مرکزی صفحہ / حال حوال / ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (3)

ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (3)

انٹرویو: رانا محمد آصف
عکاسی: شاہ رُخ خان


* جب ’’اسپارٹیکس‘‘ نے کامریڈ کی جان بچائی!

ہمارا خیال ہے کہ قلم میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ کراچی میں کمیونسٹوں کا ایک بڑا لیڈر تھا اعزاز نذیر۔ میں کراچی گیا تو کسی دوست نے کہا کہ اس سے ملنے چلتے ہیں۔ ہم جب ملے تو وہ بیمار تھا۔ تعارف ہوا، بات چیت ہونے لگی، اس نے پوچھا کہ آپ نے کیا نام بتایا تھا۔ میں نام دہرا دیا۔ پھر پوچھا کہ آپ کیا لکھتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ خود تو نہیں لکھتا ترجمے کرتا ہوں۔ پوچھا کیا ترجمہ کیا ہے تو میں نے سپارٹیکس کا نام بتایا۔ وہ بھاری بھرکم جسامت والا بیمار آدمی یک دم کھڑا ہوگیا اور کہا آپ مجھ سے گلے ملیں۔ پھر اس نے بتانا شروع کیا ’’ میں ٹریڈ یونین والا ہوں، اسی سلسلے میں روہڑی کی بیڑی کارخانے والوں کے پاس میں گیا۔ اس زمانے میں روس ٹوٹ چکا تھا۔ میں نے ساری زندگی کمیونزم میں گزاری تھی اس لیے یہی سوچتا تھا کہ زندگی تو ضایع گئی اور اب کس کس سے منہ چھپاتا پھروں میرے لیے تو غیرت کا مسئلہ تھا۔ میں نے خود کُشی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بس پر بیٹھا واپس کراچی آرہا تھا، اسٹاپ پر اخبار اور کتابوں کے اسٹال سے مجھے سپارٹیکس نظر آیا۔ یہ ناول پڑھتا ہوا میں کراچی آگیا اور جب کتاب ختم کی تو میں نے خود کُشی کا ارادہ ترک کردیا۔ اس لیے میں تم سے گلے ملا ہوں کہ یہ میری زندگی تم نے لوٹائی ہے۔‘‘ میرا کیا کمال ہے، اس مصنف نے اگر کسی اعزاز نذیر کی چار دن کی زندگی بھی بچائی ہے تو بڑی بات ہے۔ یہ اس طرح کا ناول ہے۔

*بے برکتی

’’ایک زمانہ تھا کہ ہمیں کتابیں ملتی نہیں تھیں۔ اب تو انٹر نیٹ نے بہت آسانی کردی ہے۔ آپ کا حلقہ ہی دس پندرہ آدمیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ رابطے کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ اب بہت کچھ آسان ہوگیا لیکن معاملہ یہ ہوگیا کہ ہمارے ایک گوجراں والا کے دوست خلیج میں ہوتے تھے، وہاں سے لوٹے تو کچھ دوستوں کے ساتھ ان سے ملنے گئے۔ انہوں نے دوستوں کو بیئر کی بوتلیں تحفے میں دیں، ان کے پاس بڑی بوتلوں کے کریٹ تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ اکیلے ہی پیتے ہیں تو بڑی بوتلیں کیوں رکھتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ بحرین میں ہمارے کچھ بلوچ دوست ہیں، میں ان کے پاس چھوٹی بوتلیں لے کر گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مت لایا کریں اس میں برکت نہیں ہوتی(قہقہہ) ان آسانیوں نے برکت کو رخصت کردیا۔ حُسن میں برکت نہیں ہے، تفریح میں نہیں ہے حتیٰ کہ دشمنی میں برکت نہیں ہے۔ ’’آئی لو یو‘‘ بولا بات شروع ہوگئی اور ’’آئی ہیٹ یو‘‘ بولا تو بات ختم۔
کتابوں میں تو ایک زمانے میں جان ہوا کرتی تھی۔ اب تحریر بے برکت ہوگئی۔ اس تحریر کی تو خیر ہے، آسمانی تحریروں کا کیا اثر رہا۔ لوگ ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں۔ پھر بدھا کے قصے ہیں۔ میں تو کبھی اس سے متاثر نہیں رہا۔ مگر بدھ کے ماننے والے اپنی جوں مارنے کو بھی قتل تصور کرتے ہیں، اتنے پُرامن لوگ ہیں۔ لیکن اب وہ کیا کررہے ہیں۔ بہت سی باتیں تو چلو پاکستانی میڈیا کرتا ہے لیکن آپس میں یہ لوگ لڑ پڑے ہیں۔ جو کسی کیڑ ے کو مارنا جرم سمجھتے تھے وہ مہاتما بدھ کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں۔ ہر چیز کی تاثیر ختم ہوتی جارہی ہے، اب دوستی کے وہ معنی نہیں رہے۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں تن آسان بنا دیا، ہر چیز ’’ایزی پیسہ‘‘ ہوگئی۔ ہمارا خیال ہے کہ انقلاب بھی ’’ایزی پیسہ‘‘ کی طرح خود بخود آئے گا، ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔

