مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ماں کے سینے میں موجود قبر کب خشک ہوگی؟!

ماں کے سینے میں موجود قبر کب خشک ہوگی؟!

محمد خان داؤد

اب پھر اس تیمور کو لے آؤ پریس کلب پر جواپنے گٹار کی تار بجائے اس شاہ زیب کے لیے جسے ایک وڈیرے کے بیٹے نے اپنی بندوق سے کئی گولیاں مار کے قتل کر دیا تھا۔اور اس کی وہ لاش کئی گھنٹے تک اس روڈ پر پڑی ہوئی تھی۔ جس روڈ پر دن کو صفائی کا عملہ اور رات کو وہ پولیس والے موجود ہوتے ہیں جو ان روڑوں پر بہت مزے سے مہ پیتے ہیں۔ اور انہیں کوئی نہیں پوچھتا کیونکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان دادس سڑکوں پر کون گزرے گا۔اور اگر گزرتی ہین تو وہ گاڑیاں جن کے اندر وہ صاحیبان بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی ڈرائیور کا نام نہیں جانتے۔انہیں یہ خبر نہیں ہوتی کہ جو چوکیدار ان کے بڑے گھر کے در پر موجود ہے اس کا نام کیا ہے؟

وہ ڈرائیور کو ڈرائیور! اور چوکیدار کو چوکیدار بس کہتے نہیں پر سمجھتے بھی ہیں۔ وہ یہ زحمت ہی نہیں کرتے کہ ان کا چوکیدار غلام رسول ہے یا اسداللہ!
ان کا ڈرائیور رحیم بخش ہے یا ناصر!

اُس رات بھی وہ اس خالی سڑک پر وڈیرے کے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ وڈیرا بھی وہ جو بہت مال دار اور با رعب شخص ہے۔ اگر سوشل میڈیا نہیں ہوتا۔ اگر تیمور کے گٹار میں وہ دم نہیں ہوتا جو ہے تو وہ وڈیرے کا بیٹا کبھی گرفتار ہی نہیں ہوتا۔

وہ تو گولیاں چلا کر ملک سے بھی فرار ہو چکا تھا۔ پر سوشل میڈیا کے بعد وہ تیمور ہی تھا جس کے گٹار کی تار اسے وہاں سے لے آئی پر یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ وڈیرے کا بیٹا وہاں سے کسی مجرم کی طرح نہیں پر کسی محرم کی طرح واپس لوٹا تھا۔

اور دوسری طرف وہ شاہ زیب اپنے جسم پر گولیاں کھا کر پرانے قبرستان میں ایک نئی قبر کا اضافہ کر گیا۔ پر وہ قبریں دو تھیں۔ ایک گزری کے قبرستان میں۔ ایک ماں کے دل میں!

پر جب وڈیرے کا بیٹا شاہ رخ تیمور کی تاروں کی زد میں آیا۔ تیمور شاہ زیب کے لیے کراچی کی سول سوسائیٹی کے ساتھ مل کر گا رہا تھا کہ
،،مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں، مگر آرزو ہے کہ جب قضا
مجھے بزمِ دہر سے لے چلے
تو پھر ایک بار یہ ازن دے
کہ لحد سے لوٹ کے آسکوں
تیرے در پہ آکے صدا کروں
تجھے غم گسار کی ہو طلب،تو ترے حضور میں آ رہوں
یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں!،،

جب تیمور اپنے گٹار کی تاروں سے شاہ زیب کے لیے فیض کا کلام پریس کلب پر گاتے تھے. تو وہ لحد سے لوٹ آتے تھے۔ اور اپنا سر اس ماں کی گود میں رکھ کر اس احتجاج کا حصہ بنتے تھے۔ جو ماں اپنے سینے میں ایک قبر سجائے اس احتجاج کا حصہ بنتی تھی۔ اور اس کی آنکھوں سے اشک رواں ہوتے تھے۔ شاہ زیب اپنے ہاتھوں سے اپنی ماں کے آنسو خشک کرتے تھے۔ اور اپنی امی کے ساتھ سنتے تھے، تیمور کے چھڑے سروں کو

مجھے معجزوں پہ یقیں نہیں ،مگر آرزو ہے کہ جب قضا!

