مرکزی صفحہ / خصوصی حال / جب ہم نے پہلی بار ٹی وی دیکھی

جب ہم نے پہلی بار ٹی وی دیکھی

شبیر رخشانی

ویسے تو یہ روز مرہ کا مشاہدہ ہوا کرتا تھا کہ کون کیا کرتا ہے دن کو کہا ں جاتا ہے کب لوٹ آتا ہے۔ یہ ساری چیزیں تصویر کی صورت میں زہن میں نقش کرجاتی تھیں۔ پھر وہ نقل و حرکت ساکت پائے گئے۔ فوٹوز کہلائے۔ 36فلمز پر مشتعمل ریل ہوا کرتا تھا۔ جسے ڈویلپ کرنے کے لیے فوٹو اسٹوڈیوز کا رخ‌کرنا پڑتا تھا. مختلف پوز بنائے جاتے تھے۔ ساکت تصویروں سے نکل کر حرکت کرتی تصویروں‌ سے واسطہ پڑا. ٹی وی کہلایا.

پتہ چلا کہ زندگی کے رنگ فلموں میں‌ بھی دکھائے جاتے ہیں۔ پہلی بار جس فلم کا دیدار کر پایا. تصویریں‌ یاد ہیں‌ پر نام یاد نہیں‌ آیا. بس اتنا سا یاد ہے کہ ہیروئن کے پیچھے گنڈے پڑے ہوئے تھے. اچانک ہیرو نمودار ہوتا ہے زرداری کے مصداق سب پہ بھاری ہوتا ہے.. ہیروئن دیوانہ وار ہوجاتا ہے.

گاؤں‌ میں‌ پہلی بار فلم دکھانے کا اہتمام ایک غیر دیسی جوڑے نے کیا. جوڑے کا کام تعلیم و تعلم کا تھا. تھے وہ شہری، سو انہوں‌ نے شہری نظام اپنایا. پہلی بار ٹی وی سے آشنائی انہوں‌ نے دی. ایک بار جو چسکہ لگا. پھر بار بار دیکھنے کو من چاہا. فیول مہنگا تھا یا وقت کی قلت سمجھیں. فلمیں‌ تین حصوں‌ میں‌ دکھانے کا اہتمام کیے جانے لگا. یعنی فلمیں‌ تین روزہ ہوا کرتی تھیں. اگلا دن بے چینی سے اسی لمحے کا انتظار کیا کرتے تھے جس لمحے فلم دکھانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک چلتا رہا۔ پھر یہ سلسلہ بند ہوا۔ فلمی مشاہدے کا دروازہ بند ہو گیا۔ اور ہم ایک قیمتی تفریح‌ سے محروم ہوگئے. پھر وہی ریڈیو کے ذریعے کمنٹری سن کر دل کو بہلاتے تھے یا گیند اور بلا لے کر وقت گزاری کیا کرتے تھے.

مجھے یاد ہے کہ علاقائی بازار میں فلمیں‌ دکھانے کا اہتمام کیا جاتا تھا. فی ٹکٹ‌ دو روپے کا ہوا کرتا تھا. جیب خرچی بھی دو روپیہ ہوتا تھا اول تو جیب کو دیکھتے ہوئے فلم دیکھنے کی گنجائش ختم ہو جاتی تھی دوئم یہ مشہور تھا کہ فلمیں معزز گھرانے کے لوگ نہیں دیکھتے اس سے عادات و اطوار بگڑ جاتی تھیں۔ سو معیوب سمجھا جانے لگا. جیب اور معاشرتی پابندیوں‌ نے بازاری فلم سے دور رکھا. جو نوجوان فلم بینی کا شوق رکھتے تھے۔ ان کے حلیے بھی اداکاراؤں جیسے ہوتے تھے۔ایک نوجوان کو نہ جانے کس اداکار کی اداکاری راس آئی کہ اس نے گھر کی چھت سے ان ایکشن چھلانگ لگائی. سمجھا تھا وہ اپنے آپ کو ہیرو، نیچے گرتے ہی زیرو ہو گیا۔ کئی روز ہسپتال میں رہا. بعد میں‌ اس عمل سے توبہ کیا۔ راہ چلتے لوگوں کو نصیحت کرنے لگا۔