*ٹیکنالوجی نے کیا کیا؟

’’یہ آسانی ہمارے علم اور شعور کو بڑھاتی اس کے بجائے اس نے ہمارے معاشرے کے فیبرک کو اڑا کر رکھ دیا۔ ہماری سوسائٹی کے جو نارمز ہوا کرتے تھے وہ تو گئے نا۔ یا تو اس ٹیکنالوجی کے ساتھ سوسائٹی بھی وہی ہوتی جیسی امریکا اور یورپ کی ہے، پھر تو ٹھیک ہوتا۔ سوسائٹی آپ کی خانہ بدوشوں اور بھیڑ پال ہے۔ ہمارے علاقوں ایک دل چسپ چیز دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارے چرواہے پگڑی پہنتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹی سولر پینل مل جاتے ہیں وہ اس نے پگڑی پر رکھے ہوئے ہیں، اس سے موبائل چارج ہوتا رہتا ہے اور وہ مال بکریاں چراتے ہوئے میوزک سنتا رہتا ہے۔ سولر پینل کی وجہ سے چارجنگ بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کسی اور مقصد کے لیے بنی تھی اور ہم اس کا کچھ اور استعمال کررہے ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ عرب بہار اسی کے ذریعے آئی۔ عرب اسپرنگ انتہائی واہیات چیز تھی۔ صدام یا قذافی کی حکومتیں اچھی تھیں یا بری مستحکم تو تھیں۔ ان کو ختم کردیا گیا اور اس کی جگہ انارکی نے لے لی۔ کہیں آپ نے سنا ہے کہ یہ سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کوئی انقلاب لایا ہے۔ ’’اسپرنگ‘‘ اور انارکی لایا ہے، کوئی اچھی چیز نہیں لایا۔ اس لیے کہ دیکھنا ہوگا کہ استعمال کرنے والا کون ہے۔ ہماری زندگی کے معمولات کا تعین ہم خود نہیں کرتے یہ بہت بڑے سرمائے والے کرتے ہیں،وہی یہ ٹیکنالوجی لے کر آئے ہیں۔ میرا بھائی گاؤں سے آیا تو پہلے دن اس نے کہا کہ تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، تم میں محبت ختم ہوگئی ہے۔ ہم نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے کہا کہ تم سب ٹی وی دیکھتے رہتے ہو اور آپس میں بات نہیں کرتے۔ وہ جب آٹھ دس دن ہمارے ساتھ رہا تو میں نے دیکھا کہ وہ بھی ٹی وی دیکھ رہا تھا ،باتیں نہیں کررہا تھا۔ گھر چھوٹا ہو یا بڑا ،اب یہ موبائل اور ٹی وی کی وجہ سے لوگ آپس میں بات نہیں کرتے۔ بامقصد زندگی کہاں رہی۔ پھر یہ شیطان کا چرغہ اس لیے ہے کہ رنگین ہے۔ ہمارا ایک آدمی تھا، لینن اور ایک اس کا استاد تھا پلیخانوف۔ پلیخانوف بہت بڑا لکھنے والا تھا۔ لینن نے ایک دفعہ اس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پلیخانوف آپ اپنے مطالعے کے کمرے سے باہر نکلو، دنیا بہت رنگین ہے۔ سو سارے رنگ اس چھوٹی سی اسکرین میں جمع ہوگئے ہیں۔ جب یہ چھوٹی سی چیز انسان کی ہر ضرورت اور ایپیٹائٹ پورا کررہی ہے تو پھر معاشرے کا کیا ہوگا۔‘‘
………………………
ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (1)
ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (2)

یہ انٹرویو روزنامہ 92 نیوز کے 27 نومبر 2017 کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا. حال حوال میں اس کی اشاعت رانا محمد آصف کے خصوصی تعاون سے ممکن ہوئی. حال حوال اس کے لیے ادارہ اور انٹرویو نگار دونوں‌کا شکرگزار ہے.

Facebook Comments
(Visited 81 times, 1 visits today)

متعلق رانا محمد آصف

رانا محمد آصف
کراچی میں مقیم رانا محمد آصف کل وقتی صحافی ہیں۔ فیچر نگاری اور اسپیشل رپورٹنگ ان کی دلچسپی کے خاص شعبے ہیں۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز سے بہ طور رپورٹر وابستہ ہیں۔