ہوں یا کسی اور کے۔ اور موت بھی ایسی ہو کہ موت بھی کانپ جائے۔ موت کا فرشتہ بھی اُن کی روح قبض کرنے سے پہلے ﷲ سے سوال کرے۔ کہ اے اﷲ کیا تو ان معصوم بچے کو مارنے والوں کے ہاتھ نہیں روک سکتا۔ ۔۔؟؟؟کیا تو ان ننھے پھول کو مسلنے سے نہیں بچا سکتا۔۔۔؟؟؟ موت کا فرشتہ جب ان ننھے فرشتے کی روح لے کر آسمان پر پہنچا ہو گا تو سب فرشتوں نے یک زبان ہو کر اﷲ سے عرض کی ہو گی کہ اے رب العزت کیا ہم نہیں کہتے تھے کہ یہ انسان جس کی تو تخلیق کرنے والا ہے وہ زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اپنے ہی لوگوں کا خون بہائے گا۔ تو آج ہماری بات سچ ثابت ہو گئی ہے۔ زمین پر فساد ہو رہا ہے۔ معصوم لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ آزادی کے ٹھیکیدار اس دنیا کو جہنم بنا رہے ہیں۔۔۔۔ انسان کتنا ہی سنگدل کیوں نہ ہو۔ معصوم بچوں کے چہرو ں پر چھائی ہوئی اُداسی انہیں نرم دل بنا دیتی ہے۔ معصوم بچوں کی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو پتھروں کو بھی پگھلا دیتے ہیں۔ تو پھر وہ کون لوگ تھے ۔۔۔؟ وہ کس مٹی سے بنے تھے۔ ۔۔؟کیا اُن کے سینوں میں دل نہیں تھے۔۔۔؟ جن کے معصوم بچوں پر ظلم کرتے ہوئے ہاتھ نہیں کانپے۔ جو ان معصوم بچے کی آنکھوں میں آئے ہوئے خوف کو نہیں دیکھ پائے۔جو ان مظلوم کی چیخوں کو نہیں سن سکے۔لہو میں ڈوبے ہوئے لاش ان ظالموں کو مزید ظلم کرنے پر نہ روک سکے۔ آخر یہ درندہ صفت لوگ کون ہیں؟ کیا ان کے اپنے بچے نہیں ہیں؟ کیا ان کا کوئی گھر بار نہیں ہے؟ یہ وحشی درندے کس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں؟ ان کا مقصد صرف اور صرف بد امنی ہے۔ ہمارے پیارے وطن کے دشمن اس ملک کو آگ لگانا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپس میں لڑا کر اس ملک پر اپنا قبضہ جمانا چاہتے ہیں۔خود کو مسلمان کہنے والے نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔

ہم نے بہت قربانیاں دے چکے۔ بہت خون بہا لیا۔ بہت سے بچے یتیم کروا لیے۔ بہت سے سہاگ اجڑ گئے۔ بہت سی مائیں اپنے بچوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اب ان قربانیوں کے رنگ لانے کا وقت ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ پاک آرمی اپنے اس نیک مقصد میں ضرور کامیاب ہوکا .
انشاءﷲ ایک دن آئے گا کہ ہم اپنے ملک اور ڈیربگٹی کو جنت بنتا دیکھ سکیں گے۔ کیونکہ بچوں کی قربانی سے بڑی قربانی کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ کون ہے آزادی کے دعوے داروں چہنوں نے معصوم بچے کو جنت میں پہنچا کر خود اپنے لیے دوزخ خرید لی۔وہ دنیا میں ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی رسوائی اُن کا مقدر ہے۔ وہ بچے مرے نہیں زندہ ہیں۔ کیونکہ شہید مرتے نہیں۔
میں اپنے معصوم شہید بھائی وڈیرہ جاوید حسین نوثانی بگٹی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے افتخار احمد افی صاحب کی ایک نظم پیش خدمت ہے۔
آج جنت میں بہت شور بپا ہے یارو!
فرشتے دید کے مشتاق نظر آتے ہیں
حوریں ہاتھوں میں گلدستے لیے پھولوں کے
بڑی مسرورنگاہوں سے اُنہیں تکتی ہیں
تخت طاؤس کے اطراف میں اہل جنت
بڑے تپاک سے نظریں جمائے بیٹھے ہیں
جو اپنے دیس پہ قرباں ہوئے تھے یارو!
سروں پہ تاج سجائے خوشی سے بیٹھے تھے
اتنے خوش تو وہ زمیں پر بھی نہیں رہتے تھے
حوض کوثر کے اُنہیں جام دیے جاتے تھے
اسی اثناء میں اعلان ہوا اے لوگو!
رسول ﷺپاک کی آمد کی گھڑی آ پہنچی
بڑے ادب سے متانت سے کھڑے ہو جاؤ
ہر طرف نور کی برسات کی روانی تھی
میرے خیال کی اتنی سی بس کہانی تھی
میرے خیال پہ یہ وقت کڑا ہے لوگو!
اک مفتی میری راہوں میں کھڑا ہے لوگو!

Facebook Comments
(Visited 50 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