مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / ڈاکٹر شاہ محمد مری کے نام!

ڈاکٹر شاہ محمد مری کے نام!

محمد خان داؤد

وہ تحریر جو اس کے دل پر لکھی ہوئی ہے
میں چاہتا ہوں کہ
وہ تحریر اُس ادبی بیٹھک نماں کلینک کے
در پر بھی لکھ دی جائے کہ
،،دَرِ درویشاں دربان نا باشہ!،،
،،در ویش کے در پر
پہریدار نہیں ہوتے!،،
وہ درویش
جو ایک سیاسی کارکن تھا
اور اب ایک عالم ہے
ایسا عالم جس کے لیے
ایاز نے لکھا تھا کہ
،،اھیو تہ خدا ئی جانے،تہ رنگین م چھو نہ جایاسین
ٹڑیاسین دامن صحرا میں،خوشبو ئی اجائی وئی!،،
کیا ڈاکٹر شاہ محمد مری کے علم کی خوشبو
بیکار جا رہی ہے؟!!!
وہ خوشبو جس نے زندگی کی باسٹھ بہاریں دیکھ لی ہیں
اور تریسٹھ کتابیں لکھ ڈالی ہیں
وہ خوشبو جو
دیکھنے!
سوچنے!
کہنے!
لکھنے!
اور لوچنے(فکر مند) رہنے کی خوشبو ہے
اور اس کے پاس اس خوشبو کے سوا کیا ہے؟!
درازوں میں پڑی میڈیکل رپورٹ
دواؤں کے نسخے!
بہت سے کاغذ
اور ان لکھی کتابیں
جو اس کے ذہن میں تیرتی ہیں
ڈوبتی ہیں
کسی معصوم بچے کی طرح
اگر میں اس ادبی بیٹھک نما کلینک پر یہ نہیں لکھ سکتا کہ
،،دَرِ درویشاں دربان نا باشہ!،،
،،درویشوں کے در پر
پہریدار نہیں ہوتے!،،
تو یہ تو لکھ سکتا ہوں نہ کہ
،،باشد کہ سگِ دنیا نہ آیہ!،،
اس لیے ہوتے ہیں کہ
دنیا کا کوئی کتا اندر نہ آ سکے!،،
اے آخری بلوچ مفکر
جلدی سے وہ کتابیں لکھ لو
جو ذہن کے سمندر میں
ایسے ڈوب رہی ہیں
جیسے وہ شامی بچہ ایلیان!
جو ترکی کے سمندر میں ڈوب گیا تھا
اور ساحل پر ایسے نمودرا ہوا تھا
جس کے لیے بھٹائی نے لکھا تھا کہ
،،اگھے پوء مرن
مر د مرن ماگھ تے!
متھے پوء پریانء
خون منھنجو جیڈیون!،،
کم بولنے اور زیادہ لکھنے والے
بلوچ دانشور ان ڈوبتی کتابوں کو بچا لو!!!
جو آپ کے ذہن کے ساحل میں دوب رہی ہیں
ہم تو وہ قوم ہیں جو کتابوں کو سمندر بُرد کرتے ہیں
تو ڈوبتی کتابوں کو کون بچائے گا
شامی ایلیان کی طرح!!!
دلیل سے بات کرنے والے
ڈاکٹر شاہ محمد مری
وہ تحریر اب دل سے مٹا کر
ادبی بیٹھک نماں کلینک کے در پر لکھ ڈالو
،،دَرِ درویشاں دربان نا باشہ!،،

Facebook Comments
(Visited 30 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com