مرکزی صفحہ / مباحث / ریاست، تہذیب و مذہب اور نظریات کی جنگ

ریاست، تہذیب و مذہب اور نظریات کی جنگ

فہد عبدالعزیز بلوچ

عوام ریاست کا ترجمان ہوتا ہے۔ عوام کا طرزِ زندگی ریاست کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ ریاست میں مذہب کا عمل دخل آج سے نہیں بلکہ پھتر کے دور اور مختلف تہذیبوں سے چلتی آ رہی ہے۔ ساؤتھ ایشیا کے لوگ دنیا میں مذہبی جذبات رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے رسم و رواج، ریاست کے معاملات اور باقی روزمرہ امور میں مذہب کا عمل دخل نمایا نظر آتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں مذہب روز مرہ زندگی کے امور پر غالب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سابقہ تاریخ ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ مذہب کا ریاستی امور میں عمل دخل آج کے دور کی چیز نہیں بلکہ یہ پہلی تہذیبوں میں رہی ہے، مصری تہذیب (Egyptian Civilisation) میں تو باقاعدہ فرعوں اپنے آپ کو انا ربکم الاعلیٰ ” میں تم سب کا بڑا رب ہوں” کہتے تھے۔ فرعون ایک لقب تھا، جس کے معانی بعض جگہوں پر آفتاب/ روشنی نظر آتا ہے۔

میسوپوٹامیا تہذیب (Mesopotamia Civilisation) میں بابلی اور سومیری (Babylonian and Sumerian) مذہبی تھے۔ اس تہذیب میں ہمورابین قوانین (Hammurabian Laws) تھے۔ بعض تاریخ دانوں کے مطابق مذکورہ بالا پہلی لکھی گئی قوانین ہیں۔ ان قوانین کی تعداد 284 سے 286 کے لگ بھگ تھی۔ جن میں سے آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک قابل ذکر ہیں۔ قرآن پاک میں بھی یہی سزائیں سورہ المائدہ کے آیت نمبر 45 میں ہے۔ تاریخ میں شعبہِ طب سے متعلق افراد کے لیے بھی سزا کا ذکر ملتا ہے، اگر دوران علاج مریض مر جاتا تو طبیب اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیھٹتا۔ بعض تاریخ دان حضرت ابراہیم علیہ سلام کی موجودگی کا ذکر میسوپوٹامیا تہذیب کے دور میں کرتے ہیں۔

یوناں کی تہذیب (Greek Civilization) میں ہر علاقے کا اپنا خدا ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ نظامِ شمسی کے سیاروں کے نام بھی یوناں کے بتوں کے ناموں پر رکھے گے ہیں۔ جب یونانیوں کی آپس میں لڑائی ہوتی، جو گروپ جیت جاتا تو وہ کہتا کہ ہمارا شہر، خدا کا شہر ہے اور ہمارا خدا حق پر ہے۔

گندھارا تہذیب (Gandhara Civilization) میں بھی مذہب کا کافی عمل دخل رہا ہے۔ گوتم بدھ (Gautam Buddha) کی تعلیمات اور بعد میں اشوک موریا (Ashoka Maurya) کی تعلیمات تہذیب کا حصہ تھے، ان تعلیمات میں انسان، درخت، چرند و پرند کو تکلیف دینا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب برما(میانمار) میں 969 تحریک والوں نے مسلمان اقلیت کو تباہی کے دہانے پہنچا دیا ہے۔ اس میں چین، انڈیا اور بنگلادیش کا معاشی مہم بھی کارفرما ہے۔

چینی تہذیب (Chinese Civilisation) میں بھی مذہب/ فلسفہ کا عمل دخل نظر آتا ہے۔ جس میں تاؤ مت (Taoism)، کنفیوشس (Confucianism) اور بدھ مت (Buddhism) کا بڑا اثر رہا ہے۔ جو عوامی جمہوریہ چین (People’s Republic of China) کے انقلاب کے بعد ختم ہوا۔ اب وہاں مذہب پر عمل کرنا نہایت ہی کھٹن ہے۔