اس احتجاج کو دیکھ کر ایک ماں کے دل کو اگر زیادہ نہیں تو اتنا قرار تو ضرور آتا ہوگا جتنا قرار اس شاہ رخ جتوئی کو قتل کرنے کے بعد آیا تھا کہ کچھ بھی ہو اور وہ چھوٹ جائے گا کیوں کہ وہ ایک وڈیرے کا بیٹا تھا،اور اس کے پاس بہت سے نوکر اور بہت سے پیسے تھے،،
اتنے پیسے جتنے کسی غریب کے پاس درد ہوتے ہیں جن دردوں کے لیے بھٹائی نے لکھا تھا کہ
،،دردن دسی آھیان
دردن کھے تون دس!،،
،،دردوں نے پچھاڑا ہے،کوئی تو دردوں کو بھی پچھاڑے!،،

شاہ رخ جتوئی نے شاہ زیب جتوئی کو ایسے قتل کیا تھا۔ جیسے وڈیرے اپنے کتوں کے ساتھ کچے میں شکار کرتے ہیں۔ اور اپنے بندوقوں سے کتوں کو مارتے ہیں۔ بلکل اسی طرح شاہ رخ جتوئی نے اپنی بندوق سے شاہ زیب کا قتک کیا۔

شاہ رخ جتوئی تو وڈیرا ہے اور وڈیرے کا بیٹا ہے۔ پر کیا شاہ زیب کوئی کتا تھا؟!!!
جب شاہ رخ جتوئی سوشل میڈیا، سول سوسائٹی کے دباؤ اور تیمور کے گٹار کی تاروں سے واپس لائے گئے جب سے ایک باپ نے اسے بچانے کی بہت کوشش کی ہے۔ کبھی اسے بچہ ڈکلیرڈ کیا جاتا ہے۔ پھر اس کا میڈیکل کیا جاتا ہے۔ اس کے دان دیکھے جاتے ہیں جن میں وہ جوان ظاہر ہو جاتا ہے۔ کبھی وہ بیماری کا بہانہ کر کے کئی کئی ماہ اسپتال میں داخل ہوجاتا ہے جہاں اسے گھر جیسے مزے ملتے ہیں۔ جہاں پر وہ اپنا سوشل اکاؤنٹ بھی استعمال کرتا رہتا ہے۔ مکڈونلڈ کے برگر کھاتا ہے۔ میوزک سنتا ہے۔ خوشبوئیں خوشبوؤں سے بھرا واٹر ٹب استعمال کرتا ہے جس میں وہ پورا پورا دن رہتا ہے۔ اپنے دوستوں کو فون کرتا ہے۔ اور جب اس کے دوست اس سے پوچھتے ہیں کیسا چل رہا ہے تو وہ ہنس کر کہتا ہے
،،بہت مزا ہے یار بس سوچ رہا ہوں ایک دو اور کو ٹپکا دوں!،،

اور پھر بے شرمی سے ہنستا ہے۔ اور قانون کا منہ کالا ہو جاتا ہے قانون کی کتابیں خود کشی کرنے کا سوچتی ہیں۔اور کالے کوٹ شرم سے سفید ہوجاتے ہیں اور سارا جھوٹ ان کالے کوٹوں میں چھپ جاتا ہے۔ اور جو جتنا جھوٹا ہوتا ہے اسے وہ وڈیرا اپنے بیٹے کے لیے ہائیر کر لیتا ہے۔

