مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "نیوٹن”

اس ہفتے کی فلم "نیوٹن”

ذوالفقار علی زلفی

2017 کی ہندی فلم "نیوٹن” دنیا کی سب سے بڑی "جمہوریت” اور آدی واسیوں کی زندگی کے درمیان موجود تضاد کے گرد گھومتی ہے ـ یہ سرمایہ دارانہ انتخابات کے پیچھے چھپے معاشی عدم مساوات اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی عکاسی ہے ـاس میں بلیک کامیڈی کا فنکارانہ استعمال کرکے سماجی مساوات، لبرل ازم، سیکولر ازم اور جمہوریت جیسے خوشنما اصطلاحات کے ذریعے نچلے طبقے کے استحصال کے ایک پہلو کو فنی چابک دستی کے ساتھ دکھایا گیا ہے ـ

نیوٹن (راجکمار راؤ) ایک آئیڈیل اسٹک نوجوان ہے جو زندگی کا ہر کام ترتیب اور ایمانداری سے کرنا چاہتا ہے ـ کالج سے فراغت کے بعد وہ انتخابی عملے میں بھرتی ہوکر بطورِ پریزیڈنگ آفیسر چھتیس گڑھ پہنچتا ہے ـ مسلح ماؤاسٹ انقلابیوں کے اس گڑھ میں انتخابات کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ـ ایک طرف انقلابیوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، دوسری طرف بنیادی سہولیات سے محروم اور پولیس گردی کے شکار عوام کو دہلی میں جاری سیاسی کشمکش سے کوئی دلچسپی نہیں اور تیسری جانب ریاست کو نہ ووٹر کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی انتخابات کی بلکہ اس کا مطمعِ نظر صرف دنیا کو "جمہوری” صورت دکھانا ہے ـ

نیوٹن تنہا نہیں ہوتا اس کی ٹیم میں باتونی اور دلچسپ ادھیڑ عمر شخص لوک ناتھ (رگھوبیر یادو) اور مقامی اسکول ٹیچر ملکو (انجلی پٹیل) بھی ہیں جن کے آپسی مکالموں میں بھارتی سماج بالخصوص چھتیس گڑھ کے معاشرے میں موجود تضادات کی گہرائیوں سے آشنائی ملتی ہے ـ نیوٹن جلد ہی وہاں موجود پولیس افسر آتما سنگھ (پنکج ترپاٹھی) کے ساتھ ایک پیچیدہ مخاصمانہ تعلق قائم کرلیتا ہے ـ اسی تعلق کے دوش پر فلم آگے بڑھتی ہے اور انتخابات و جمہوریت کے پردے کے پیچھے چھپی پولیس گردی بےنقاب ہوکر جبر، وحشت اور استحصال کی ننگی تلوار بن جاتی ہے ـ

ہدایت کار امیت وی مسورکر نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ موضوع کو فلم کے قالب میں ڈھالتے ڈھالتے حقیقت کا سرا ہاتھ سے نہ چھوٹے ـ سماجی و سیاسی موضوعات کو فلمی صورت دینے کے دوران ایسی غلطیاں عموماً ہوجاتی ہیں جس کی وجہ انٹرٹینمنٹ اور مارکیٹ کے احمقانہ مطالبات کے دباؤ ہیں مگر ہدایت کار نے انٹرٹینمنٹ کو بلیک کامیڈی بناکر مارکیٹ کو طاق میں رکھ کر موضوع کو فن اور سیاسی شعور کے مرکب میں ایسا گھول دیا ہے کہ اس سے ایک شاہکار برآمد ہوا ہے ـ فلم کا ٹیمپو نہ سست ہے اور نہ ہی تیز، یہ اعتدال کے ساتھ رواں ہے ـ اس کریڈٹ کا ایک حصہ یقیناً اس کے بظاہر منتشر اسکرین پلے کو بھی جاتا یے جسے بڑی احتیاط کے ساتھ کچھ ایسا مرتکز کیا گیا ہے کہ وحدتِ تاثر اختتام تک قائم رہتا یے ـ

فلم ، سینما ٹو گرافی اور ایڈیٹنگ کے شعبے میں بھی بہترین ہے تاہم چند ایک مقامات پر ایڈیٹنگ کے جھول شاید باریک بین فلم بین پر گراں گزریں مگر مجموعی طور پر تکنیک کو قاعدے سے استعمال کیا گیا ہے ـ

اداکاری کا شعبہ بلاتردد سراہے جانے کے قابل ہے ـ راجکمار راؤ نے عظیم طبیعات دان آئزک نیوٹن کے استعارے کو مجاز کی سطح سے بلند کرکے حقیقت کی اوج تک پہنچادیا ہے ـ ان کی اداکاری پر 80 کی دہائی کے متوازی سینما کے بڑے فنکاروں نصیرالدین شاہ، اوم پوری، کلبھوشن کھربندا اور امول پالیکر کی گہری چھاپ نظر آتی ہے ـ انجلی پٹیل، رگھوبیر یادو اور پنکج ترپاٹھی کے ساتھ ساتھ سنجے مشرا بھی مختصر مگر مضبوط کردار کے ساتھ نظر آتے ہیں ـ

میرے نزدیک نکسلاہٹ تحریک کے پسِ منظر میں بنائی گئی فلموں میں "چکر ویو” کے بعد "نیوٹن” وہ دوسری فلم ہے جس میں حقائق کو بلا کم و کاست فنی چابکدستی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ـ سنجیدہ اور بامقصد خصوصاً سیاسی و سماجی فلموں کے شائقین کے لئے "نیوٹن” ایک فکر انگیز کتاب ہے ـ اس کا مطالعہ کیجئے اور دنیا کو کسی اور زاویے سے دیکھنے کی کوشش کیجئے ـ

Facebook Comments
(Visited 47 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