مرکزی صفحہ / حال حوال / خان شہید عبدالصمد خان کی سیاسی او ادبی خدمات

خان شہید عبدالصمد خان کی سیاسی او ادبی خدمات

جنت گل ملاخیل

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے بانی خان عبدالصمد خان شہید کی 44 ویں برسی 2 دسمبر کو صادق شہید گراونڈ کوئٹہ میں منائی جائے گی جس میں پارٹی کے تمام مرکزی رہنما اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف بھی شرکت کریں‌گے.
پشتونخوا وطن تحریک آزادی پاک وہند کے ملی سپہ سالار بابا پشتون سیاسی رہنما خان عبدالصمد خان 1907 میں گلستان کےایک مذہبی اور صاحب علم خاندان میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے لیے مدرسے میں داخل ہوئے. ابھی آٹھویں جماعت میں تھے کہ تحریک خلافت کی حمایت اور افغانستان کے خلاف انگریز سامراج کی سازشوں کے خلاف گلستان کے سکول میں طلبا کے ایک جلوس کی قیادت کی اسی طرح انہوں نے اس خطے میں سیاسی تحریک کی ابتداء کی. سیاسی جدوجہد کے ذریعے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کا پختہ ارادہ کیا.

خان شہید دنیا کی ان عظیم ہستیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے مظلوم عوام کے علاوہ دنیا بھر کے مظلوم عوام کو جبر وستم سے چھٹکارا دلانے کے لئےجدوجہد کی. افغانستان کو اپنے زیر تسلط لانے کے لئے غازی امان اللہ کے خلاف انگریزوں کے فتوے صادر ہوئے. انگریزوں کے خلاف خان عبدالصمد خان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ غازی امان اللہ خان کی مدد کے لیے جانے کی تیاری کی انگریز سرکار نے انہیں 12 ساتھیوں سمیت کوئٹہ میں 28 دن تک نظر بند کیا کوئٹہ میں پہلی گرفتاری کے بعد دسمبر 1929 میں لاہور میں منعقد سالانہ گانگریس میں شرکت کی. وہاں مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی کوئٹہ پہنچتے ہی سنڈیمن ہال سے انگریز سرکار نے گرفتار کیا ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لاہور میں سیاسی جلسوں میں شرکت کی اور وہاں سے سیاسی لڑیچر ساتھ لائے. سرکاری جرگے نے 2 سال قید کی سزا سنائی.

ایک سال بعد گاندھی جی اور وائسرائے ہند کے معاہدے کے تحت تمام سیاسی قیدی رہا کیے بعد میں کانگریس کے تمام رہنما گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن روانہ ہوئے اور صمد خان بمبئ چلے گئے.

خان شہید نے ہمیشہ پشتون، بلوچ اورمظلوم اقوام کی مسائل اور اصلاحات سے متعلق ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھائی. جیکب آباد سندھ میں بلوچستان اینڈ آل انڈیا بلوچ پشتون کانفرنس منعقد کی جس کی صدارت عبدالصمد خان نے کی جس میں ملک بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس کانفرنس میں صوبوں کے حوالے سے مختلف قرارداد پیش کی گئی.

انہوں نے پشتون قوم میں سیاسی شعور پیداکرنے کے لیے دن رات محنت کی تو دوسری طرف مادری زبان پشتو کے لئے بے پناہ خدمت کی. صمد خان بابا نے مختلف دینی سیاسی شخصیت کی کتابوں کا پشتو میں ترجمہ کیا جس میں شیخ سعدی کا شہرہ آفاق کتاب گلستان کا مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ترجمان القرآن جو کہ اردو کا مشہور کتابوں میں سے خان بابا بے عالمانہ انداز میں پشتو میں ترجمہ کیا اور امام غزالی کی کتاب کیمائے سعادت شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی کے ساتھ انگریزی کتابوں میں چارلٹ اور ڈائسن کی تالیف Future of Freedom کا بھی پشتو میں ترجمہ کیا.

خان بابا نے تراجم کے علاوہ پشتو ادب کو صمد اللغات ( صمد خان قاموس ) میں اصل اور خالص الفاظ جمع کیا اس کے علاوہ زمازوند کتاب اور پشتو زبہ لیکدو کے نام سے بھی علمی اور ادبی کارنامے سر انجام دی ہے.

انہوں نے انجمن وطن، پشونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور دوسرے سماجی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے اپنی بے لوث خدمات اور قربانیوں کے بل بوتے پر لوگوں کے دلوں میں مقام پیدا کیا حقوق و آزادی کے حصول کی خاطر اپنی تقریباً نصف زندگی مختلف جیلوں میں گزاری. جہنوں نے صحافت سیاست کو بلوچستان میں سائنسی بنیادوں پر متعارف کرایا پشتونوں میں احساس دالاتے ہوئے نئی راہ ہموار کی. وہ جام شہادت نوش کرنے کے بعد ہمارے لئے روشنی کا منبع ہیں.

Facebook Comments
(Visited 21 times, 1 visits today)

متعلق جنت گل ملاخیل

جنت گل ملاخیل
جنت گل کوئٹہ کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ سیاسی، سماجی، اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