اس زمانے میں نوجوانوں کا ہیرو متھن چکروتی اور سنیل شیٹھی ہوا کرتے تھے۔ سنجے دت جیسے بال بنائے ہوئے تھے۔ مجھے بھی سنجے دت کا انداز بھا گیا. بال رکھنے کا خیال آیا. اسکول ماسٹر نے بالوں کو ایسی جھاڑ پلا دی کہ دوبارہ بڑا بال رکھنے کا سوچا بھی نہیں۔ خواہش تھا ادھورا ہی رہ گیا۔

ایک اور بات بتاتا چلوں کہ اس زمانے میں فلمیں دیکھنا باعثِ گناہ سمجھا جاتا تھا۔ جتنے بھی فلمی شوقین تھے سب گناہگار ٹھہرائے جاتے تھے۔ گاؤں میں ٹیلی ویژن شہری لوگوں کی ایجاد بنی۔ ابتدا ٹیچر نے کیا تھا۔ ایک اور وسیلہ ایک قریبی رشتہ دار بنا. تھا وہ شہری، اچانک دیہاتی بن گیا. سو ٹیلی ویژن لازم و ملزوم ٹھہرا۔ زندگی کی رونقیں ایک بار پھر سے بحال ہو گئیں۔ ایک بار پھر سے ٹی وی سے دوستی شروع ہو گئی۔ چونکہ پورے محلے میں ایک ہی ٹیلی ویژن سسٹم تھا۔ تو قریبی رشتہ دار سیلابی ریلے کی طرح اس گھر کا رخ کرنے لگے۔ پورا کمرہ انسانوں سے بھر جاتا تھا۔ بسا اوقات رشتہ داروں‌ کی سیلابی ریلے کی زد میں‌ آکر مالک مکان بچوں سمیت ٹیلی ویژن کی اس نعمت سے محروم رہ جاتے۔ یقیناً بچوں نے دل ہی دل میں بددعائیں بھی دی ہوں گی۔ پر بددعاؤں کا اثر ہم کاہلوں پر کبھی نہیں ہوا۔ جب تک رشتہ دار کے ہاں ٹیلی ویژن کا سلسلہ چلتا رہا۔ ہم اس ٹی وی سے چمٹے رہے۔

رشتہ دار تھا امیتابھ بچن کی فلموں کا دلدادہ۔ ڈش اینٹینا سے فلمیں‌ چلتی تھیں. جس روز امیتابھ کا فلم لگتا تھا اس روز ہماری چاندنی ہوتا. پورے فلم کا دیدار کر لیتے. ہم روز روز دل ہی دل میں دعا کرتے کہ امیتابھ بچن کی فلمیں چلا کریں۔ امیتابھ بچن کی جو سب سے پہلی فلم دیکھی وہ تھی ’’ خدا گواہ‘‘۔۔ اس فلم کے ڈائیلاگ اور گانے اب بھی یاد ہیں۔ ’’ تو نہ جا میرے بادشاہ ایک وعدے کے لیے ایک وعدہ توڑ کے‘‘ جب سری دیوی اسے اپنی سہاگن کی قسم دیتی ہے۔۔

پھر شہر کا رخ کیا۔ گھر، گھر میں ٹی وی تھی۔ جگہ بجلی کا نظام موجود تھا۔ فلمیں دیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں تھی۔ نہ ہی گناہ تصور کیا جاتا تھا۔ جی بھر کر فلمیں دیکھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمہ داریاں آگئیں وقت سیمیٹتا چلا گیا۔ پہلے ٹی وی نہیں‌ تھی وقت زیادہ تھا. اب وقت اہم ہو گیا. فلمیں‌ دیکھنی کم ہوگئیں۔ لیکن جو بھی تھا اچھا تھا۔ یادیں اب بھی میرے ساتھ ساتھ گردش کرتی رہتی ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani