مرکزی صفحہ / حال حوال / ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (1)

ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (1)

انٹرویو: رانا محمد آصف
عکاسی: شاہ رُخ خان

کوئٹہ کی شامیں سرد ہونا شروع ہو چکی تھیں اور ہم فاطمہ جناح روڈ پر مری لیب میں میز کے سامنے بیٹھے تھے، جس پر کاغذات پھیلے ہوئے تھے۔ سامنے کرسی پر ریڈنگ گلاس لگائے صاحب تشریف فرما تھے جن کی دائیں جانب لگے ہوئے کمپیوٹرز پر کمپوزر کام میں مصروف تھے تو بائیں جانب لیب سے بار بار انہیں کوئی رپورٹ تھمائی جاتی، جس پر وہ دستخط کرتے تو کبھی کوئی نسخہ تحریر کرتے۔ ٹیسٹ رپورٹس اور کتابوں کے مسودے جس طرح اس میز پر حرکت میں رہتے ہیں ایسا شاید ہی کہیں اور ہوتا ہو۔ جسم کے روگ اور سماج کے امراض دور کرنے میں ہمہ وقت مصروف اس شخصیت کا نام ہے ؛ڈاکٹر شاہ محمد مری، جو بلوچستان میں علم و آگاہی اور نظریاتی جدوجہد کی علامت تصور ہوتے ہیں۔

شاہ محمد مری 23 نومبر 1954 کو بلوچستان کے ضلعے کوہلو کے ایک علاقے ’’ماوند‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حاجی محمد مراد خود تو تعلیم حاصل نہیں کرسکے لیکن اس کی اہمیت سے واقف تھے اور اسی لیے وہ اپنے لوگوں کو اس زیور سے آراستہ کرنے کے لیے مصروف عمل رہے، شاہ محمد مری کو یہ جذبہ والد ہی سے ورثے میں ملا۔ ڈاکٹر مری نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں مکمل کی اس کے بعد مڈل کی تعلیم بارکھان اور میٹرک کے لیے لورالائی کی تحصیل دکی کا رُخ کیا۔ 1979 میں بولان میڈیکل کالج کوئٹہ سے ایم بی بی ایس کی سند حاصل کی۔ ابتدائی دور میں مذہبی تعلیم بھی حاصل کی اور درس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ ’’بلوچ اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ ان کی سیاسی سفر کا نقطہ آغاز تھا۔ بعد ازاں ’’سوشلسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘‘ میں شامل ہوئے اور ملکی سطح پر اس کے جنرل سیکریٹری بھی رہے۔ ’’پاکستان پروگریسو اسٹوڈنٹس الائنس‘‘ کی تشکیل ہوئی تو احتجاجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی۔ ضیاالحق کے دور میں مارشل لا کے خلاف بھی سرگرم رہے اور دوسری جانب افغانستان میں آنے والے انقلاب کا دفاع بھی جاری رکھا، حالات ساز گار نہ تھے اس لیے سرگرمیاں خفیہ طور پر جاری رہیں۔ کئی کوششوں کے باوجود انھیں گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ اس کے بعد وہ سی آر اسلم کی ’’پاکستان سوشلسٹ پارٹی‘‘ سے منسلک ہوگئے۔ ان کی ادارت میں نکلنے والے ’’عوامی جمہوریہ‘‘ کے لیے مضامین لکھے۔ 1990 میں پنجاب یونیورسٹی سے پیتھالوجی میں ایم فل کیا اور بولان میڈیکل کالج میں تدریس کا آغاز کیا۔

شاہ محمد مری نے 1975 کے بعد تراجم کا سلسلہ شروع کیا، پہلا ترجمہ کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو کے طویل انٹرویو کا کیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چلا کہ کئی اہم کتابیں ڈاکٹر مری کے طفیل اردو روپ میں ڈھلیں اور بلوچی کے دامن کو بھی اس سے بہت وسعت ملی۔ بلوچ قوم ، تاریخ، زبان، سیاست اور ثقافت ان کی تصنیفی سرگرمیوں کا خاص محور ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ترجمہ و تالیف دونوں میدانوں میں گراں قدر کام کیا۔ معروف روسی اسکالر پیکولین کی کتاب’’بلوچ‘‘ کا اردو میں ترجمہ کیا۔ کارل مارکس پر لکھی جانے والی والکوف کی کتاب ’’برتھ آف اے جینیس‘‘ کا ترجمہ ’’نیست پیغمبر‘‘ کے نام سے کیا۔ 1986 میں ’’بلوچ قوم‘‘ تین جلدوں میں شایع ہوئی۔ فکشن میں بھی تراجم کیے،’’ اسپارٹیکس‘‘ تو ان کا محبوب ترین ناول ہے، ہاروڈ فاسٹ کے ایک ناول ’’سٹیزن ٹام پین‘‘ کا بھی ترجمہ کیا۔ اسی طرح افغانستان کے بلوچ ادیب عبدالستار پُردلی کے ناول کا ’’گندم کی روٹی‘‘ ، افغانستان کے معروف انقلابی کی کتاب’’اباسین پر سحر ہوتی ہے‘‘ اور نور محمد ترہ کئی کے ناول کا ’’پہاڑوں کا بیٹا‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا۔ شاہ محمد مری ’’عشاق کے قافلے‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ بھی شروع کیے ہوئے ہیں جس میں مختلف ادوار میں طبقاتی جدوجہد سے منسلک مختلف شخصیات پر کتابیں شایع کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں شاہ عنایت، ماوزے تنگ، شاہ عبداللطیف بھٹائی، مستیں توکلی سمیت کئی شخصیات پر کتابیں شایع ہوچکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

عرصہ بیس برس سے وہ ماہنامہ’’ سنگت ‘‘شایع کررہے ہیں۔ تصنیف و تالیف اور ادبی خدمات کی یہ محض ایک جھلک ہے، ان کی ہمہ جہت شخصیت کو بیان کرنے کے لیے نوجوان صحافی اور ادیب عابد میر، ڈاکٹر شاہ محمد مری کی شخصیت اور خدمات پر کتاب مرتب کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری سے گفتگو ایک دلچسپ تجربے سے کم نہیں۔ وہ ایک استاد، ایک مارکسسٹ اور ایک بلوچ ہیں، قصہ گوئی کا فن اس لیے بہت خوب جانتے ہیں۔ انہیں بوریت سے سخت چڑ ہے ،اس لیے اپنے تحریر کے اسلوب اور گفتگو میں وہ اسے راستہ نہیں دیتے، ان سے ہونے والی نشست کے احوال سے ممکن ہے کہ قارئین کو بھی اس کا اندازہ ہوجائے۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (2)
ڈاکٹر شاہ محمد مری سے مکالمہ (3)

Facebook Comments
(Visited 103 times, 1 visits today)

متعلق رانا محمد آصف

رانا محمد آصف
کراچی میں مقیم رانا محمد آصف کل وقتی صحافی ہیں۔ فیچر نگاری اور اسپیشل رپورٹنگ ان کی دلچسپی کے خاص شعبے ہیں۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز سے بہ طور رپورٹر وابستہ ہیں۔