مرکزی صفحہ / خصوصی حال / گوادر پورٹ، بلوچستان کا معاشی حب ؟!

گوادر پورٹ، بلوچستان کا معاشی حب ؟!

ظریف بلوچ

گوادر بلوچستان کا جنوبی ساحلی شہر ہے اور تین اطراف سمندر میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ ایک جزیرہ نما شہر ہے۔ گوادر بلوچستان کا ساحلی شہر ہونے کے ساتھ سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے بھی کہلاتا ہے۔

گوادر کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 2002 میں گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ گوادر پورٹ دنیا کی ایک گہری بندرگاہ ہے جو کہ اپنی افادیت اور اہمیت کی وجہ سے سینٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ گوادر پورٹ نہ صرف معاشی حوالے سے اہم ہے بلکہ عسکری حوالے سے بھی گوادر پورٹ کی اہمیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گوادر کا گہرا سمندر جو کہ بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے ایک آبی گزرگاہ بھی ہے۔گوادر کو ملک اور بین الاقوامی دنیا سے ملانے کے لیے سی پیک کا منصوبہ بھی عمل میں‌ آ چکا ہے جسے مقتدر حلقے ملکی معیشیت کے لیے ایک سنگ میل سمجھتے ہیں۔ سی پیک منصوبے کے تحت چھیالیس بلین ڈالرز کے میگا پروجیکٹس کے منصوبے ہیں اور ان منصوبوں سے روزگار کے لاکھوں ذرائع پیدا ہوں گے۔

گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ اور ریلوے لائن کے منصوبے بھی اس میگا پروجیکٹس کے لیے مختص کر دیے گئے۔ گوادر پورٹ سے کئی اور منصوبے بھی علاقے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے شروع کیے جائیں گے جو ملکی اور بلوچستان کے عوام کی ترقی اور خوش حالی کے نئے دور کا آغاز ہوں گے۔

گوادر جو کہ سی پیک کا مرکز ہے، گوادر پورٹ کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے گوادر پورٹ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ مکران کا پہلا بڑا پورٹ ہے، اس سے مکران اور پورے صوبے کو صنعت کے حوالے سے فروغ ملے گا اور کئی صنعتی منصوبے شروع ہوں گے۔ اس سے نہ صرف صوبے کی معشیت میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقے میں بے روزگاری میں کمی ہوگی اور جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ علاقے میں ترقی اور خوش حالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ سے شہر اور ضلع کی معیشت میں اضافہ ہوگا اور اس سے گوادر میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ میں ملازمت کے حوالے سے مقامی لوگوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی ہدایات اور مقامی آبادی کے تعاون سے گوادر پورٹ تیز رفتار ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈر اور متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر گوادر کو پاکستان اور جنوبی ایشیا کا معاشی حب بنایا جائے گا۔

گوادر کے سماجی رہنما میر ابوبکر دشتی کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان اور گوادر میں ترقی اور خوش حالی کا دور شروع ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی کے ثمرات سے فائدہ مقامی لوگوں کو ملنا چاہیے اور یہاں کی بزنس کمیونٹی کو اس سے استفادہ کرنا ہوگا۔

مقامی صحافی غلام یاسین بزنجو گوادر پورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ گوادر پورٹ ایک اہم بندرگاہ ہے۔ دنیا میں اس وقت وہی ملک یا خطے خود کفیل سمجھے جاتے ہیں جو کہ اپنے پورٹ اور سمندری راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ گوادر پورٹ بلوچستان کے پسماندہ علاقے میں موجود ہے، جس سے نہ صرف ہمیں اس سے استفادہ کا موقع ملے گا ، بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ہماری مدد سے اپنے تجارتی ساز و سامان دنیا بھر میں پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔ ان کے مطابق سی پیک کوئی عام روٹ نہیں ہے بلکہ سی پیک کے ساتھ انرجی سیکٹر سمیت بہت سارے دیگر پروجیکٹس شامل ہیں جس سے نہ صرف ہماری نوجوان نسل برسرروزگار ہو گی بلکہ اس سے نئے ذرائع معیشت پیدا ہوں گے۔

چیئرمین گوادر پورٹ دوستین جمالدینی نے کہا کہ گوادر پورٹ سی پیک کا اہم جزو ہے اور اس سے بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ اور سی پیک سے بلوچستان کی پسماندگی اور روزگار کی کمی کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گوادر پورٹ بلوچستان کی ترقی اور خوش حالی کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ان کے مطابق
گوادر پورٹ کو دنیا سے ملانے کے لیے سی پیک روٹ کے ساتھ ساتھ گوادر میں انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر کام ہو رہا ہے جب کہ ریلوے نظام کے ذریعے گوادر کو دنیا کے دیگر ممالک سے ملایا جائے گا۔

اس حوالے سے دوستین جمالدینی کہتے ہیں کہ روڈ اور ریلوے نظام سے گوادر پورٹ کو نہ صرف ملک بلکہ ہمسایہ ممالک سے ملایا جا رہا ہے جس سے علاقے میں معاشی استحکام آئے گا اور روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوادر پورٹ کی وجہ سے مکران کے تین شہر اکنامک سینٹر ہوں گے۔ گوادر، پسنی اور تربت اکنامک سینٹر میں منتقل ہوں گے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت شارٹ ٹو مڈم ٹرم سٹی پلان تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا گوادر پورٹ سے سیاسی، سماجی اور معاشی حوالے سے مقامی لوگ مستفید ہوں گے۔

Facebook Comments
(Visited 39 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