مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / میں نہیں ناچوں گا!
Px07-025 DERAALLAHYAR: Dec07 - People celebrating Sindhi Topi Ajrak Day, in Dera Allah Yar. ONLINE PHOTO by Fida Hussain

میں نہیں ناچوں گا!

محمد خان داؤد

میں نہیں ناچوں گا۔ میں ڈھول اور شہنائیوں کی تھاپ پر کیسے رقص کر سکتا ہوں؟
جب کہ میں ایک غلام قوم کا ایک غلام فرد ہوں!
جب میری سماعت پر یہ گیت بار گراں کی طرح گرے گا کہ
،،جئے سندھ جئے سندھ وارا جئن
ٹوپی اجرک وارا جئین!،،

تو میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ جنہوں نے مجھے یہ گیت بارِ گراں کی طرح دیا ہے. ان لوگوں میں آزادی کے خواب دکھا کر میری ساری قوم کو مجرم بنا دیا ہے۔اور اب جس بھی بچے کی میکھیں بھیگتی ہیں۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ
،،ھانے اسان کھے گھرجے
آزاد وطن!،،
پر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ ،،کیسے؟!،،

اور وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے خالی ہاتھوں، وہاں چلنی کرتا ہے۔ جس کے لیے لطیف نے لکھا تھا کہ
،،گھوڑے اور دُلہا کم جیتے ہیں
کبھی صحرا میں بھاگتے رہتے ہیں
کبھی قید و بند میں ہوتے ہیں!،،

ہاں میں اُن سروں پر نہیں ناچنا چاہتا ۔جوُ سر بہت ہی بےُ سرے ہیں۔ جو سُر کرائے کے ڈھول پیٹنے سے نکلتے ہیں۔ جو سُر وہ اُس بانسری سے نکلتے ہیں جو بانسری نواز سرکار کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس کا کب علاج کرایا جائے گا۔
میں ان اداس، بیمار سُروں پر کیسے ناچوں؟!

ہاں میں نہیں ناچوں گا۔ اگر میں ناچنا چاہوں بھی تو نہیں ناچ سکتا کیونکہ میں جانتا ہوں وہ جس نے یہ کلچر ڈے متعارف کرایا وہ کون ہے؟ اس کی اپنی حقیقت کیا ہے؟ یہ دن کیوں کر منایا جا رہا ہے؟ اس دن کس کو کتنا فائدہ ہو رہا ہے؟ اس دن کون لوگ اپنی سیاست کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اور پھر ٹشو کی طرح پھنیک دیتے ہیں!

ہاں میں نہیں ناچ سکتا۔ میں اداس روڈوں پر نہیں نکل سکتا۔ میں شام کو پریس کلب پر اس شازیہ خشک کو بھی ناچتے نہیں دیکھ سکتا جو اب بہت تیزی سے بوڑھی ہورہی ہے۔ اور میک اپ بھی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہا!

میں کیسے ناچوں اُس ٹوپی کے لیے جو جن کے سروں پر ہے۔ وہ اپنی زندگی چھپڑا ہوٹلوں کی نظر کر رہے ہیں۔ آدھے سگریٹ اور ایک کپ چائے پر پورا دن ہوٹل کی نظر ہو جاتا ہے۔ معصوم بچیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اپنی بیویاں چھوڑ کر لڑکوں کے پیچھے دیوانے ہوتے ہیں۔ اور جب ان سے ایسا کوئی جرم ہو جاتا ہے۔ تو پھر جیلوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں وہ یہ ٹوپیاں سینا سیکھتے ہیں۔ اور میں وہ ٹوپی پہن کر ناچتا پھروں!

ہاں میں نہیں ناچوں گا! کیوں کہ میں سندھ کو جانتا ہوں۔ میں ان لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو سندھ میں رہتے ہیں۔ میں کیسے ناچوں جب کہ میں یہ جانتا ہوں کہ گذشتہ تیرا سالوں سے سندھ کی بیٹی فضیلہ سرکی اغوا ہے۔ اور اس کی ماں اس کا پتا پوچھ پوچھ کر اندھی ہو چکی ہے!

ہاں میں نہیں ناچوں گا! کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ سندھ میں لڑکیاں دوستیاں نہ رکھنے کی وجہ سے کا ری کی جاتی ہیں۔ اور ان کی لاشیں سوکھی نہروں میں ملتی ہیں۔ یا پانی کے بہتے داروں میں ! جب انہیں ایسے بہتے کوئی حساس ادیب دیکھ لیتا ہے تو
،،چھتیسواں در!،، جیسے افسانے جنم لیتے ہیں.

ہاں میں نہیں ناچوں گا جب جہل کی بنیاد پر سندھ میں قبیلائی جھگڑوں کی نظر میں‌ کئی جانیں ہوجائیں.

میں کیسے ناچ سکتا ہوں جب کہ میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ سندھ میں وڈیروں نے اسکولوں کو اوتاک میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور تعلیم بال نوچ ماتم کر رہی ہے!
میں کیسے نا چ سکتا ہوں جب کہ میں یہ جانتا ہوں کہ تھر میں روز بیس بچے ہلاک ہورہے ہوں اور ان کی ماؤں کی چھاتیاں دودھ سے خالی اور آنکھیں آنسوں سے تر ہوں اور روز ان کے سامنے ان کے بچوں کی نئی نئی قبریں بن رہی ہوں۔وہ بھی صحرا میں!
تو
ماں
قبر
اور صحرا
کا درد کون جانے؟!

میں کیسے ناچ سکتا ہوں۔جب کہ میں جانتا ہوں کہ یہ سُر میرے لیے نہیں۔ یہ گیت میرے لیے نہیں۔ میں ایک غلام ابن غلام ابن غلان ہوں اور غلام قوم کا فرد ہوں۔ میری ساری قوم کو مجرم بنادیا گیا ہے۔ وہ نہتے ہیں اور ان کا سامنا ان لوگوں کے ساتھ ہے جو نہتے نہیں ہیں.

میں کیسے ناچ سکتا ہوں جب ایک بیٹی کی اداس لاش کسی سوکھی نہر سے لائی جاتی ہے۔ اس کے جسم پر بارود سے سوراخ کیے ہوتے ہیں۔ اور اس کا جسم تار تار ہوتا ہے۔اور ایک ماں روتی چیختی ہوئی اس کے جسم پر ایک اجرک ڈال دیتی ہے۔ جب اس کی لاش چار کاندھوں پر اُٹھائی جاتی ہے تو وہ اجرک اس لاش پر سے ڈول جاتی ہے۔ اور سوالیہ نشان (؟) بن جاتی ہے
تو کیا میں پھر بھی ناچوں؟
جب کہ آج سندھ کی گلیوں میں یہ گیت چل رہا ہے
،،جئے سندھ جئے سندھ وارا جئین
ٹوپی اجرک وارا جئین!!!،،،

Facebook Comments
(Visited 29 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com