اسرائیلی ریاست اپنی بقا (Survival) ریاست کی وسعت میں ممکن سمجھتا ہے۔ مذہب اور ریاست اسرائیل کی نظریات میں ایک چیز ہیں۔ ان کا قومی ترانہ "امید” (The Hope) ایک نظریہ رکھتا ہے۔ جس میں عظیم اسرائیل (Greater Israel) کے حصول کی بات شامل ہے۔ یہودیوں کی کتاب خروج (Exodus) اور کتاب نمبر (Number) میں مصر کی غلامی سے واپس بیت المقدس کی طرف سفر کا ذکر ہے۔ یہودی جب صحرائی سینا پہنچ گئے، اللہ کی طرف سے اُن سے وعدہ تھا کہ زمین ملے گی تو یہودی دشمن سے لڑنے سے مکر گئے، جس کے بعد یہودی قوم کو 40 سال تک اسی جگہ ٹھوکریں کھانا پڑیں۔ حضرت سلیمان علیہ سلام کی وفات کے بعد یہودی قوم نظریات گروپ اربعام اور یوربعام کی قیادت میں بٹ گئے اور آپس میں لڑائی شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں بابل شہر کے بادشاہ بخت نصر نے بیت المقدس کو انسانوں سے ویران کر دیا۔ مختصراً فرانس کے انقلاب میں یہودیوں نے اپنے گلے میں داؤد علیہ سلام (Sign of David) لٹکا کر ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ اسی نشاں کے ذریعے وہ فائدہ اٹھاتے رہے۔

یورپ کی تہذیب (European Culture) ہیلین ازم (Hellenism) کی بگڑتی ہوئی شکل ہے۔ یورپ ہر نئی چیز کو اپناتا گیا اور اب وہ ایک مصنوعی ثقافت بن گیا۔ 17 وی صدی میں مذہب سے بغاوت کی تحریک شروع ہوئی۔ اور شکی (Skeptic) کی لہر چل پڑی۔ فستانی (Fasces) گروہ 1880 کے اوائل میں اٹلی میں ایک جماعت بن گئی، جو سیکولر، عقلیت اور لبرل خیالات کو مذہبی تعلیمات کے خلاف تصور کرتے تهے اور قوم پرستی کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اسی لیے اٹلی اور جرمنی کے چانسلر ہٹلر نے چرچ سے کافی مدد لی۔

فرانس کی انقلاب میں انقلابیوں نے بادشاہ کی گردن کاٹ ( Guillotine) دیں اور مذہبی گروپس کو بھی سزائیں دینے لگے۔ کچھ سالوں کی انارکی نے انقلابیوں کو اتنا مجبور کیا کہ انہیں ایک آمر نپولین (Napoleon) کو اقتدار میں لانا پڑا، نپولین نے مذہبی ادارہ (جیسے کہ ہمارے ہاں حج اوقاف اور مذہبی امور کا ادارہ ہے) قائم کیا، اور جو امراء اور اہل کلیسا (Clergy) فرانس سے باہر پناہ لیے ہوئے تھے کو واپس بلایا اور فرانس کے ترقیاتی کام دوبارہ شروع ہوئے۔

پاکستان اور انڈیا کے اپنے قومی ہیروز ہیں۔ جنہیں اپنی اصطلاح میں مسلم نیشنلسٹ اور ہندو نیشنلسٹ کہلاتے ہیں۔ آزادی کے بعد دونوں ملُکوں میں چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ میزائلوں کے نام غزنوی اور پرتوی ( Prithviraj Chauhan) سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ انڈیا کی بعض فلمیں پاکستان کے خلاف اور پاکستان کی فلمیں انڈیا کے خلاف بنتے ہیں۔ انڈیا کی اکثر فلمیں جمعہ کے دن ریلیز ہوتی ہیں۔ انڈیا کی فلموں میں ایک نظریہ ہوتا ہے۔ ہر چیز کو بنانے یا دکھانے میں کوئی مقصد ہوتا ہے۔

انڈیا میں اب بھی یہودیوں کے سکول ہیں، جن کو ہندو قوم پرست اپنے مذہب کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کی گرلز سکول (Jewish Girl School) جو ابھی تک کولکتہ میں چل رہی ہے، کو انڈیا کی قوم پرست پارٹیز کی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ گھر واپسی تحریک (Ghar Wapasi) اقلیت کو مذہب تبدیل کرنے کا ایک قدم ہے۔ جس پر کبھی کبھار اقلیتوں کی طرف سے ردِ عمل آتا رہتا ہے۔ بے جی پی (BJP)، آر ایس ایس، شیو سینا اس وقت انڈیا کو ایک مذہبی ریاست بنانے میں لگے ہیں۔ انڈیا کو مذہبی ریاست بنانے میں امریکہ کی خواہش ہے، کیونکہ بالی (Bali) میں ہندو برادری رہتے ہیں۔ اس خطے میں مسائل شروع ہو گئے ہیں۔ اِس علاقے میں انڈیا امریکہ کا اتحادی ہے۔

