مرکزی صفحہ / حال حوال / اسٹیج ڈرامہ آرٹسٹ قاضی وحید سے مکالمہ

اسٹیج ڈرامہ آرٹسٹ قاضی وحید سے مکالمہ

غلام یاسین بزنجو

پسنی کو بلوچستان کا لکھنئو اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ ادیب ، شاعر اور لسانیت پسند ہیں۔ اس شہر کی ایک اور پہچان یہاں آباد فنکاروں‌کی اس قبیل سے ہے جو وقتا فوقتا تھیٹر ڈرامے منعقد کرتے رہتے ہیں. فنکاروں‌ میں قاضی وحید کا نام بھی آتا ہے. فنکاری کے ساتھ ساتھ وہ فلموں‌میں‌ ڈائریکشن کا کام کرتے ہیں۔ یہ نوے کی دہائی تھی جب قاضی وحید نےفن کی دنیا میں‌قدم رکھا. اور تھیٹر ڈراموں‌میں‌دھوم مچا رکھا تھا. انہیں بچپن سے ہی فن ، فنکاری اور اسٹیج ڈرامہ سے لگاو تھا ۔ انہوں نے تھیٹر ڈراموں میں کام اس وقت شروع کیا جب بلوچستان خاص کر مکران زون میں‌فلم میکنگ کا کام شروع نہیں‌ ہوا تھا اور فلم ، ٹی وی ڈرامے بلوچستان میں بہت محدود پیمانے پر دیکھے جاتے تھے. چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہ اسٹیج شو کیا کرتے تھے.

وہ کہتے ہیں‌ "تفریحی مواقع کی کمی اور فلم و ڈراموں‌ تک دسترس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسٹیج ڈرامہ کے لیے سال بھر کا انتظار کر لیتے تھے۔”

وحید نے اسٹیج ڈراموں‌ میں‌کام کا آغاز 1992 کو کیا. فن کے سفر میں‌اب تک پانچ بہترین ڈرامے کر چکے ہیں. جو دستاویزی سی ڈی کی شکل میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ جبکہ ساوڈ کے نام سے ایک فلم بھی بنا چکے ہیں. فلم میں بلوچی ثقافت کے مختلف رنگ شامل کیے گئے ہیں ۔

قاضی وحید کہتے ہیں "ہماری کوشش ہے کہ ناظرین کو تھیٹر ڈراموں‌سے نہ صرف تفریحی مواقع فراہم کریں. بلکہ انہی اسٹیج ڈراموں‌کے ذریعے کہانی کا مقصد لوگوں‌ تک پہنچانے میں‌آسانی ہو..

بلوچستان کے نامور فنکار انور صاحب خان، قاضی وحید کی فنکاری سے کافی مطمئن نظر آتے ہیں.. "قاضی وحید میں بہت ٹیلنٹ ہے ۔ قاضی موضوع دیکھ کر ڈائیلاگ بناتا ہے. ہم نے ایک ساتھ مل کر ایک اسٹیج ڈرامہ "شکر ورنا” پرفارم کیا تھا. وحید نے ڈرامے میں‌ اداکاری کے بہترین جوہر دکھا کر اپنے آپ کو منوایا”۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیج ڈرامہ فلم سے زیادہ مشکل ہے. فلم میکنگ میں کیمرے کی مدد سے شاٹ کاٹ لیے جاسکتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں اسٹیج شو عوام کے سامنے براہ راست ہو رہے ہوتے ہیں۔

وہ طنزومزاح کے ماہر جانے جاتے ہیں وہ لوگوں کی خیالات کو پڑھ کر اسی طرح کا شو پیش کرتے ہیں۔ وہ اب تک آدینک ، جندا سنبھال ، تاسے آپ ، بوجیگ نگہبان اللّہ ، ہم شام ، ویڈیو فلم ساوڈ ، اور شکر ورنا کا شو کر چکے ہیں۔ فلم ساوڈ میں قاضی وحید نے بلوچستان کے ساحلی علاقے کے لوگوں کی حالات زندگی اور ماہی گیروں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے. یہ فلم کی نمائش بلوچستان اور خلیجی ممالک بحرین ، عمان ، متحدہ عرب امارات میں کی گئی.. فلم کافی مقبول ہوا اور اسے سراہا گیا. ادارہ لوک ورثہ و محکمہ ثقافت بلوچستان نے 2016 کو فلم ساوڈ کو ایوارڈ سے نوازا.

قاضی وحید کی فنکاری میں‌ کئی رنگ نمایاں‌ ہیں. وہ اپنی فن کے ذریعے ناظرین کو ہنسانے کے ساتھ ساتھ زندگی کی بعض پہلوؤں‌کو نمایاں‌کرنے کی کوشش کرتے ہیں‌.

Facebook Comments
(Visited 48 times, 1 visits today)

متعلق غلام یاسین بزنجو

غلام یاسین بزنجو
غلام یاسین بزنجو گذشتہ بارہ برس سے صحافت سے منسلک ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی، سماجی مسائل پہ مختلف اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔ اس وقت روزنامہ بولان اور ایک خبررساں ادارے سے منسلک ہیں۔ پسنی پریس کلب کے ممبر ہیں۔ Email: yaseenghulam771@gmail.com