مرکزی صفحہ / خصوصی حال / آئیں، تعلیمی رضا کار بنیں ۔۔۔۔

آئیں، تعلیمی رضا کار بنیں ۔۔۔۔

خلیل رونجھو

پڑھے گا بلوچستان، بڑھے گا بلوچستان، کا خواب یقیناً میرے جیسے تمام ان رضا کاروں کا ضرور ہے جو چاہے کسی بھی شعبے سے وابسطہ ہوں. فروغ تعلیم کے لیے ہر وقت کوشاں ہوتے ہیں اور تعلیم کو ممکن بنانے کے عزم لیے ہوتے ہیں کیونکہ تعلیم ترقی صرف ریاست کا کام نہیں. بلکہ اس کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کوشش رضاکارانہ طور پر ہی کرنی ہوگی ۔

مجھے بطور سماجی کارکن سماجی ترقی کے شعبے میں کام کرتے ہوئے گزشتہ کئی سالوں سے نوجوان رضاکاروں سے واسطہ پڑا ہے. اس مضبوط رشتے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ٹھہری کہ میں خود بھی بہت سارے شعبہ جات میں اپنی خدمات بطور رضا کار پیش کرتارہاہوں جس میں بطور تعلیمی ایمبسیڈر کے طورپر اپنی خدمات کی فراہمی کویقینی بنایا ہے ۔ آج رضاکاریت کا عالمی دن ہے اس دن کے مناسبت سے ان تمام رضاکاروں کو سلام پیش کرنا ہے جو عوامی شعور اگاہی، صحت کے مسائل، فوری امداد کی فراہمی کے ساتھ تعلیم کو ممکن بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔

انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے والے لوگ معاشرے کا بہترین سرمایہ ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ لوگ دنیا میں محبت، احساس، امن اور انسانیت کے سفیر ہوتے ہیں۔ ان رضا کاروں کی وجہ سے ہی دوسرے لوگوں میں انسانوں کی مدد کرنے اور بھلائی کرنے کا ایک تصور پیدا ہوتا ہے۔ ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آنا کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ایک مخلص رضاکار بغیر کسی لالچ کے انسانوں کی مدد کرتا ہے اور کبھی بھی کسی انسان سے اس کے بدلے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ ایک رضاکار کو تو دوسروں کی مدد کر کے جو روحانی خوشی اور دلی سکون حاصل ہو تا ہے بس وہی اس کے لیے اصل ثمر ہوتا ہے۔ دراصل یہ رضاکار معاشرے کے ایسے قابل اعتماد سپاہی ہوتے ہیں جو بغیر کسی مفاد کے عوام کے حقوق کے لئے لڑتے ہیں اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی ہر ممکن حد تک کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔

رضا کاروں کا عالمی دن ہر سال 5 دسمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اور یہ دن اقوام متحدہ 1985ء سے منا رہا ہے۔ یہ دن دراصل دنیا کے تمام رضاکاروں کو علاقائی، قومی اور عالمی سطح پر معاشرے میں اپنی خدمات پیش کرنے کی مزید حوصلہ افزائی کرتاہے اس کے علاوہ معاشرے کے دیگر افراد میں بھی خدمتِ خلق کا ایک شعور بیدار کرتا ہے۔

بلوچستان میں تعلیم کے حوالے سے بے شمار مسائل ہیں جو کہ حل طلب ہیں حکومتی تعلیمی ایمرجینسی کے باوجود بھی تعلیمی عمل میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں لاجاسکی ہے. تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں. تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار تیزی کے ساتھ تنزلی کا شکار ہے اور ان اداروں سے لوگوں کا اعتماد تیزی کا ساتھ اٹھ رہاہے. اسکولوں میں ڈراپ آوٹ کی شرح بڑھ رہی ہے. ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں. اساتذہ فرائض‌کی انجام دہی سے قاصر ہیں. اسکولوں میں مانٹیرننگ کا سسٹم تباہ ہے بجٹ کے درست استعمال کا فقدان ہے اور ان اداروں کے اندر کمیونٹی کی شراکت نہ ہونے کے برابرہے اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے مسائل ہیں ۔

تمام تر مسائل اپنی جگہ، جو صورتحال سنگینی کی طرف اشارہ کرتی ہے، وہ ہے ان تمام تر مسائل کے ادارک اور ان کے حل ان پر لب کشائی وقلم کاری کا عمل ہے جو اس وقت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایک دور تھا کہ تعلیم دوست افراد کو علاقائی مسائل حکام بالا تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا تھا. مگر آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم سے جوڑے مسائل کو اپنی حکومتی اداروں ،منتخب عوامی نماہندوں ،فلاحی تنظیموں تک آسانی سے پہنچاسکتے ہیں۔

