مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "فراق”

اس ہفتے کی فلم "فراق”

ذوالفقار علی زلفی

درجنوں لاشیں پڑی ہیں ـ دو گورکن ایک اجتماعی قبر میں ان کو دفن کرنے میں جتے ہوئے ہیں ـ ٹرک آتا ہے اور مزید لاشیں لاتا ہے ـ مسلمان لاشوں کے درمیان ایک ہندو خاتون کی لاش دیکھ کر ادھیڑ عمر گورکن غصے اور نفرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ پھاؤڑا اٹھائے اس کی طرف بڑھتا ہے جب کہ نوجوان گورکن اسے پکڑ کر سمجھاتا ہے مرے ہوئے کو کیا مارناـ

درج بالا منظر سے 2008 کی ہندی فلم "فراق” کا آغاز ہوتا ہے ـ 2002 کے گجرات فسادات کے پسِ منظر میں بنائی گئی یہ فلم بظاہر پانچ کہانیوں پر مشتمل ہے جن کا پہلی نظر میں ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں مگر درحقیقت یہ یہ ان ہزاروں افراد کی داستان ہے جو ان فسادات کے باعث نفسیاتی شکست اور سماجی شناخت کے بحران سے دوچار ہوئے ، یہی چیز ان کہانیوں میں مشترک ہے ـ

رکشہ ڈرائیور حنیف (نوازالدین صدیقی) اور اس کی مہندی ڈیزائنر بیوی منیرہ (شاہانہ گوسوامی) فسادات کے دوران اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں، گھر جل چکا، خواب بکھر چکے اور زندگی ویراں ہوچکی ہے ـ منیرہ ماضی سے دامن چھڑا کر مستقبل کے فکر میں غلطاں ہے تو حنیف انتقام کے منصوبوں میں پیچاں ـ

موسیقی کے استاد جہانگیر خان (نصیرالدین شاہ) کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ سُر اور سنگیت کی چڑیا کہاں پرواز کرگئی جبکہ ان کے خادم کریم (رگھو بیر یادیو) کو اس ڈر سے نیند نہیں آتی ہندو محلے سے کب ہجوم اٹھے اور وہ کٹی پھٹی لاش کی صورت اختیار کرجائیں ـ

گھریلو خاتون آرتی (دیپتی ناول) اس احساسِ جرم سے گھٹتی جارہی ہے کہ فسادات کے دوران اس نے زندہ جلائی گئی مسلمان عورت کی مدد کی پکار کو سنی ان سنی کردیا ـ جرم کا داغ مٹانے کے لیے وہ فسادات میں یتیم ہونے والے مسلمان بچے کو اپنی ممتا سے نوازنے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری جانب اپنے مڈل کلاس شوہر سنجے (پاریش راول) سے روز پٹتی ہے ـ موقع پرست مڈل کلاس سنجے فسادات سے فائدہ اٹھاکر مسلمانوں کی دوکانیں لوٹتا ہے ـ

اپر کلاس مسلمان نوجوان سمیر شیخ (سنجے سوری) اور اس کی ہندو اہلیہ انورادھا ڈیسائی (ٹسکا چوپڑا) کا مشترکہ کاروبار فسادات کے دوران برباد ہوچکا ہے ـ سمیر شیخ شناخت کے بحران کے باعث کشمکش کا شکار ہے، بحران کی لپیٹ میں اس کا ہندو سسرال بھی آچکا ہےـ سمیر دہلی جانے کا خواہشمند ہے تانکہ وہ بڑے شہر کے بڑے مسائل کے درمیان مسلم شناخت کو چھپا سکے ـ

ماضی کی ہونہار اداکارہ نندیتا داس کی بحیثیتِ ہدایت کارہ "فراق” پہلی کاوش ہے جس کا اسکرین پلے بھی انہوں نے خود ترتیب دیا ہے ـ انہوں نے جہاں سیاسی و مذہبی تشدد کے منفی اثرات کا بھرپور فلمی جائزہ پیش کیا ہے وہاں انسانوں کی نفسیاتی شکست و ریخت، کمینگی، موقع پرستی، رحم دلی اور انتقامی جذبوں کا بھی فنکارانہ انداز سے اجمالی خاکہ پیش کیا ہے ـ

آرتی کا مسلمان یتیم بچے سے الفت انسانیت کا استعارہ ہے تو جہانگیر خان کی موسیقی کی جانب لپکتے ہندو شاگرد حقیقی انسانی معاشرے کی تشریح ـ

"فراق” بتاتا ہے متشدد ہجوم جب آمادہِ فساد ہوجائے تو انسان خود اپنا دشمن بن جاتا ہے، وہ اپنے ہی ماضی کے مزاروں کو ڈھاتا ہے جیسے گجرات فسادات نے گجرات کی شناخت ، اردو کے عظیم کلاسیک شاعر ولی دکنی کے مزار کو صفحہِ ہستی سے اس غلط شعور کے ساتھ مٹادیا کہ ولی دکنی ایک مسلمان ہے ـ

اس فلم کو بعض حلقوں نے مسلم دوست فلم کے نام سے پکارا. پہلی نظر میں یہ بات درست بھی لگتی ہے لیکن اگر گہرائی سے فلم اور اس میں پیش کئے گئے تشبیہوں و استعاروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک انسان دوست فلم بن جاتی ہے ـ جیسے ایک منظر میں جب نصیرالدین شاہ کا نوکر ان سے پوچھتا ہے "باہر ہندو مسلمانوں کو مار رہے ہیں کیا آپ کو دکھ نہیں ہوتا؟” ـ نصیرالدین شاہ سر ہلا کر کہتے ہیں "دکھ اس بات کا ہے انسان، انسان کو مار رہا ہے” ـ

آگے چل کر بظاہر موسیقی کا استاد مایوسی سے کہتا ہے "صرف سات سُروں میں یہ قابلیت کہاں جو اس نفرت کا سامنا کرسکیں” مگر بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے سُروں سے ہی نفرت کی دھکتی آگ کو بجھایا جاسکتا ہے ـ

فلم کا اختتام جھنجھوڑ دینے والا ہے جہاں فسادات سے متاثرہ افراد کے کیمپ میں یتیم بچے دنیا و مافیہا سے بے خبر، ہندو مسلم کی تفریق سے بے نیاز گولیاں کھیل رہے ہیں ـ

فلم کی سینما ٹو گرافی اس بڑے پروجیکٹ کے شایانِ شان ہے اور بیک گراؤنڈ میوزک پر بھی کافی محنت کی گئی ہے بالخصوص اختتامی میوزک دل پر اداسی کے بادل چھا دیتا ہے ـ

اداکاری کا شعبہ ہر لحاظ سے مکمل ہے ـ ہندی سینما کے ایک سے ایک نگینے منتخب کرکے قرینے سے فٹ کئے گئے ہیں جس کا سہرا بلاشبہ نندیتا داس کے سر بندھتا ہے ـ انہوں نے ہر کردار کو سوچ سمجھ کر مطلوبہ فنکار کے سپرد کیا ہے اور اس فنکار نے بھی کیمرے کے سامنے کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کیا ـ بالخصوص یتیم بچے کے کردار میں چائلڈ آرٹسٹ انعام الحق کی خالی خالی آنکھیں طبعیت بوجھل کردیتی ہیں ـ

"فراق” کو صرف گجرات ہی نہیں تشدد کے شکار ہر معاشرے پر منطبق کیا جاسکتا ہے، ہر اس معاشرے پر جہاں سات سُروں کی جگہ نفرت کی حکمرانی ہے ـ

Facebook Comments
(Visited 21 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