مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / خالی سڑکوں کی اُداسی کو دیکھو!

خالی سڑکوں کی اُداسی کو دیکھو!

محمد خان داؤد

اِن ہی سڑکوں نے اُس شاہ زیب کو بھی اپنے قریب قتل ہوتے دیکھا جو اب اک خواب بن چکا ہے۔ایسا خواب جسے دیکھا جائے تو بہت ہی دھندلا نظر آتا ہے۔اگر نہ دیکھا جائے تو دل بے قرار سا رہتا ہے۔ اگر خواب میں نہیں اُسے خیال میں رکھا جائے تو وہ خیال میں بھی نہیں آتا۔ وہ خیال میں کیوں آئے ہم لوگوں نے اس کے لیے کیا کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اُس کے قتل کے بعد غریبی بُرے طریقے سے ہاری ہے اور امیری نے اپنی فتح کا جشن منایا ہے۔

وہ سڑکیں جب بھی خالی تھیں۔ جب ان پر ایک گاڑی آکر رُکتی ہے۔ اور وہاں سے بندوق بردار وڈیرا کا بیٹا اپنی بندوق سے شاہ زیب کا قتل کر دیتا ہے۔
اور وہ سڑکیں اب بھی خالی ہیں جب ایک طاقتور شخص کا بیٹا غصے میں ایک گاڑی کا پیچھا کرتا ہے۔اور بہت قریب سے جا کر مزدور کے بیٹے کے سینے میں اپنی بندوق خالی کردیتا ہے۔
اور پھر چھپ جاتا ہے!

وہ سڑکیں جب بھی اُداس تھیں تب شاہ رخ جتوئی اپنی نوابی دکھا کر ناحق خون کر دیتا ہے۔ اور اُسے کوئی نہیں پوچھتا۔ سڑکیں یہ سب تماشہ دیکھ رہیں تھیں۔حالاں کہ وہ اس خونِ ناحق کی چشم دید گواہ تھیں۔ ان سڑکوں نے سب دیکھا تھا۔ دیکھا کیا پر اپنے بہرے کانوں سے سب سُنا تھا کہ پہلی گالی کس نے دی! ان سڑکوں نے یہ بھی دیکھا تھا وہ شاہ رخ جتوئی ان کا کب سے پیچھا کر رہا تھا۔ اور جب قریب آیا تو اس نے اُس لڑکی کو کیا کہا جو لڑکی شاہ زیب کی بہن تھی؟
آج وہ بہن بھی ہے۔ پر شاہ زیب کہاں ہے؟ وہ تو بہت دور جا چکا ہے۔ خوابوں سے بھی اور خیالوں سے بھی۔ بس سڑکیں رہ گئیں۔ جو اُداس بھی ہیں۔ اور ویران بھی!

شاہ زیب کے قتل کے نتیجے میں سب کے حصے میں کچھ نہ کچھ آیا شاہ رخ کے وڈیرے باپ کے حصے میں آیا کہ وہ انصاف کو پیسے سے قتل کر دے. شاہ رخ کے حصے میں آئی وہ ٓزادی جس کا وہ مزا لینے یورپ چلا جائے گا. شاہ زیب کے حصے میں آئی ایک اداس قبر، شاہ زیب کے والد کے حصے میں آئی بہت سے جائیداد! شاہ زیب کی بہن کے حصے میں آئے نہ ختم ہونے والے آنسو! میڈیا کے حصے میں آئی ایک خبر جو بہت جلد مر گئی. سول سوسائیٹی کے حصے میں آیا وہ احتجاج، جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا! اور شاہ زیب کی ماں کے سینے میں آئی ایک قبر، جو اب بھی تازہ ہے اور روز وہاں میت کی تدفین ہوتی ہے۔ لوگ آتے ہیں شاہ زیب کو دفن کرتے ہیں۔ اور پھر لوٹ جاتے ہیں۔ اپنے اپنے گھر۔ پر وہ ماں جب وہاں سے لوٹتی ہے۔ جب بھی وہیں ہوتی ہے۔ اور جب نہیں لوٹتی تو کہاں ہوتی ہے؟!!!

اور ان سڑکوں کے حصے میں کیا آیا جو شہر کے پوش علاقے میں ہونے کے باوجود بھی ویران ہوتی ہیں۔ جہاں پر گھر کیا! لوگ کیا پر وہ سڑکیں بھی ایک دوسرے کو نہیں جانتیں کہ یہ کہاں سے آتی ہیں؟ اور کہاں جاتی ہیں؟ کہاں سے شروع ہوتی ہیں؟ کہاں سے ختم ہوتی ہیں؟ ایک سڑک یہ تو جانتی ہے کہ اُس کے ماتھے پر ،،ڈفینس سینٹرل لائیبریری،، لکھا ہوا ہے۔پ ر وہ سڑک یہ نہیں جانتی کہ اُس کے پاس والی سڑک کا نام کیا ہے؟ تو جب سڑکوں کا یہ حال ہو تو ان پوش ایریاز میں گھر گھروں کو کیسے جانے ؟ لوگ لوگوں کو کیسے جانے؟ تو پھر ان سڑکوں پر ان کی داداگیری ہوتی ہے جن کے پاس بڑی لگژری گاڑیاں۔ان گاڑیوں میں ولائیتی کتے،بھوکنے والے دوست۔اور وہ آتشی اسلحہ موجود رہتا ہے۔ جس سے وہ ان غریبوں کی جان لے لیتے ہیں۔ جنہیں کوئی نہیں جانتا۔ان کی شناخت تب ہوتی ہے جب ان کی مردہ حالت میں تصویریں اخباروں میں چھپ جا تی ہیں۔ جب اُن کے جیبوں سے ان کے شناختی کارڈ ملتے ہیں۔ جب ان کے موبائل فون سے جانچا جاتا ہے کہ اِس نے آج کسے فون کیا تھا؟ تب جا کے ان کے مردہ اجسام ان کے گھروں تک پہنچ پاتے ہیں۔ جن کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔

اور ایک دو دن کے بعد وہ اخبار بھی خاموش ہو جاتے ہیں جو پہلے بہت ہی طمطراق سے ان کی خبریں اپنے فرنٹ پیج میں پہ شائع کرتے آ رہے تھے۔
پھر وہی گاڑیاں۔ وہ کتے۔ وہی بھوکتے دوست۔ وہی تیز میوزک۔ اور وہ آتشی اسلحہ! اور پھر وہ گولیاں چلتی ہیں۔ اور سڑک کے کنارے کوئی نہ کوئی مردہ حالت میں پایا جاتا ہے۔ اور جس نے گولیاں چلائیں انہیں انسان تو کیا پر فرشتے بھی نہیں جانتے۔

ان گولیوں سے وہ قتل نہیں ہوتے جو بس یہی سمجھتے ہیں کہ وہ سب سے اچھے ہیں۔ سب ٹھیک ہے۔ پر وہ قتل ہی وہ کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب سے اچھے ہیں۔سب سے ٹھیک ہے۔ پر ان چلتی گولیوں سے وہ قتل ہو جاتے ہیں جن کے لیے کرشن چندر نے لکھا تھا کہ ،،وہ کبھی اپنے آپ کو صحیح اور دوسرے کو خراب نہیں سمجھتے۔ کیونکہ انسان کی آدھی زندگی اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے میں ہی گزر جاتی ہے۔ پر وہ تو ایسے ہیں کہ اپنا دکھ سکھ، اپنی غلطیاں اور یہاں تک کہ اپنے الزام بھی مل بانٹ کر رکھتے ہیں اسی میں وہ خوش رہتے ہیں!،،
اور ایسے ہی لوگ وڈیروں اور نوابوں اور جاگیرداروں کے نالائق بچوں کی بھونکتی بندوقوں سے ما رے جاتے ہیں۔اور ویران سڑکیں یہ سب تماشہ دیکھتی رہ جاتی ہیں۔

ابھی تو میڈیا میں شاہ رخ جتوئی کی ممکناں رہائی کی باز گشت سنائی دے رہی تھی کہ پھر وہ تماشہ ہوگیا۔ اور گولیاں اُسی پوش علاقے میں چلیں جس علاقے میں شاہ زیب کو قتل کیا گیا۔اور اب ظافر فہیم کو قتل کیا گیا۔ اور شیکسپئیر نے کہا تھا کہ ،،نام میں کیا رکھا ہے!،،

یہ بات اگر ہم نہیں جانتے تو وہ بڑے آدمیوں کے بچے ضرور جانتے ہیں کہ "نام میں کیا رکھا ہے،، شاہ رخ جتوئی اُٹھتا ہے شاہ زیب کو قتل کر دیتا ہے اور خاور برنی اُٹھتا ہے ظافر فہیم کو قتل کر دیتا ہے۔ پھر پیسہ پانی کی طرح استعمال ہوتا ہے۔اور وہ آگ ٹھنڈی پڑ جا تی ہے جو انصاف کے سینے میں جل رہی ہوتی ہے۔ جیسے ہی وہ آگ بھڑکتی ہے۔ بیچ کے لوگ فائیر فائیٹر بن کے اس معاملے کو بھجا دیتے ہیں اور وہ ماں روتی ہی رہ جاتی ہے جس کے سینے میں دو تصوریں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رُک سی جاتی ہیں۔

ایک اپنے جوان بیٹے کے مُسکراتے تصویر۔ اور ایک وہ تصویر جو اس کے سینے میں قبر کی بن جاتی ہے۔ پیسہ جیت جاتا ہے۔اور ماں ہار جاتی ہے۔ ماں معصوم ہوتی ہے وہ نہیں جانتی کہ پیسہ کیا ہوتا ہے۔ پر پیسہ مکار ہے وہ جانتا ہے کہ ماں کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بس۔۔۔۔۔۔ایک۔۔۔۔سیدھی سادھی۔۔۔ماں!

پر اُن سڑکوں کی اُداسی کو کون دیکھتا ہے جو بہت اکیلی ہوتی ہیں۔ ان سڑکوں سے لوگ نہیں گزرتے۔ اور لوگ کیوں نہیں گزرتے۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے؟اس پر سوچا جا سکتا ہے۔ پر ان سڑکوں پر تو گاڑیا ں بھی ایسے گزرتی ہیں۔ جیسے فائیو اسٹار ہوٹل کے سامنے کوئی فقیر!

گاڑیاں گزر جاتی ہیں۔ پر ان سڑکوں پر تو وہ بچے بھی نہیں ہوتے جوان رُکتی گاڑیوں کے اپنے معصوم ہاتھوں سے شیشے صاف کرتے پھرتے ہیں۔ ان اداس سڑکوں پر کوئی نہیں۔ کوئی نہیں!

اس لیے اُن "خالی سڑکوں کی اُداسی کو دیکھو!،،

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com