بلوچستان میں سٹیزن جرنلزم کا شعبہ تیزی کے ساتھ ترقی کررہاہے. ہمارے ہاں سوشل میڈیا میں فیس بک، وٹس ایپ، ٹیویٹر، ویڈیو بلاگز، یو ٹیوب و دیگر سوشل سائٹس کا استعمال بہت تیز ی کے ساتھ بڑھ رہاہے ان سوشل میڈیا سائٹس کو ہم تعلیمی مہم کے لیے بہترطریقے سے استعمال کرسکتے ہیں. جن سے نہ صرف تعلیمی مسائل پر بحث ومباحثے کو فروغ دیا جاسکتاہے بلکہ ان مسائل پر موبلائزیشن و ایڈوکیسی کا عمل بھی تیز کیاجاسکتاہے اور اس مہم میں بہت سارے ہم خیال تعلیم دوستوں کو اپنے ساتھ شامل کرسکتے ہیں ۔ تعلیم سے جڑے مسائل اور ان کے حل کے لیے رضاکارنہ طو رپر پرنٹ میڈیا میں مضمون نویسی ، کالم نگاری ، ایڈیٹر کو خط ، پریس ریلیز کے ذریعے بھی مہم چلائی جاسکتی ہے. جس میں مسائل کو تصویر ی کہانی کے ذریعے اجاگر کیا جاسکتاہے ، تعلیمی رضا کار دوست اپنے علاقے کے تعلیمی مسائل کو فیس بک کی لائیوویڈیو ، یا دو سے تین منٹ کی موبائل ویڈیو کے ذریعے بھی فیس بک و وٹس ایپ کی مدد سے حکام بالاتک پہنچاسکتے ہیں ۔

رضاکاریت کا عالمی دن آج پوری دنیا میں منایا جارہاہے جس کا مقصد نوجوانوں میں رضاکارانہ مثبت سرگرمیوں کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اب ہر لفظ کا کوئی نہ کوئی متضاد ہوتا ہے جیسا کہ دن کا متضاد رات، خوشی کا غمی اور اگر رضاکاروں کا متضاد حکمرانوں کو کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ایک طرف تو حاکم جس کی ذمہ داری بنتی ہے اور جن کو منتخب کرنے کا اصل مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ علاقے کی خدمت کرے اور لوگوں کے حقوق کا خاص خیال رکھے۔ لیکن وہ اتھارٹی رکھنے کے باوجود بھی ایسا نہیں کرتے، بجائے اس کے کہ انسانو ں کی خدمت کرے بلکہ وہ لوگوں کی حق تلفی کر جاتا ہے۔ اب دوسری طرف رضا کارجو بلامعاوضہ، بلامفاد اپنی طاقت اور اپنی حیثیت سے بھی زیادہ بڑھ کر لوگوں کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ ہی وہ افراد ہیں جو حقیقت میں انسان کہلانے کے حقدار ہیں بے شک انسانیت ایسے لوگوں کے دم سے ہی اب تک زندہ ہے۔ رضاکاروں کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا وہ اس لئے نہیں کہ ان کا کام بڑا معمولی سا ہوتا ہے بلکہ ان کا عمل اس قدر بڑا ہوتا ہے کہ اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔۔

دنیا میں بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس خوب پیسہ آئے گا تو وہ ضرور دوسروں کی مدد کریں گے لیکن لازمی بھی نہیں کہ مد د صرف مالی ہی ہو انسان اخلاقی طور پر بھی دوسروں کی مدد کر سکتا ہے۔ ہر انسان اپنے طور پرکسی نہ کسی طرح دوسرے کی مدد کر سکتا ہے۔ ہر انسان کو اپنے طور پر رضا کار ہونا چاہیے اسے اپنی ذات کے علاوہ جہاں تک ممکن ہوسکے دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے بھی سوچے۔

مد ر آف ٹریسا کہتی ہیں کہ ’’انسان کو ہاتھ دوسروں کی مدد کے لئے اور دل دوسروں سے محبت کے لئے دیئے گئے ہیں۔‘‘ آج دنیا میں بہت سی رضا کارانہ تنظیمیں ہیں جو واقعی انسانوں کی خدمت و مدد کر رہی ہیں۔ اور یہ دن ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی خدمت کرنے والا شخص دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔

اس سال جو رضا کاروں کا عالمی دن پوری دنیامیں منایا جارہاہے اس کی تھیم "رضا کار ،سب سے پہلے یہاں، ہرجگہ ” ہے اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی ایسے حالات میں جہاں یہ سمجھتے ہوں کہ انسانی مدد کسی بھی دوسرے کے لیے وسیلے کا سبب بن سکتی ہے وہاں افراد کو بطور رضار کار کو پہل کرنے کی ضرورت ہے. بطور تعلیمی رضار کار ہم سب پر فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی طرف سے بھرپور کوشش کریں کہ چھوٹے و بڑے پیمانے پر تعلیم کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ کریں اور ایسا ماحول فروغ دیں جس سے ہر بچہ تعلیمی زیور سے آراستہ ہوسکے.

Facebook Comments
(Visited 30 times, 1 visits today)

متعلق خلیل احمد رونجھا

خلیل احمد رونجھا
خلیل احمد رونجھو بیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کل وقتی سماجی کارکن ہیں۔ سماجی معاملات پر ہی لکھنا بھی ان کا مشغلہ ہے۔