اور بہت دور وہ سُر جو تیمور نے اپنے گٹار سے نکالے تھے۔ وہ سُر نوحہ بن جاتے ہیں۔ ماتم کرنے لگتے ہیں۔ وہ قبر تو وہیں رہتی ہے. جو گزری کے قبرستان میں موجود ہے۔ پر وہ قبر جو ایک ماں کے سینے میں ہے ۔وہ ماں محسوس کرتی ہے کہ شاہ زیب کو ابھی ابھی اس قبر میں دفن کیا گیا ہے۔

قانون ،انصاف ہار گئے۔ تیمور کے سُر ہار گئے۔ فیض کے الفاظ لُٹ گئے. غربت ہار گئی۔ ایک ماں کے آنسو ہار گئے۔ ناحق قتل ہار گیا۔ب ہنوں کی محبت ہار گئی۔سول سوسائٹی کے ساتھ اجتمائی ریپ ہوگیا۔ اور وڈیرا جیت گیا۔ وڈیرے کا بیٹا جیت گیا۔ دبدبہ جیت گیا۔ اثر و رسوخ کی فتح ہوئی۔ تعلقات جیت گئے۔ اور وہ بہت سے پیسے جیت گئے. جو ہوں تو عزت ہوتی ہے۔ اور اگر نہ ہوں تو خواری!

شاہ رخ جتوئی کے باپ نے آخر اپنے بیٹے کو اس پھندے سے بچا لیا جو اس کی گردن کو بس کسنے ہی ولا تھا۔ پر وہ پھندا شاہ رخ جتوئی کی گرن کو کیسے کسے، اس کی گردن کا تو ناپ ہی نہیں ہوا۔ اور ناپ بھی کیسے ہو جب ایک قاتل کے پاس بہت سے پیسے ہوں۔ وہ جیل میں بھی ایسے رہے جیسے جنت میں رہ رہا ہو۔ اور ایک غریب اپنے گھر میں بھی ایسے رہتا ہے کہ وہ جہنم میں رہ رہا ہوں تو پیسے کیوں نہ جیتیں۔اور ایک ماں کیوں نہ ہارے!

شاہ زیب مرنے کے بعد روز اپنی ماں کے خواب میں آتا تھا۔ اور ماں کے آنسو پونچھتا تھا۔ اسے دلاسہ دیتا تھا۔ اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر سو جاتا تھا۔ پر جب سے پیسہ جیتا ہے۔ ایک قاتل کے باپ نے ایک مقتول کے باپ پر مہربانی کی ہے اسے گاڑی، بنگلہ، پلاٹ اور بہت کچھ دیا ہے تو اب وہ شاہ زیب اپنی ماں کے خوابوں میں نہیں آئے گا!

وہ قبر بہت تیزی سے سوکھ رہی ہے۔ اس پر ڈالنے والی وہ گلاب کی پتیاں بھی بھڑتی سردی میں سوکھ جائیں گی۔ پر وہ قبر کیسے سوکھے گی جو ایک ماں کے سینے میں ہے جو روز تیار کی جاتی ہے جہاں روز ایک لاش لائی جاتی ہے جہاں روز ماتم ہوتا ہے جہاں روز اس لاش کو دفنایا جاتا ہے۔ وہ قبر کب سوکھے گی؟!
ایک ماں اپنے جوان بیٹے کو کب بھول پائے گی؟

یہ سوال ایسے ہیں جن کو کسی روپیوں میں نہیں توڑا جاسکتا!
تیمور اب پریس کلب سے اُٹھ جاؤ!
اے سول سوسائٹی اپنے گھر کو چلو
سودا ہوگیا !اور بہت سستا ہوا ہے
فیض کے الفاظ کو کتابوں میں رہنے دو
،،مجھے معجزوں پر یقین نہیں،مگر آرزو ہے کہ جب قضا
مجھے بزم دہر سے لے چلے
تو پھر ایک بار یہ ازن دے
کہ لحد سے لوٹ کہ آسکوں
ترے در پہ آکے صدا کروں
تجھے غم گسار کی ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں
یہ نہ ہو تو سوئے رہ عدم میں پھر ایک بار روانہ ہوں،،

Facebook Comments
(Visited 19 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com