مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچ نوجوان اور دور حاضر کے تقاضے

بلوچ نوجوان اور دور حاضر کے تقاضے

اشرف بلوچ

علم اور سیاست سے بے خبر ہوتے ہوئے قلم اٹھا کر لکھنے کی جسارت کر ر ہا ہوں تو سب سے پہلے اپنی غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں۔ ویسے لکھنے کا حق اس فرد کو حاصل ہونا چاہیے جس کا علم و عمل کے میدان میں کوئی کردار ہو۔ یہ میری ناقص رائے ہے اور ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ ایک دوست نے بہت ہی خوب لکھا تھا کہ "لکھنے کے لیے پڑھنا ضروری ہے” اس کی یہ بات میری دل میں لگی لیکن اس کے باوجود اپنی روایتی سوچ کو برقرار رکھتے ہوئے پڑھنے کے بجائے لکھنے کو فوقیت دے رہا ہوں اور اس دلیل کے ساتھ لکھ رہا ہوں کیونکہ ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے کچھ ایسے عوامل جو کہ کتابوں سے منسلک نہیں ہیں اور میری (عوام کی) تباہی کی باعث بنتی جارہی ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں ان کی ترقی میں ان کے نوجوانوں کی محنت ضرور شامل ہے۔ تاریخی نابلدی کے ساتھ ناکام کوشش کرتے ہوئے یہ کہ انگریزوں کا ایشیاء میں آجانے اور واپس چلے جانے کے بعد بلوچ نوجوانوں نے جس طرح اپنے آپ کو قوم کی تعمیروترقی کیلئے وقف کردی تھی شاہد یہ مثال دیگر اقوام کے نوجوانوں کے لیے موجود نہ ہو۔ روس کی افغانستان میں چڑھائی کے بعد امریکہ اور پاکستان نے اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے روس کے خلاف اتحادی بن گئے تھے(جوکہ یہ اتحاد ہماری تاریخی غلطی تھی) امریکہ کے ڈالر اور پاکستان کے man power یعنی افرادی قوت (جوکہ یہ عمل اپنے آپ کو آگ میں دھکیلنے کے مترادف عمل تھا) کی بنیاد پر (جس کی خمیازہ آج ہم بگھت رہے ہیں) طے ہوگیا تھا۔ مختصراً اسی اتحاد کی بنیاد پر پاکستان میں مدارس کے جال بچھنے لگے۔ انتہائی مکّاری اور چالاکی کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے نام پر پروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور سادہ لوح عوام ان کی بہکاوے میں آکر دوسروں کے جنگی ایندھن بننا شروع ہوگئے۔ اور ہماری اس نا ناقص العقلی کی وجہ سے آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں شاید اس کو بیان کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

یہی سب کچھ ہو رہا تھا اور بلوچ نوجوان کوہِ چلتن اور شاشان کی طرح کھڑے ہوکر بلوچ عوام کو اس دھوکے سے باز رکھنے میں کامیاب ہوگئےتھے۔ بلوچ عوام کو دوسروں کے جنگ میں ایندھن بننے نہیں دیا گیا۔ یہ عمل پوری بلوچ تاریخ میں بلوچ نوجوانوں کی قومی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔ اس طرح کی عظیم کوشش اور کاوشیں بغیر کسی تنظیم یا ادارے کے ہرگز ممکن نہیں تھے اور یہ عظیم کاوش بی ایس او (بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کی تھی۔ بی ایس او کی جدوجہد اور قومی خدمت کے جذبے کو دیکھ کر نااہل حکمرانوں نے مختلف ہتھکنڈے آزما کر بی ایس او کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی. کیونکہ وہ دھاڑی اور جذبے کی فرق کو جاننے سے قاصر تھے یا اس پر انہوں نے سوچنا ہی گوارہ نہیں کیا تھا۔

وہی حالات و واقعات مختلف روپ میں پچھلےکئی سالوں سے اپنی وجود برقرار رکھی ہوئی ہیں .70ء اور 80ء والے دہائی جیسے چیلنجز آج بھی اپنا سر منڈلارہے ہیں وہی ڈالر کے پجاری پورے خطے کو آگ کی بٹی بنانے پر تلے ہیں پوری مکاری اور چالاکی کے ساتھ پوری دنیا کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ مظلوم اور محکوم اقوام کے لیے اس عمل کے بہت خطرناک نتائج برامد ہونگے ۔ یہی وقت ہے کہ عوام کو اس پر خطر راستے پر چلنے نہیں دیا جائے ورنہ مستقبل قریب میں بلوچستان بھی افغانستان ، فاٹا اور سوات کا منظر پیش کرنے لگے گا۔ ویسے بھی اس عمل نے ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر بلوچ اور پشتو اس عمل سے کافی حد تک متاثر ہوچکے ہیں۔ کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ ہو یا سول ہسپتال میں وکلا برادری پر حملہ اور ہزارہ برادری پر حملے، پشاور میں اے پی ایس، باچاخان اور عبدالولی خان یونیورسٹی جیسے واقعات اور موجودہ پشاور یونیورسٹی میں پشتو نوجوانوں پر حملہ ان سے بڑھ کر اور کوئی تباہ کن مثال ممکن ہی نہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر علاقے بھی کافی حد تک اس عمل سے متاثر ہوچکے ہیں۔

ابھی بھی وقت ہے کہ بلوچ نوجوان بی ایس او کی پلیٹ فارم میں شامل ہوکر اپنی عوام کو اس مہلک بیماری سے بچانے کیلئے دن رات ایک کرے۔ ملک کے دوسرے اقوام کے نوجوانوں کو بھی قومی سطح پر کافی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی یہ بیماری کافی حد تک ہمارے معاشرے کے اندر سرایت کرچکی ہے اور ابھی بھی وقت ہے کہ اس کا علاج کیا جائے۔ یہ لکھنے کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اسلام یا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں۔ بلکہ یہ واضح کردوں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اسلامی تعلیمات کے تحت نہیں ہورہا بلکہ ڈالر کے برکت سے اور نااہل حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہورہا ہے اور کچھ پیسوں کے پجاری پوری قوم کو خطرات سے دو چار کر رہے ہیں۔ اس پر صرف بلوچ کو نہیں ملک میں رہنے والے تمام اقوام اور شعور رکھنے والے افراد کو آواز اٹھانا چاہئے کیونکہ آگ جب پھیل جاتی ہے تو اس میں خشک اور تر سب جل کر راک ہوجاتے ہیں.

Facebook Comments
(Visited 44 times, 1 visits today)

متعلق اشرف بلوچ

اشرف بلوچ
اشرف بلوچ کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں بی ایس کر رہے ہیں. طلبا سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور اسی موضوع پر لکھتے ہیں۔