یورپی یونین (Europe Union) آج بھی اگر ٹوٹ جائے، تو پورے یورپ میں زمین اور مذہبی تعلیمات پر جنگ شروع ہو گی۔ ڈارون (Darwinism) کے نظریہ بقا (Survival of Fittest) بھی مہذب قوم اور غیر مہذب قوم کے اردگرد گھومتی ہے۔ جس میں برطانیہ اپنے قابض ریاستوں کو مہذب بنانے کا ڈنڈورا پیٹتا تھا۔ برطانیہ میں انگلش دفاع لیگ (English Defense League) بھی ہر واقعے کا بدلہ اقلیت سے لیتا ہے۔ نیشل فرنٹ (National Front) فرانس میں ہجرت کے مخالف (Anti-migration) اور اقلیت کے خلاف ہے۔ صرف ریاست میں نسل کی بڑوتری کو چاہتے ہیں۔ برطانیہ روایتی طور پر سیکولر ریاست ہے، لیکن اقتدار کے لیے عیسائی اینگلیکن چرچ (Anglican) سے تعلق ہونا لازمی ہے۔ دنیا میں مذہب، ریاست کا ایک حصّہ رہا ہے اور رہے گا۔

سرد جنگ میں جمہوری ریاستوں نے عیسائی اور مسلم نظریات کو بھائی بھائی کا لبادہ پہنا کر اشتراکیت سے لڑے۔ لیکن اُس کے بعد اسلام کے خلاف آستینے چڑھانے لگے۔ جو اب تک جاری ہے۔ روس میں بھی مذہب سے بغاوت کیا گیا، سرد جنگ کے بعد روس میں مذہب کی طرف رجحان دوبارہ شروع ہوا۔ اب تو ٹرمپ اور پیوٹن 19th صدی جیسا متبرک معائدہ (Holy Alliance) شروع کر چکے ہیں۔ جس میں عیسائی مذہب کی تشہیر ہے۔

حتیٰ کہ امریکہ بھی سیکولر ریاست ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے لیے عیسائی ہونا بنیادی شرط ہے۔ امریکہ میں 1500 سے زائد ٹی وی اسٹیشنز ہیں، ان میں سے 83 عیسائی تعلیمات کی تشہیر کرتے ہیں۔ اب ٹرمپ کی پالسیز کے تحت اقلیتوں کو نکالنے کا باقاعدہ مہم شروع ہوا ہے۔

پاکستان میں لیاقت علی خان کو نظریات کی مخالفت کی وجہ سے شہید کیا گیا۔ اس دور میں نظریاتی تدیلیاں آ رہی تھیں، بعض تاریخی حقائق سے نشادئی ہوتی ہے کہ شہادت میں امریکہ کا ہاتھ تھا۔ جو روس کو بدنام کرنے کی سعی کر رہا تھا۔ جنرل ایوب خان نے پاکستان میں سیکولر تبدیلیاں لانا شروع کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی معاشرتی تبدیلی لانا شروع کر دیئے۔ لیکن مذہب کو الگ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ پھر جنرل ضیا الحق نے مذہبی تبدیلیاں لانا شروع کر دیئے ان پالسیز میں امریکہ کا واضح عمل دخل تھا۔ نواز شریف اپنے پہلے اور دوسرے دورِ حکومت میں مذہب کو آلہ بناتا رہا ہے، سنی تحریک کے ساتھ روابط بھی رکھے تھے، لیکن جنرل مشرف کے دور میں پاکستان میں لبرل کلچر کی پرچار ہوتی رہی، اب تو مشرف بھی اپنے نام کے ساتھ سید کا اضافہ کرتا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی ٹیکسٹ بکس میں تبدیلی لانا چاہتے تھے، جس کا ذکر اکثر مجالس میں کرتے تھے اور اخبارات کی زیت بھی بنتے تھے۔ اپنی تیسری دورِ حکومت میں نواز شریف پاکستان میں کافی تبدیلیاں لانے کا خواہش رکھتے تھے، اقلیتی برادری کے مذہبی تہواروں میں شرکت بھی کرنے لگے تھے۔ لیکن آئینی تبدیلی کی وجہ سے پارٹی بدنام ہوئی اور 22,21 دنوں تک تحریک لبیک والوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔

آج کی دنیا میں مذہب ہر ملُک کی بنیاد ہے۔ لیکن اس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا، بنیادی حقوق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ آج کی دنیا میں ہر ملُک نظریات کی دفاع میں مصروف ہے، اور یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اُس کے نظریات پر بلا چوں چرا عمل کیا جائے۔

Facebook Comments
(Visited 31 times, 1 visits today)

متعلق فہد عبدالعزیز بلوچ

فہد عبدالعزیز بلوچ
fahadazizbaloch@yahoo.com