مرکزی صفحہ / بلاگ / طلبا کی بحالی، جمہوری جدوجہد کی فتح

طلبا کی بحالی، جمہوری جدوجہد کی فتح

برکت اللہ بلوچ

ایک طویل اور صبرآزما جدوجہد کے بعد بالآخر قائداعظم یونیورسٹی سے بے دخل کیے گئے طلبا کو بحالی نصیب ہوئی۔

طلبا کی بحالی کا نوٹیفکیشن گزشتہ روز وفاقی وزیرانجینئر بلیغ الرحمان نے سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی کے حوالے کیا۔ اس موقع پر قائداعظم یونیورسٹی کے وی سی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

بعدازاں انھوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور طلبا کو بحالی کی نوید سنائی، نیز بھوک ہڑتال پر بیٹھے صدام اور نوروز بلوچ کو جوس پلا کر بھوک ہڑتال ختم کرا دی۔

طلبا کی بحالی یقیناَ ایک تاریخی واقعہ ہے جسے ایک غیر معمولی اور مثالی واقعہ کے طورپر برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس جدوجہد میں بلوچ طلبا کے علاوہ دیگر قومیتوں خصوصا پشتون طلبا نے بھرپور ساتھ دیا۔ پشتون طلبا نہ صرف اس پوری جدوجہد میں بلوچ طلبا کے شانہ بشانہ رہے ہیں بلکہ وہ بلوچ طلبا کے ساتھ 23 اکتوبر2017ء کو اسلام آباد کی پولیس گردی کا شکار بھی ہوئے۔ انہوں‌نے خندہ پیشانی سے پولیس تشدد کا سامنا کیا اور 70 دیگر طلبا کے ساتھ گرفتار بھی ہوئے۔

پشتون طلبا کی اس یکجہتی اور ثابت قدمی سے بلوچستان کے طلبا کے مابین یکجہتی کا بے نظیر منظر بھی سامنے آیا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے بے دخل کیے گئے طلبا کی بحالی میں بلوچستان کی سیاسی قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا جس میں نیشنل پارٹی کے سنیٹر کبیر محمد شہی،ب ی این پی کےسنیٹر جہانزیب جمالدینی نمایاں تھے، جنھوں نے سینیٹ کے فورم کو طلبا کی بحالی کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کیا اور دیگر پارٹی کے سنیٹرز کو اپنا ہمنوا بنا کر نہ صرف واک آؤٹ کرنے پر مجبور کیا بلکہ خود بھی بھوک ہڑتالی کیمپ اور طلبا کی احتجاجی ریلیوں میں ان کے شانہ بشانہ رہے۔

بی این پی کے سربراہ اختر مینگل اور سابق سنیٹر ثنا بلوچ نے بھی طلبا کے حق میں بھرپور آواز اٹھائی اور ثنا بلوچ اس معاملے کو صدرِ مملکت ممنون حسین کے پاس بھی لے گئے تھے۔ اس اہم ملاقات کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر طلبا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کرنے پر بھی مجبور ہوگئے تھے۔ وائس چانسلر کے دورہ سے طلبا کی بحالی کے امکانات روشن ہوگئے تھے۔ اور بالآخر نو نومبر کو طلبا کی بحالی کا سورج طلوع ہوا۔

قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کی بحالی یقیننآ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس واقعہ نے نہ صرف بلوچستان کے طلبا کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ایک لازوال مثال قائم کی بلکہ جمہوری جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ طلبا بحالی کی جدوجہد نے ثابت کیا کہ جمہوری اور سیاسی جدوجہد کا دورانیہ چاہے کتنا ہھی طویل ہو لیکن اختتام حق و سچ کی فتح کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔

طلبا بحالی کی جدوجہد میں سوشل میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بلوچستان بھر کے طلبا نے سوشل میڈیا کے ذریعے طلبا کی بحالی کے لیے بھرپور مہم چلائی۔گوادر سے لے کر لاہور تک کے طلبا، طلبا کی بحالی کی جدوجہد میں میدان میں آئے۔گوادر کے نواحی علاقہ گھٹی ڈور کےمڈل اسکول کی طالبات سے لے کر کراچی اور پنجاب یونیورسٹی کے طلبا و طالبات تک سب اس جدوجہد میں میدانِ عمل میں نظر آئے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کی بحالی کے لیے مختلف علاقوں سے تسلسل کے ساتھ ریلیوں کا انعقاد کیا گیا اور مظاہرے کیے گئے۔ قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کی بحالی سے نہ صرف جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کو سرفرازی ملی ہے بلکہ بلوچستان کے طلبا کو اس کامیابی سے ایک نیا عزم، حوصلہ اور ایک نئی قوت ملی ہے۔

اس کامیابی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یکجہتی اور اتحاد سے ہی بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 36 times, 1 visits today)

متعلق برکت اللہ بلوچ

برکت اللہ بلوچ
برکت اللہ بلوچ گوادر یوتھ فورم کے سربراہ ہیں نہ صرف گوادر کے نوجوانوں لیے اس فورم پر آواز بلند کرتے ہیں ان کے مسائل پر قلم کشائی بھی کرتے ہیں۔